تحریک انصاف کی حکومت دن رات تنقید کی زد میں ہے کیونکہ ناقدین صرف تصویر کا ایک رخ میڈیا میں دکھا رہے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

تحریک انصاف کی حکومت دن رات تنقید کی زد میں ہے کیونکہ ناقدین صرف تصویر کا ایک رخ میڈیا میں دکھا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت دن رات تنقید کی زد میں ہے کیونکہ ناقدین صرف تصویر کا ایک رخ میڈیا میں دکھا رہے ہیں۔ جہاں تحریک انصاف کے غلط فیصلوں پر تنقید ہو رہی ہے وہاں ان کے اچھے فیصلوں اور کامیابیوں کی تعریف کرنا اتنا ہی ضروری ہے تاکہ ایک متوازن رائے قائم کی جاسکے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 100 دنوں میں کونسے سے اچھے فیصلے کیے ہیں؟ آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں۔

17 اگست 2018 کو عمران خان پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ حکومت سنبھالتے ہی پہلا چیلنج حضور نبی کریم محمدﷺ کے کارٹون/ خاکے بنانے کے حوالے سے ڈچ پارلیمنٹ میں منعقد ہونے والا مقابلہ تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس معاملے کو سنجیدہ لیا اور اسے پرامن طریقے سے حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقابلے کے خلاف پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قرارداد منظور کروائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں تقریر کی اور اس معاملے کو اقوام متحدہ اور او آئی سی میں لے جانے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقابلہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بن رہا ہے، جو انسانی حقوق کے منافی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود نے ڈچ وزیراعظم کو متعدد بار پاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروایا اور اس مقابلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تحریک انصاف کی محنت رنگ لائی اور ڈچ حکومت نے 30 اگست کو (تحریک انصاف کی حکومت بننے کے صرف تیرہ دن بعد) یہ مقابلہ منسوخ کردیا اور پوری دنیا کے تمام بڑے اخباروں میں یہ سرخی لگی کہ پاکستانی حکومت کے احتجاج کی وجہ سے ڈچ پارلیمنٹ میں حضورﷺ سے متعلق ہونے والا تصویری مقابلہ کینسل کر دیا گیا ہے۔ یہ تحریک انصاف کی حکومت کی پہلی کامیابی تھی۔

تحریک انصاف سے پہلی حکومتوں نے اوّل تو اس طرح کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا ہی نہیں؛ اور اگر اٹھایا بھی تو وہ اتنا غیر مؤثر تھا کہ ملک کے اندر اور باہر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

اپنی پہلی تقریر میں خان صاحب نے وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے اور تمام گورنر ہاؤسز کو عوام کےلیے کھولنے کا وعدہ کیا۔ اس وعدے کی تکمیل کےلیے وزیراعظم عمران خان نے 1100 کینال اور 100 سے زائد کمروں پر مشتمل وزیراعظم ہاؤس کے بجائے 4 کنال اور تین بیڈ روم پر مشتمل سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کے گھر میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم ہاؤس کے 524 ملازمین میں سے صرف چند ملازمین کو چھوڑ کر باقی تمام ملازمین کو مختلف سرکاری محکموں کے حوالے کردیا گیا۔ اس فیصلے سے عمران خان کا عوام سے کیا گیا وعدہ بھی پورا ہوگیا اور وزیراعظم ہاؤس کے پانچ سو سے زائد ملازمین بے روزگار ہونے سے بھی بچ گئے۔ اس فیصلے کو ہندوستان اور برطانیہ سمیت پوری دنیا کے میڈیا نے سراہا اور پاکستان کا ایک مثبت پہلو ابھر کر دنیا کے سامنے آیا۔

وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا کہ تمام گورنر ہاؤسز عوام کےلیے کھول دیئے جائیں گے۔ یہ محل نما گورنر ہاؤسز عوام کی پراپرٹی ہیں اور ان پر عوام کا حق ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے تمام گورنر ہاؤسز عوام کےلیے کھول کر اپنے اس وعدے کو بھی پورا کیا ہے۔

