بلاشبہ تصوف کی اصطلاح سے ہمیں اختلاف ہے ۔لیکن ہمارے احباب تصوف اور رد تصوف سے ذرا بالا تر ہو کے سوچیں کہ اصل معاملہ کیا ہے ؟
آخر کیا وجہ ہے کہ وہ طبقہ جو محض ظاہری علامت داڑھی کو بھی برداشت نہیں کرتا وہ نصاب تعلیم میں تصوف کو شامل کیے دے رہا ہے ؟
جب آپ اس پر غور کریں گی تو اس بحث سے اوپر اٹھ آئیں گے ۔ جو احباب دیوبند ہیں وہ اور سلفی بھائی اس بحث میں الجھ رہے ہیں حالآنکہ تصوف کے باب میں دونوں کے نکتہ نظر میں ایک سو اسی ڈگری کے فرق کے باوجود یہ حکومتی فیصلہ اس علمی بحث کو نہیں شروع کروا سکتا ۔۔۔۔ہاں اگر آپ غور کریں ۔
افغانستان میں چالیس سالہ مزاحمت میں دیوبندی فکر نے قائدانہ کردار ادا کیا حالنکہ تصوف کا اور ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔۔سو ہمارے یہ دوست اس بات کو سمجھ لیں یہ ان والا تصوف تصوف نہیں بلکہ ہر حال میں عدم مزاحمت والا صوفی ازم ہے ۔بلکہ سجادہ نشینوں اور درگاہوں والوں کی اسی ذریت کی پشت پناہی کی خواہش ہے کہ جو انگریزوں کے بالمقابل آنے والوں کو مجرم کہہ کے عدم مزاحمت اور صلح کل کے درس دیتے رہے ۔اور جب جب ممکن ہوا انہی مجاہدین کے خلاف انگریز کی مدد کر کے جاگیریں بناتے رہے ۔
آپ کو گروزنی میں ہونے والی صوفی کانفرنس یاد ہو گی ۔اس میں مسلمانوں کے سب سے بڑے قاتل پیوٹن نے کرسی صدارت سنبھالی ہوئی تھی ۔ اسی طرح امریکی بھی صوفی اسلام کو بہت پسند کرتے ہیں اور کبھی چوہدری برادران کی سرپرستی میں اس کے لیے سیمینار بھی کروائے گئے ۔۔۔
مختصر لکھے کو بہت سمجھیے ۔۔۔اصل میں وہ لوگ اسلام کی مزاحمتی تحریکوں کے مقابل صوفی ازم کو لا رہے ہیں ۔۔۔اب دوبارہ سے اس نکتے پر غور کیجئے اور موجودہ بحث سے ذرا اوپر اٹھ کے سوچیے ۔۔۔۔۔

ابوبکر قدوسی