وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا شہباز شریف اور ان کے حواریوں کو عمران خان پر ذاتی حملےکی جرات کیسےہوئی؟ کیا وہ چاہتے ہیں ان کا پروڈکشن آرڈر منسوخ کردیا جائے ؟

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا شہباز شریف اور ان کے حواریوں کو عمران خان پرذاتی حملےکی جرات کیسےہوئی ؟ کیا شہباز شریف چاہتے ہیں وہ جیل میں مزیدوقت گزاریں ؟ اور کیا وہ چاہتے ہیں ان کا پروڈکشن آرڈر منسوخ کردیا جائے ؟

گذشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ساہیوال واقعے پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ پنجاب حکومت وزیراعظم کی اجازت کےبغیر ایک کاغذ بھی نہیں ہلاسکتے، پنجاب کے وزرا واٹس ایپ پر وزیراعظم سے اجازت لیتے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب ،وفاقی وزرا نےکہاجےآئی ٹی رپورٹ 72گھنٹے میں آئے گی، ساہیوال واقعے پر جے آئی ٹی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئی اور واقعہ پر افسران کو 72 گھنٹے میں علیحدہ کردیا گیا ، راناثنااللہ اور ڈاکٹر توقیر نے 48گھنٹے میں استعفے پیش کئے تھے، پہلے وزیراعظم عمران خان اورپھر وزیراعلیٰ عثمان بزدارکو استعفیٰ دیناچاہیے۔

یاد رہے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے منی بجٹ کے تحت اہم اعلانات پر اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا اور اسد عمر کی منی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین نے ایک لمحے کے لیے بھی شور شرابا ترک نہیں کیا اور مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، ڈیسک بجاتے رہے۔

بعد ازاں رہنماپاکستان تحریک انصاف نعیم الحق نے میڈیاسےگفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کررہی، قومی اسمبلی میں اپوزیشن کارویہ شرمناک تھا، اپوزیشن کےنعروں کےجواب میں کوئی نعرہ نہیں لگا، اجلاس سے پہلے اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں چیزیں طے ہوتی ہیں۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے ساہیوال واقعے پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی رپورٹ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وزراء نے ساہیوال میں مرنے والے تمام افراد کو دہشت گرد کہا، وزراء اپنے اس موقف پر وضاحت پیش کریں اور معافی مانگیں۔

Ary news