علی رضا عابدی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے تھے،سینیٹر سعید غنی کا دعویٰ

میری علی رضا عابدی سے متعدد ملاقاتیں ہوئی تھیں جن کو ہم میڈیا پر منظر عام پر نہیں لائے

سینیٹر و رہنما پیپلز پارٹی سعید غنی نے انکشاف کیا ہے کہ علی رضا عابدی جلد ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے تھے.تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس میں متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی پر حملہ کیا گیا ہے. علی رضا عابدی پر خیابان

اتحاد کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ کے باہر حملہ کیا. نامعلوم افراد کی جانب سے علی رضا عابدی پر ان کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے. حملے کے وقت علی رضا عابدی اپنی گاڑی میں موجود تھے جب ان پر فائرنگ کی گئی. حملہ آور فائرنگ کرنے کے بعد فوری فرار ہوگئے. علی رضا عابدی کو زخمی حالت میں فوری جناح ہسپتال منتقل

کیا. تاہم علی رضا عابدی کے سر اور گردن میں 4 گولیاں لگیں جس کے باعث وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے.انکی موت کی خبر سن کر پاکستان کے سیاسی حلقوں میں سوگ کی سی کیفیت بن چکی ہے.اسی دوران علی رضا عابدی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر سعید غنی نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے.

سعید غنی کا کہنا تھا کہ علی رضا عابدی کی موت کی خبر سے کر شدید دیکھ ہوا.میری اور علی رضا عابدی میں کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں جن کوہم منظر عام پر نہ لاسکے.علی رضا عابدی جلد ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے تھے.خدا علی رضا عابدی کے والدین کو اس ناقابل تلافی غم کو برداشت کرنے کی ہمت دے.واضح ہو کہ علی رضا عابدی نے 2018کے عام انتخابات میں

وزیر اعظم عمران خان کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا لیکن شکست کھا بیٹھے.ضمنی انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے ایم کیو ایم کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا.