ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ترکی کی فورسز بہت جلد شام کے شہر عفرین کا محاصرہ کرلیں گی۔

شامی فورسز عفرین میں داخل ہورہی ہیں— فوٹو: اے ایف پی

خیال رہے کہ ترکی کی جانب سے سرحد پار کردش ملیشیا کو نشانہ بنانے کا سلسلہ دوسرے ماہ میں داخل ہوچکا ہے اور 20 جنوری کو انقرہ کی جانب سے کردوں سے تعلق رکھنے والے عوامی تحفظ یونٹ (وائی پی جی) کے خلاف شامی باغیوں کی حمایت کے لیے عفرین اور شمالی شام کے حصوں میں زمینی اور فضائی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کا خیال ہے کہ وائی پی جی کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی شاخ ہے، جو 1984 سے ترکی کی ریاست کے خلاف بغاوت کر رہی ہے۔

رجب طیب اردگان کی جانب سے پارلیمان میں خطاب کے دوران کہا گیا کہ ’آنے والے دنوں میں ہم با آسانی عفرین کے مرکزی حصے کا محاصرہ کرلیں گے‘۔

تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی اور انقرہ کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے مختصر پیش قدمی کی ہے جبکہ رجب طیب اردگان کی جانب سے آپریشن کی پیش رفت کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا کہ فوج اپنے دستوں اور عام شہریوں کی جان خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتی۔

رجب طیب اردگان کی جانب سے کہا گیا کہ’ ہم وہاں جلانے کے لیے نہیں گئے تھے بلکہ ہمارے آپریشن کا مقصد اس جگہ کو ایک محفوظ اور قابل رہائش علاقہ بنانا ہے جہاں ترکی میں موجود شامی مہاجرین قابل فہم طریقے سے واپس جاسکیں گے‘۔

واضح رہے کہ 2011 سے جنگ سے متاثرہ شام کے 35 لاکھ سے زائد لوگ ترکی میں پناہ گزیر بن کر جاچکے ہیں۔

اس آپریشن کے بارے میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے شامی مبصرین کا کہنا تھا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک شامی باغیوں اور ترکی کی فورسز نے 45 دیہاتوں کا قبضہ حاصل کرلیا ہے، جس میں سے زیادہ تر عفرین کی سرحد پر ہیں۔

دوسری جانب ترکی کے سیکیورٹی تجزیہ کار عبداللہ آگر کا کہنا تھا کہ فوج کی ’اولِو برانچ‘ نے اس آپریشن میں حصہ لیا اور 300 کلو میٹر (120 اسکوائر مائلز) کا حصہ حاصل کرلیا ہے۔

تاہم مبصرین کے اعداد و شمار اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ ماہ کے دوران 205 شامی باغی، 219 وائی پی جی اور الائڈ فائٹز اور 112 شہری ہلاک ہوئے۔

اس بارے میں ترکی کی فوج کا کہنا تھا کہ جب سے یہ آپریشن کا آغاز ہوا ہے ان کی فوج کے 32 جوان ہلاک ہوئے جبکہ انقرہ کی جانب سے اس آپریشن میں عام شہریوں کی اموات کی سختی سے تردید کی گئی۔

دمشق کو انتباہ

دوسری جانب پیرس میں سائنسز پو یونیورسٹی کی پولیٹیکل سائنس پروفیسر جانا جبار کا کہنا تھا ترکی آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد کررہا کیونکہ وائی پی جی فورسز کی تنظیم اور ان کے عسکریت پسند موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بیان بازی، یہاں تک کہ سیاسی پروپیگینڈے اور زمینی حقائق کے درمیان فرق واضح ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق کے مطابق اس لڑائی کی توجہ کا مرکز اب شمالی عفرین میں عرب ویران کا علاقہ بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ حصہ حاصل کرلیا جاتا ہے تو انقرہ کی حامی فورسز کو ترکی کے ساتھ عفرین کی شمالی سرحد کا 50 کلو میٹر کا کنٹرول حاصل ہوجائے گا، تاہم یہ آپریشن مزید دشوار ہوتا دکھائی دے گا جب حکومتی حمایت یافتہ فورسز عفرین میں ترکی کے خلاف لڑنے کے لیے داخل ہوں گے۔

دمشق کو پیش آنے والے اس خطرے پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے خبر دار کیا کہ ہم کوئی مداخلت برداشت نہیں کریں گے، ’ہم ان کا راستہ روک دیں گے جو خطے یا شہر کے باہر سے مدد کرنے کے لیے یہاں آئے گا‘۔

بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کی جانب سے کوئی جنگجوؤں کو نہیں بھیجا جائے گا۔

شامی حکومت کی فورسز عفرین میں داخل
دریں اثناء غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ایک اور رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ شامی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز عفرین کے شمال مغربی حصے میں داخل ہوگئی ہیں تاکہ وہ ترکی کے خلاف لڑنے والی کردش ملیشیا کی مدد کرسکیں۔

شامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملیشیا جنگجوؤں کے قافلے شامی جھنڈے اور ہتھیار اٹھا کر عفرین میں داخل ہوئے جبکہ ترکی کی جانب سے شیل فائر کرکے انہیں نشانہ بھی بنایا گیا۔

اس بارے میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ قافلے دہشتگردوں کے تھے جو آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں اور ترکی کی فوج کی جانب سے ان پر اس لیے فائر کیا گیا تاکہ وہ واپس چلے جائیں، تاہم کردش ملیشیا نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔

علاوہ ازیں وائی پی جی کی جانب سے شامی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز کی آمد کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ یہ فورسز ترکی کی سرحد پر ان کے ہمراہ اگلے محاذ پر تعینات ہوں گی۔