تقدیر کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ تب بنتا ہے جب ہم اسے ایک غلط انداز سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یعنی بجائے اس کے کہ ہم کسی خاص فعل کے کرنے یا نہ کرنے پر اپنے اختیار پر بحث کریں، پھر چاہے وہ اچھا یا برا ہی کیوں نہ ہوں، ہم بحیثیت مجموعی انسان کے مجبور یا مختار ہونے اور تقدیر کے اٹل ہونے یا نہ ہونے میں الجھ جاتے ہیں۔ نتیجتاً کوئی تسلی بخش حل نہیں نکلتا اور ہم انجانے میں اپنی ناکامی، کسی دوسری کی کامیابی، برے اعمال اور دنیا میں پائی جانے والی تمام طرح کی برائیوں اور خرابیوں کو براہ راست تقدیر سے جوڑ دیتے ہیں۔ لہذا یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ کون سے اعمال خالصتاً ہمارے اختیار میں ہیں، جن کو اچھے یا برے طریقے سے انجام دینے پر ہم سے جواب طلبی ہو گی اور آخرت میں ان کا حساب لیا جائے گا، اور کون سے اعمال ایسے ہیں جو ہماری دسترس سے بالکل باہر ہیں، جن کا ہم سے کسی طرح کا سوال نہیں ہو گا۔

دنیا میں سرانجام پانے والے اعمال دراصل دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلے وہ جو انسان پر مکمل طور پر حاوی ہوتے ہیں جن کو ہم چاہ کر بھی بدل نہیں سکتے۔ ان میں کچھ تو نظام قدرت کے تحت سر انجام پاتے ہیں جیسا کہ سورج کا مشرق سے طلوع ہونا، پرندوں کا اڑنا، موت کا بر وقت آنا وغیرہ وغیرہ اور کچھ وہ ہیں جو اگرچہ نظام قدرت کے تقاضوں میں سے نہیں لیکن پھر بھی ہم ان کو اپنی مرضی سے بدل نہیں سکتے۔ جیسا کہ آپ کسی پرندے پر نشانہ باندھ رہے ہوں لیکن غلطی سے گولی کسی اور کو جا لگے۔ لہذا اس طرح کے اعمال میں ہم مکمل طور پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کا اسی طریقے سے ہونا دراصل اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا، جسے ہم قضا کہتے ہیں۔ اس لیے یہ تمام اعمال گناہ و ثواب اور جزا و سزا کی بحث میں نہیں آتے کیونکہ ان کا ہماری چاہت یا مرضی سے کوئی سروکار نہیں۔

دوسری طرح کے اعمال دراصل وہ افعال ہیں جن پر انسان حاوی ہے اور جو اچھائی اور برائی کی بنیاد بنتے ہیں۔ جیسا کہ اگر آپ کے ہاتھ میں چاقو تھما دیا جائے تو آپ اس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں یہ مکمل طور پر آپ پر ہی منحصر ہے۔ (تاہم ہر شے کی ایک اپنی خاصیت ہوتی ہے جس سے باہر اس کا استعمال ممکن نہیں۔ مثلاً آپ پانی اور آگ کو بیک وقت ایک ہی مقصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہر شے کی قدر بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی متعین ہیں، جس کس اچھا یا برا استعمال ہمارے اختیار میں ہے۔ ) لہٰذاس حیثیت سے یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ پہلے تو ہم اپنی عقل استعمال کر کے خیر اور شر کے درمیان تمیز کر یں اور پھر زندگی کے امتحان میں کامیابی کے لیے بھلائی کے راستے کو چنیں۔

ان دوسری طرح کے معاملات میں مزید کنفیوشن اس وقت ہوتی ہے جب ہم ان کو اللہ کے ”العلیم“ ہونے، سب کچھ لوحِِ محفوظ درج ہونے، یا کسی نیک عمل کو کرنے کے لیے اللہ کی مرضی یا اس کی طرف سے توفیق سے جوڑ دیتے ہیں۔ دراصل ہمارے ہاتھوں سے کسی ایسے عمل کا سر انجام پانا، جس کی مختلف صورتیں ہمارے سامنے موجود ہوں اور اختیار مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں ہو، اس کا اللہ تعالیٰ کو علم ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہم اس کام کو اسی طرح کرنے پر مجبور بھی تھے۔

یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی پولیس افسر کسی مجرم کو رہاکرتے وقت اپنے عملے سے کہے یا لکھ دے کہ دیکھنا دس دن بعد دوبارہ کسی جرم میں پکڑا جائے گا جو بعد میں سچ ثابت ہو جائے تو ہم یہ کہنا شروع کردیں کہ مجرم دراصل مجبور تھا۔ پس اللہ کا العلیم ہونا ہمارے اعمال کو کنٹرول نہیں کرتا۔ اصل میں ایسے معاملات میں ہمارا با اختیار ہونا ہی اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہے۔

(نیک اعمال کی توفیق دینے سے مراد یہ نہیں کہ میرا سچ بولنا دراصل اللہ کی طرف سے ہے بلکہ سچ بولنے کے راستے میں آسانی پیدا کرنا دراصل اللہ کی طرف سے تھا، جیسا کہ کسی نیک کام کے لیے گھر سے نکلنا اور خوش قسمتی سے ٹریفک کی روانی مل جانا۔ )

جہاں تک ان افعال کا تعلق ہے جو براہ راست پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں تو ان کے مکمل ادراک کے لیے فرد نہیں بلکہ پورے نظام کو ہی سامنے رکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر کسی شخص کا رزق لکھا ہونا اور اس تک اس کی دستیابی کے نظام کو زیر بحث لانا دو مختلف چیزیں ہیں۔

مختصراً، قرآن پاک کی متعدد آیات اور احادیث مختلف تناظر میں قضاؤ قدر کے معاملے کو زیر بحث لاتی ہیں اور چونکہ ہم مسقبل سے مکمل طور پر انجان ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے بتائیے ہوئے احکامات کو خیر سمجھتے ہوئے ان کے مطابق اعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اگرچہ ان میں ظاہری نقصان یا خوف کی صورت ہی نظر آرہی ہو۔

زین الحسن

HUMSUB