اس کے بعد تحریک انصاف کےلیے سب سے بڑا چیلنج معاشی عدم استحکام تھا۔ پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ 12 ارب ڈالر تھا۔ یہ رقم پاکستان کو فوراً درکار تھی۔ پاکستان کے پاس صرف ایک ہی حل تھا کہ یہ 12 ارب ڈالر آئی ایم ایف سے حاصل کیے جائیں۔ آئی ایم ایف نے اتنے بڑے قرضے کے عوض سی پیک کے پاک چائنا معاہدے مانگ لیے۔ یہ پاکستان کےلیے قابل قبول نہیں تھا۔ بہترین حل یہ تھا کہ یہ قرضے دوست ممالک سے حاصل کیے جائیں۔ تحریک انصاف نے دوست ممالک سے رابطہ کیا تو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگا۔ عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور دوست ممالک کو یقین دلایا کہ یہ پیسہ ماضی کی طرح کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھوں میں نہیں جارہا بلکہ ایک نئی، مخلص اور کرپشن سے پاک قیادت اس پیسے کو استعمال کرے گی اور پاکستان چند سال میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا اور آپ کا پیسہ آپ کو بروقت واپس مل جائے گا۔ عمران خان نے دوست ممالک کو پاکستان میں کرپشن کے خلاف جاری مہم، کڑے احتساب اور فضول شاہ خرچیوں کو ختم کرنے کا یقین دلایا اور وزیراعظم کا 1100 کنال کا گھر چھوڑ کر صرف چار کنال کے گھر میں رہنے کے فیصلے کو عملی نمونے کے طور پر پیش کیا۔

دوست ممالک نے عمران خان پر اعتماد کیا اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے پاکستان کو اربوں ڈالر کا پیکیج دینے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ ان معاہدوں سے آئی ایم ایف سے لیے جانے والا قرض 12ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف چار ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ عمران خان کے اس اقدام سے پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا مل گیا ہے اور قومی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔

تحریک انصاف نے جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کو منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات نے کرنے کے باعث گرے لسٹ میں شامل کرلیا گیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی سب سے بڑی وجہ مبینہ طور پر حبیب بینک کی نیویارک برانچ کو نواز شریف کے اکاؤنٹ میں غیر محتاط طریقے سے پیسوں کی منتقلی کا معاملہ تھا۔ حبیب بینک کی نیویارک برانچ کو 225 ملین امریکی ڈالر جرمانہ ہوا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی بینکنگ چینلز سے منی لانڈرنگ کو روکنے کےلیے اقدامات کیے۔ وزارت داخلہ وزیراعظم نے اپنے پاس رکھی اور ایف آئی اے کو متحرک کیا۔ جیسے ہی ایف آئی اے ایکٹیو ہوئی تو ملک پاکستان میں بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کے ایسے طریقوں کا انکشاف ہوا جو اس سے پہلے دنیا نے نہ دیکھے تھے اور نہ سنے تھے۔ فالودہ بیچنے والے، تین سال قبل مرے ہوئے، غریب طالب علم، سرکاری ملازموں، ڈرائیوروں، چوکیداروں، پرسنل گارڈ، دھوبی اور رکشہ ڈرائیور کے جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے ملک سے باہر بھیجے گئے۔ سپریم کورٹ نے ایکشن لیا، حکومت نے مجرموں کو پکڑا اور ان کے سخت ٹرائل کی یقین دہانی کروائی۔

اس کے علاوہ پاکستان نے برطانیہ سے منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ میں منتقل ہونے والی دولت اور منی لانڈرنگ کے بعد پناہ لینے والے مجرموں کی حوالگی سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ برطانوی حکومت نے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی ٹیم میں برطانیہ کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے منی لانڈرنگ کے خلاف آپریشن نے ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو چھ ماہ کا مزید وقت دے دیا ہے۔ یہ امید کی جارہی ہے کہ اپریل 2019 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں سے نکال دیا جائے گا۔

