انسانی جسم بھی دنیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک ارتقائی عمل سے گزررہا ہے ۔ اوراس کی صحت کے مسائل بھی ہر آنے والےوقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں جدید میڈیکل سائنس میں آئے دن ہونے والی نئی ادویات کی دریافت ناصرف ان مسائل سے نبر د آزما ہونے کے لیے نعمت ہے بلکہ صحت کے مسائل کو کافی حد تک حل بھی کر رہی ہیں مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ طب یونانی کے قدیم اصولوں میں آج بھی ہماری صحت کا راز پوشیدہ ہے اور اس بات کی صرف یہ ہی دلیل کافی ہے کہ آج بھی طب یونانی کا علاج ہمارے معاشرے میں ایک حد تک رائج ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر قدیم طب اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کی جدید زندگی میں رائج کیا جائے شرح صحت کا تناسب جدید میڈیکل سائنس سے کیے گئے علاج کے برابر ہی ہو گا

* طب یونانی کے کچھ بنیادی اصول:

جسم کی حالت صحت کو سمجھنے سے پہلے ایک نظر طب یونانی کے بنیادی نظریہ پر بھی ڈالنا ضروری ہے جس کا اغاز ارکان سے ہوتا ہے جن کو عناصر میں تقسیم کیا جاتا ہے ان کی تعداد چار ہے

1- مٹی (مزاج سرد خشک)
2- پانی (مزاج سرد،تر)
3- ہوا (مزاج گرم تر)
4- آگ ( مزاج گرم کشک)

یہی چار عناصر اپنی طبعی کیفیت کی بنا پر جسم کے مزاج کا تعین کرتے ہیں اور ان عناصر کے باہم ملاپ سے ہی اعضاء کا مزاج وجود میں آتا ہے۔ تمام انواع ،حیوانات کے مزاج کے مقابلے میں انسان کا مزاج سب سے زیادہ معتدل ہے اس طرح مختلف خطہ ارض کے انسانوں کا مزاج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ہم اپنے مزاج کو اپنی عمر کے ساتھ مختلف درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں جس کی تقسیم سن نمو سے سن وقوف اور پھر سن کہولت سے سن شیخوخت تک کی جاتی ہے مختلف عمروں کے مختلف مزاجوں کے ساتھ ساتھ طب یونانی میں جسمانی اعضاء کو بھی مختلف مزاجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کا ذکر مندرجہ ذیل ہے

1. جسم انسانی کے گرم اعضا: روح،قلب،جگر،گوشت
2. جسم انسانی کے تر اعضا: موٹی چربی،جھلیوں کا حصہ،پتلی چربی
3. جسم انسانی کے خشک اعضا: خشک بال،ہڈیاں،کریاں،غفاریف اعصاب،رباطات،تر اور اغثہ
4. سر اعضا: ہڈی،کری ہڈی،رباط، اعصاب، حرام مغز (نخاع) ،دماغ

طب یونانی میں مزاج کی تقسیم کے بعد دوسرا اہم درجہ اخلاط اور اس کی بنیادی تقسیم کو سمجھنے کا ہے کیونکہ علاج کی بنیاد انہی اخلاط کی بنیاد پر منحصر ہوتی ہے

* نظریہ اخلاط:

حکیم بقراط کے مطابق خون میں سرخ اجزاء کے ساتھ سفید،زرد اور سیاہ اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو سرخی میں دبے رہتے ہیں انہیں چاروں اجزاء کو اخلاط کہتے ہیں جس سے بدن انسانی کی صحت وسرخی وابستہ ہوتی ہے حکیم بقراط نے سرخ رنگ کو خون، سفید کو بلغم،زرد کو صغرا اور سیاہ کو سودا کہا، بقراط نے یہ تعلیم بھی دی کہ یہ سارے اجزاء خون میں ایک خاص تناسب کے ساتھ ملے جلے رہتے ہیں اور جب اس تناسب میں بلحاظ کمیت اور کیفیت، فرق واقع ہوجائے تو صحت کا خاتمہ ہو جاتا ہے “الطبیعت الانسان”

* تعداد اخلاط:

1. خون (گرم تر مزاج) سرخ رنگ کی خلط ہے
2. بلغم (سرد تر مزاج) سفید رنگ کی خلط ہے
3. صغرا (گرم خشک مزاج) زرد رنگ کی خلط ہے
4. سودا(سرد خشک مزاج) سیاہ رنگ کی خلط ہے

* خون کے افعال (منافع):

1. جسم کے اندر پانی کی مقدار کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے
2. پھیپھڑوں سے آکسیجن حاصل کر کے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے
3. جسم سے ناکارہ اجزاء(یوریا)لیکسٹک ایسڈ کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے
4. جسم کے ہر حصے تک امراض کے خلاف مدفعتی قوت (immunity) رکھنے والے خلیے اور اجسام دافعہ (Anti-bodies) کو پہنچاتا ہے
5. اعضاء کو گرم کرتا ہے
6. چہرہ میں جمال پیدا کرتا ہے
7. خون،قوت مدبرہ بدن (vital forces) کا شریک خصوصی ہے
8. خون بدن انسانی میں آخذیہ کا کام کرتا ہے

* بلغم کے افعال (منافع) :

1. جب بدن میں غذا (خون) باقی نہ رہے تو بلغم خون کی شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے
2. اعضاء کو تر رکھتا ہے جب تک حرکت ور رگڑ سے خشک نہ ہو جائیں
3. دماغ بلغمی اعضاء کی غذا میں شامل ہوتا ہے

* منافع صغراء:

