بلاشبہ حد سے بڑھ جانے والے اور کم رہ جانے والے خسارے میں ہیں۔ (القُرآن)

دکھاوا اور کنجوسی، حد سے بڑھ کر اور ضرورت سے کم ہمیشہ ہر چیز نُقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ البتہ جب کوئی اور چارہ ہی نہ ہو تو ضرورت کے مطابق اپنی یہ حِس استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاریخ میں انسانوں کو فیصلہ لینے کی حیثیت سے دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک گروہ جو دِل سے جذبات کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے اور دوسرا وہ جو دماغ سے وجوہ پرکھ کر فیصلہ لیتا ہے۔ دونوں گروہوں کے لوگ زمین پر موجود ہر آبادی میں پائے جاتے ہیں۔

یہ فیصلے لوگوں سے منسوب ہوتے ہیں، اِن فیصلوں کو مخصوص لوگوں سے منسوب نہیں کِیا جانا چاہیے۔ البتہ ایسا ہوتا ضرور ہے جیسے عام طور پر ہمیشہ عقل کہ بنیاد پر فیصلہ لینے والوں کو دانشور اور مضبوط تصوّر کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایشیائی خطّے کے لوگ مغرب والوں کو معقول تسلیم کرتے ہیں جبکہ ایشیائی لوگوں کو جذباتی مانا جاتا ہے کہ جو جلد باز اور کمزور لوگوں کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ عقل کی بُنیاد پر فیصلہ کرنے والے ہی تنقیدی نظر کے مالِک ہوتے ہیں۔ یہ تمام ترجیحات اور توہُّمات سراسَر غلط ہیں۔

کوئی بھی بات یا فیصلہ، محض دماغ سے یا صِرف دل سے لینا شدید مُضر ہے۔ انسان کی نفسیاتی، مُعاشی، مُعاشرتی، مذہبی اور سیاسی زندگی میں دونوں چیزوں میں توازن کی اشد ضرورت ہے۔ ایک انسان کی مخصوص ذہنیّت ہمیشہ تربیّت، ماحول اور ادب (Literature) سے پروان چڑھتی ہے اور موجودہ دور میں میڈیا بھی اِس لحاظ سے ایک اُستاد بن چُکا ہے۔

ہماری قوم کی پسماندگی کی ایک سب سے بڑی وجہ ہمارے ادب (لٹریچر) کا فقدان اور تاریخ و حالات کے حقائق سے بےخبری ہے۔ لیکن جو لٹریچر آج ہمارے پاس موجود ہے، افسوس کہ چند تنقیدی نُقطہ نظر رکھنے والے، خاطر خواہ عِلم رکھنے والے لوگ اُس ادب کو بھی ترقّی یافتہ ادب سے موازنے میں بے حُرمتی کا نشانہ بناتے ہیں اور زیادہ تر یہ لوگ حد سے بڑھنے والے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ میڈیا پر اپنے اِن ذاتی اور دوسروں سے متاثر خیالات کو بیان کرکے لوگوں کی ذہنیتوں میں ہلچل مچا دیتے ہیں۔ آخر کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ایک سیاستدان کا دوسرے سے موازنہ کر کے یا ایک ادبی شخصیّت کو دوسری شخصیّت پر فوقیّت دے کر؟ یہ چیزیں ہمیشہ تنگ نظری، شدّت پسندی اور جذباتی اُبھار کا سبب بنتی ہیں۔

آج کل حالات بھی کُچھ یوں ہیں کہ عوام کا بھی اِس تباہی میں بھرپور کردار ہے۔ عادت کی وجہ سے ذہنیت ہی ایسی بن گئی ہے۔ سیاست میں جب تک سیاسی گروہ ایک دوسرے کو اور مذہب میں جب تک فرقے ایک دوسرے کو بِلاضرورت اور بیہودہ طریقے سے تنقید کا نشانہ نہ بنائیں، اُن کی سیاست چمکتی ہے نہ ہی فرقوں کے مذہبی جذبات میں جوش رہتا ہے۔ اور بلاشبہ پاکستان میں بڑھتی فرقہ واریت اِسلام کو مرضی کے مطابق بڑھانے اور گھٹانے کی ہی وجہ سے ہے۔ اسلام میں اور اسلام پر تنقید کی وجہ سے ہی آج انسان، انسانیت دیکھنے کو ترس گیا ہے۔ سارے مسالک و ممالک میں یہی ملتی جُلتی کیفیت ہے مگر اپنا مُلک اِسلام کے نام پر ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں سے اصلاح کی ضرورت پر اِس بلاگ کی ضرورت محسوس کی گئی۔ تنقید کرنے والوں کو ولولہ، اُمید، ہمت اور حوصلہ بھی اُنہی لوگوں میں پیدا کرنا چاہیے جنہیں اصلاح کےلیے ہی سہی، مگر یک طرفہ طور پر تنقید کے نشانے پر رکھا جاتا ہے۔ تنقید میں صرف اچھائیاں بھی نہیں نکالنی چاہئیں اور نہ ہی صِرف بُرائیاں۔

ناقدین حضرات (استاد سے لے کر اینکر پرسنز تک) کو پاکستان کے مذہبی، مُعاشی، اقتصادی، سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں پر ہمیشہ دل اور دماغ، دونوں کا استعمال کرتے ہوئے حق کو اُجاگر کرنا چاہیے۔ اُنہیں اپنا ذاتی نقطہ نظر خود تک محدود رکھنا چاہیے کیونکہ وہ اِس سے دوسروں کے نظریات متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک مشہور قول کے مطابق: غیر ضروری تنقید وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے خُوبصورت تعلقات کا سر قلم کرتی ہے۔

ایکسپریس نیوز