پاکستان کے اکثر سیاستدانوں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ اپوزیشن کا کردار تو بہت اچھی طرح ادا کرتے ہیں لیکن انہی سیاستدانوں میں یہ خامی بھی پائی جاتی ہے کہ وہ جب حکومت میں آتے ہیں تو ناکام ہو جاتے ہیں۔ حکومت میں آ کر یہ صرف عوام کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی دھوکہ دینے لگتے ہیں۔ یہ مت سمجھئے گا کہ میرا اشارہ عمران خان کی طرف ہے۔ میرا اشارہ تو نواز شریف اور آصف زرداری کی طرف ہے۔ یہ دونوں جب حکومت میں تھے تو عدلیہ سے لڑے جا رہے تھے۔ آصف زرداری صاحب نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی میں اپنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی چھٹی کروا لی۔ نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں عدلیہ کے لئے لوہے کا چنا بننے کی کوشش کی اور خلائی مخلوق کو بھی خوب للکارا۔ سوشل میڈیا سیل کے ذریعہ ریاستی اداروں کے ساتھ گالم گلوچ بھی کی لیکن جب سے نواز شریف جیل گئے ہیں اور آصف زرداری کو جیل میں پھینکنے سے ڈرایا جا رہا تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے عدلیہ سے محاذ آرائی کے بجائے صرف اور صرف عمران خان کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا ہے۔ اگست 2018ء میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بہت کوشش کی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر عمران خان کو وزیراعظم بننے سے روکیں لیکن نواز شریف اور آصف زرداری کو یقین تھا کہ عمران خان کا سب سے بہترین علاج یہ ہے کہ انہیں وزیراعظم بننے دیا جائے کیونکہ وہ اپوزیشن تو بہت اچھی کر سکتے ہیں لیکن حکومت میں آ کر اُن کا حشر وہی ہو گا جونواز شریف اور آصف زرداری کا ہوا۔ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان بڑے پُر اعتماد تھے ہمیں یاد ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ ہمیں کہتے تھے کہ صرف تین ماہ دے دو۔ تین ماہ کے بعد آپ کو تبدیلی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ تین ماہ میں وہ کچھ نہ کر سکے حالانکہ نواز شریف جیل میں تھے اور آصف زرداری عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے۔ پھر عمران خان نے چھ ماہ مانگنا شروع کر دیئے۔ خیال تھا کہ وہ چھ ماہ آرام سے نکال لیں گے لیکن انہوں نے وزیراعظم بننے کے باوجود اپوزیشن لیڈر کارویہ اپنائے رکھا، سیاسی مخالفین کو اتنا زیادہ للکارا کہ وہ بادل نخواستہ چھ ماہ پورے ہونے سے پہلے ہی اکٹھے ہو گئے ہیں۔ 15جنوری کو پارلیمنٹ میں موجود تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے۔ حکومت کی ایک اتحادی جماعت نے اپوزیشن کی ایک اہم شخصیت کو کہا کہ آپ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کب لائیں گے؟ یہ اتحادی جماعت عمران خان کی وعدہ خلافیوں پر جلی بھُنی بیٹھی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر اُنہیں حکومت سے نکالنے کی متمنی ہے

اپوزیشن کی گھاگ شخصیت نے حکومت کے اتحادی سے کہا کہ ذرا صبر کرو، ہم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے نہیں بلکہ کسی اور طریقے سے نکالنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بنانا چاہتیں۔ اُنہیں پتہ ہے کہ عمران خان کو نکال کر وہ حکومت میں آ گئے تو حکومت چلانا بہت مشکل ہو گا لہٰذا وہ اس انتظار میں ہیں کہ عمران خان بھی تیزی کے ساتھ وہ غلطیاں کریں جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار حکومت میں کی تھیں۔ پیپلز پارٹی نے 2008ء سے 2013ء کے دوران اپنے پانچ سال تو پورے کئے لیکن اُس کا ایک وزیراعظم نا اہل ہو گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی2013ء سے 2018ء کے دوران پانچ سال تو پورے کئے لیکن ایک وزیراعظم نا اہل کرا لیا۔ یہ دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ 2018ء میں بننے والی قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرے لیکن عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ نکالنے کی بجائے عدلیہ کے ذریعہ نا اہل کرایا جائے تو سیاسی حساب برابر ہو جائے گا۔ اپنے ان خوابوں کی تعبیر کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو کچھ اسکینڈلز کی تلاش ہے تاکہ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکے۔ اپوزیشن کو یقین ہے کہ بہت جلد علیمہ باجی (عمران خان کی بہن) کے علاوہ ایک بھائی جان بھی قابو آنے والے ہیں اور پھر حکومت کے بہت سے ٹارزن ٹائپ وزراء کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ایک ایسے وقت میں قائم ہوا ہے جب حکومت کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے اپوزیشن کی مدد چاہئے۔ حکومت کے رویے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر صرف ’’لِپ سروس‘‘ کر رہی ہے حقیقت میں وہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں چاہتی۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر اپوزیشن میں بھی فی الحال اتفاق رائے نظر نہیں آ رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے کچھ سینئر رہنما فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حامی ہیں لیکن اکثریت فوجی عدالتوں کے خلاف ہے۔ پیپلز پارٹی پہلے بھی دو دفعہ فوجی عدالتوں کی حمایت کر چکی ہے اور پیپلز پارٹی والے تیسری دفعہ فوجی عدالتوں کی حمایت کے لئے تیار نہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ 2014ء میں سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد سب سیاسی جماعتوں نے مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوجی عدالتوں کا کڑوا گھونٹ پیا۔ اس مقصد کے لئے آئین میں 21ویں ترمیم کی گئی اور صرف دو سال کے لئے فوجی عدالتیں قائم ہوئیں لیکن نواز شریف کی حکومت نے دو سال پورے ہونے پر 2017ء میں مزید توسیع کرائی۔ دونوں بڑی جماعتیں راضی نہ ہوتیں تو فوجی عدالتوں کو دوسری مرتبہ توسیع نہ ملتی لیکن کیا دونوں جماعتوں کو اتنے بڑے کمپرومائز پر کبھی کہیں سے شاباش ملی؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی کو کہیں سے شاباش مل جائے تو وہ فوجی عدالتوں پر تیسری مرتبہ بھی راضی ہو جائے گی؟ اندر کی خبر یہی ہے کہ پیپلز پارٹی تیسری مرتبہ فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کرے گی اور اگر شہباز شریف وسیع تر ملکی مفاد میں فوجی عدالتوں کی حمایت پر قائم رہیں گے تو 15؍ جنوری کو وجود میں آنے والا اپوزیشن اتحاد پارہ پارہ بھی ہو سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں تیسری دفعہ اضافے کو اتنا ضروری کیوں نہیں سمجھا جا رہا؟

فوجی عدالتیں جس مقصد کے لئے قائم کی گئی تھیں وہ مقصد اگر چار سال میں حاصل نہیں ہو سکا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ تجربہ ناکام رہا۔ فوجی عدالتوں کا قیام دراصل ہمارے عدالتی نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ یہ وہ عدالتی نظام ہے جس میں ایک سیاستدان کو تو بڑے فخر کے ساتھ سزا سنا دی جاتی ہے لیکن ایک دہشت گرد کو سزا سنانے کے لئے فوج کی مدد طلب کی جاتی ہے۔ فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے لہٰذا فوج اپنا کام کرے، عدلیہ اپنا کام کرے اور پارلیمنٹ اپنا کام کرے۔ وہ پارلیمنٹ اور عدلیہ جو فوج کو عدالتیں چلانے پر لگا دیتی ہے ایسی پارلیمنٹ اور عدلیہ کے بارے میں عام لوگ گلی محلوں میں جو باتیں کرتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ پچھلے چار سال میں فوجی عدالتوں کو 700سے زائد مقدمات بھجوائے گئے جن میں سے 478کا فیصلہ ہو چکا ہے اور باقی زیر سماعت ہیں۔ فوجی عدالتوں میں بہت سے خطرناک دہشت گردوں کو سزائیں دی گئیں لیکن پشاور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ کیا سانحہ آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے طلبہ کے والدین کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ احسان اللہ احسان دو سال سے ریاست کے پاس ہے لیکن اُس نے وہ کون سی خدمت سرانجام دی ہے کہ اُس پر فوجی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا گیا؟ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث ہونی چاہئے اور قوم کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہمارے اکثر سیاستدان صرف اپوزیشن میں اچھی اچھی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ یہ سیاستدان جب حکومت میں آتے ہیں تو فوجی عدالتیں کیوں بنانے لگتے ہیں؟ بہتر ہے کہ اب فوج کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور اسے عدالتوں میں نہ الجھایا جائے۔ جس کا کام اُسی کو ساجھے۔