1. ہضم غذا میں معاونت کرنا
2. آنتوں کے فضلات کا اخراج کرنا
3. عضلات کو دھو ڈالنا
4. تحریک براز
5. قاتل دیدان
6. رطوبت اور متعفن نہیں ہونے دیتی ہے

* سودا منافع:

1. خون کے قوام کو کثیف اور گاڑھا کر کے اس کو اعضاء میں قیام کا موقع دیتا ہے تاکہ وہ جزوبدن بن سکے یہ خون کی رقت کو گاڑھا بناتاہے بھوک لگانے میں معاون ہے اخلاط کے باہمی ملاپ سے اعضاء وجود میں آتے ہیں اور ان کا مزاج اخلاط کے مزاج اور اعضاء کے افعال پر منحصر ہوتا ہے جس کا میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں جیسے ہڈی کا مزاج سرد خشک ہے اور دل کا مزاج گرم تر ہے۔

اس طرح ہماری غذا اور ادویات بھی مزاج رکھتی ہیں جو کہ ہمارے مزاج میں اخلاط کی مناسب سے طے کیا جاتا ہے اور کیونکہ طب یونانی علاج بلضد پر منحصر کرتی ہے اس لیے کسی ایک بگاڑ کی صورت میں اس کے علاج کے لیے ادویات کا چناؤ کرتے ہوئے اس اعضاء کی طبعی مزاج سے متضاد ادویات کا استعمال کیاجاتا ہے طب یونانی میں بھی ادویات کو چار درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اس کا انتخاب مرض کی نوعیت کے ساتھ کیا جاتا ہے

* جدید میڈیکل سائنس:

میرے مطابق جدید میڈیکل سائنس میں اکثر امراض میں کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جسم انسانی میں پائے جانے والے معدنی نمکیات اور کمیکل پر بے حد ریسرچ کی ہے اور ان معدنیات اور حیاتین کی کمی یا زیادتی سے جو اثرات جسم انسانی پر مرتب ہوتے ہیں ان کا تفصیلی مشاہدہ کیا ہے۔ جدید تحقیق یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ ان نمکیات اور حیاتین کی موجودگی جسم انسانی میں بنیادی اعضاء کی نشونما کے لیے نہایت اہم ہے اس کے ساتھ ساتھ جسم انسانی کو ہارمون سسٹم کو فعال بنانے میں بھی ان نمکیات کا نہایت اہم کردار ہے جسم انسانی میں موجود نمکیات اور حیاتین ایک محفوظ تناسب سے پائے جاتے ہیں اور ان کی کمی یا زیادتی سے جسم انسانی کو کئی قسم کی پیچیدہ امراض لاحق ہو سکتے ہیں

جدین ترین تحقیق کے مطابق مندرجہ ذیل عناصر انسانی جسم میں ایک خاص تناسب کے ساتھ پائے جاتے ہیں جو کہ مندرجہ بالا ہیں

نمبر شمار عناصر جسم انسانی میں اس کا تناسب

آکسیجن 65 فیصد تقریباً
ہائیڈروجن 10 فیصد تقریباً
کاربن 19 فیصد تقریباً
نائٹروجن 0.3 فیصد تقریباً
فاسفورس 0.8-1.2 فیصد (اس کی مقدار کیلشیم کی مقدار پر منحصر ہے)
گندھک 0.2 فیصد تقریباً
کیلشیم 1.5-2.2 فیصد تقریباً
فلورین قلیل مقدار
کلورین 0.15 فیصد تقریباً
سوڈیم 0.15 فیصد تقریباً
لوہا 0.0004 فیصد تقریباً
آیوڈین 0.0004 فیصد تقریباً
پوٹاشیم 0.35 فیصد تقریباً
میگنیشم 0.05 فیصد تقریباً
کوبالٹ قلیل مقدار
زنک قلیل مقدار
سلیکا قلیل مقدار
تانبا قلیل مقدار
جست قلیل مقدار

یہ عناصر ہمارے جسم میں الگ الگ نہیں پائے جاتے ہیں بکلکہ مختلف مرکبات کی صورت میں ہوتے ہیں اس طرح ہمارا جسم لحمیات ،پروٹین، نشاستہ دار غذائیں اور چکنائی ہماری روزمرہ کی غذا سے حاصل کرتا ہے

* معدنی نمکیات کے فوائد:

1. ہڈیوں اور دانتوں کی نشونما میں معاون ہوتے ہیں اور ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں
2. یہ پٹھوں کی نشونما اور مرمت میں کام آتے ہیں
3. یہ نمکیات ہمارے خون میں پائے جاتے ہیں اور ان کی عدم موجودگی یا کمی سے صحت متاثر ہوتی ہے
4. معدنی نمکیات جسم کے رقیض مادہ کے دباؤ کو ٹھیک کرتے ہیں جسم سے پانی کی آمدو رفت میں مدد دیتے ہیں
5. یہ غزائی اجزء کو جذب ہونے اور غلیظ مادوں کو جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں
6. جسم سے تیزابی اور اسامی مادوں کو بڑھنے نہیں دیتی ہے بلکہ ان میں توازن قائم رکھتے ہیں
7. حرکت قلب کو متوازن اور ٹھیک رکھنے میں کیلشیم ،سوڈیم اور پوٹاشیم کے نمکیات مدد دیتے ہیں
8. معدنی نمکیات اعصابی قوت کو برقرار رکھتے ہیں اور خون کو منجمد ہونے میں مدد دیتے ہیں

آج کل کے اس مشینی دور میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معالج /طبیب سے مشورہ کر کے اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق اپنی غذا کا تعین کریں تا کہ ان بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں اور ایک صحت مندزندگی گزار یں۔