حکومت نے کسانوں، اسکول، مساجد اور اسپتالوں کےلیے بجلی کے نرخ پچاس فیصد کم کردیئے ہیں جو زرعی ملک کی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو گیس سستے داموں دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے برسوں سے بند پڑی ٹیکسٹائل ملیں دوبارہ چلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ تمام وزیروں اور مشیروں کے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ وزیر خارجہ اقوام متحدہ میں خطاب کرنے گئے تو وزیروں، بیوروکریٹس اور صحافیوں کی فوج ان کے ساتھ نہیں گئی۔ وزیر خارجہ لوکل ٹرین میں سفر کرتے رہے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی۔ تحریک انصاف نے میرٹ پر کیریئر ڈپلومیٹ مقرر کیے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کھول کر عوام کے سامنے رکھ دی ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ آج پاکستانی عوام کے سامنے حقائق کھل کر آگئے ہیں کہ ہم حقیقت میں کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری معیشت کی اوقات کیا ہے؟ ہماری پروڈکٹس کی اصل قیمت کیا ہے؟ معیشت کو اس کی اصل قیمت پر لانا ایک حقیقت پسندانہ عمل ہے کیونکہ جب تک ہمیں ہماری پروڈکٹ کی اصل قیمت معلوم نہیں ہوگی، ہم حقیقت پسندانہ فیصلے نہیں کرسکیں گے۔ معیشت کو مصنوعی ہوا سے پھلا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ماضی میں پاکستانی معیشت کو جھوٹ پر کھڑا رکھا گیا جس کے نتیجے میں عوام دھوکے میں رہے۔ تحریک انصاف کے فیصلوں سے یوں لگتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ جھوٹ نہیں بولیں گے اور جہاں انہیں عوام کے اعتماد کی ضرورت پڑے گی وہ عوام کے سامنے صحیح صورتحال اور حقائق رکھ دیں گے۔ اگر تحریک انصاف اسی اصول پر قائم رہی تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستانی معیشت مضبوط ہوگی اور پاکستان آئی ایم ایف کو قرض دینے کی پوزیشن میں آجائے گا۔

اس کے بعد سب سے زیادہ حساس معاملہ آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ سے رہائی کے بعد تحریک لبیک پاکستان اور دیگر مذہبی جماعتوں کا ملک گیر احتجاج تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس مسئلے کو بہت سمجھداری سے حل کیا۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا، وہ حکومت کی رٹ قائم کرنے کا عملی ثبوت ہے۔ نظر ثانی کی اپیل حکومت نے دائر نہیں کی، نہ ہی آسیہ بی بی کا نام ابھی تک ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ تحریک لبیک نے معافی بھی مانگی ہے اوراحتجاج کے چوتھے دن ہی دھرنا ختم ہوگیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ حکومت نے یہ دھرنا وزیراعظم کی عدم موجودگی میں ختم کروایا ہے؛ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک سال قبل ن لیگ کی حکومت میں دیا گیا دھرناحکومت سے سنبھالا ہی نہیں گیا تھا۔ وہ دھرنا بیس دن تک جاری رہا۔ وفاقی وزیر کی رخصتی، ناکام پولیس آپریشن اور فوج کی گارنٹی کے بعد دھرنا ختم ہوا۔ لہذا آج کا دھرنا احسن طریقے سے ختم کروانے پرتحریک انصاف مبارکباد کی مستحق ہے اوراس کامیاب حکمت عملی پر حکومت کی پذیرائی نہ کرنا زیادتی ہوگی۔

100 دنوں میں یہ اقدامات اور کامیابیاں غیر معمولی ہیں۔ تحریک انصاف کے ان اقدامات اور فیصلوں کو سپورٹ نہ کرنا زیادتی ہے۔ خان صاحب آپ سے گزارش ہے کہ ناجائز تنقید پر کان نہ دھریئے، صرف سچ بولتے رہیے، یہ قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی۔ یہ مشکل وقت بھی آپ کے کاندھے کے ساتھ کاندھا ملا کر گزار لے گی۔ کیونکہ عوام تصویر کے دوسرے رخ سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ جہاں سے آپ نے شروع کیا ہے وہ ابھی نقطہ آغاز ہے۔

ایکسپریس نیوز