چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا دوران ملازمت فرائض ایمانداری سے ادا کئے، قوم کی خدمت کیلئے 3 گھنٹے سے زیادہ نہیں سوتا، ہر مقصد نیک نیتی سے بھرپور رہا، پوری زندگی انصاف کیلئے کام کیا۔ قوم کی خدمت کیلئے 3 گھنٹے سے زیادہ نہیں سوتا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا میرا ہر مقصد نیک نیتی سے بھرپور رہا، لوگوں کے مسائل کی وجہ سے میں جدوجہد کر رہا ہوں، پیشہ ورانہ زندگی میں خلوص نیت سے ذمے داری نبھانا اصل خدمت ہے، میں نے ایمانداری کو ہمیشہ نصب العین بنایا۔ انہوں نے کہا اپنی پوری زندگی میں انصاف کے حصول کیلئے کام کیا، بلوچستان گیا تو پتہ چلا سب سے بڑے ہسپتال میں آئی سی یو نہیں تھا، 2 ہزار پیرا میڈیکس کچھ روز سے ہڑتال پر تھے، مجھے مشورہ دیا گیا بلوچستان نہ جائیں پیرا میڈیکس ہڑتال پر ہیں، میں بلوچستان گیا اور پیرا میڈیکس کا ایک ایک جائز مطالبہ پورا کیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا مجھے ملک کے ہر کالج، ہر ہسپتال کے ساتھ محبت ہے، میری محبت یکطرفہ نہیں، دو طرفہ ہے، پرائیویٹ کالجز میں فیس کی مد میں کروڑوں روپے لیے جا رہے ہیں، کئی کئی کروڑ روپے لے کر ہسپتالوں کا الحاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا میرا مشن تھا کہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کروں، پرائیویٹ کالجز میں ڈاکٹرز پیدا نہیں کیے جا رہے، پرائیویٹ کالجز سے پڑھ کر آنے والے ڈاکٹرز بلڈ پریشر چیک نہیں کرسکتے، میرا امتحان شروع ہوچکا ہے، اس کا نتیجہ میری ریٹائرمنٹ پر نکلے گا، اپنے دور میں ملک میں ترقی لانے کی بھرپور کوشش کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال تربیت گاہ نہیں، بزنس ہاؤس بن گئے، عدلیہ نے کسی ہسپتال کی مینجمنٹ میں مداخلت نہیں کی، جہاں غلطیاں تھیں انہیں ٹھیک کرنے کے اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا اربوں روپے نجی ہسپتالوں سے لے کر والدین کو واپس دلوائے، ملک کا ہر فرد ایک لاکھ 25 ہزار کا مقروض ہے۔