شاید نہیں یقیناً ہم دنیا کی دلچسپ اور عجیب ترین قوم ہیں لیکن اس تبصرہ کی تفصیل بعد میں، پہلے آپ سے یہ خوش کن خبر شیئر کر لوں کہ حکومت حال مست اور سوئی ہوئی نہیں بلکہ پوری طرح الرٹ اور چوکنی ہے جس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا سے آئے ہوئے کسی اکانومسٹ کی عمران خان سے اوپر نیچے دو ملاقاتیں کرائی گئی ہیں اور اس کے لئے موصوف کو خصوصی طور پر لاہور سے اسلام آباد لے جایا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خود حکومت اقتصادی معاملات پر فکرمند، متذبذب اور کنفیوژڈ ہے۔ سرکاری ذرائع نے ’’دی نیوز‘‘ کو بتایا کہ متضاد مشوروں نے وزیراعظم کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی اقتصادی ٹیم میں تبدیلیوں والے آپشن پر غور کریں۔ اسی لئے آئی ایم ایف کے ایک سابق اہلکار مسعود احمد کو عمران خان کے ساتھ ملکی اقتصادی صورتحال پر خصوصی گفتگو کے لئے بذریعہ خصوصی طیارہ لاہور سے اسلام آباد لے جایا گیا۔قارئین!اس ایکسر سائز کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن حکومت پر میرا غصہ زیادہ نہیں تو آدھا ضرور ٹھنڈا پڑ گیا ہے کہ حکومت فکرمند ہے، صورتحال کی سنگینی سے آگاہ ہے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کی بجائے ہاتھ پائوں مار رہی ہے تاکہ ملک کو اس دلدل سے نکال سکے جو بتدریج گہری اور گھنی ہوتی جا رہی ہے۔میرے گزشتہ چند

کالم اور چند ٹی وی پروگرام اسی حوالہ سے بہت سخت اور تند و تیز تھے۔ میں نے یہاں تک دعویٰ کیا (جس پر اب بھی قائم ہوں) کہ اقتصادی حوالوں سے آنے والے دو تا ڈھائی مہینے اس حکومت کے لئے فیصلہ کن ہوں گے۔ میری ٹینشن اپنی جگہ، جو اب بھی قائم ہے لیکن میرا اصل غصہ یہ تھا کہ اسد عمر بدستور عمران کے اعصاب پر سوار کیوں ہے؟ کراچی کے کاروباریوں سے اسد عمر کا برپشم قلندر ہنستا مسکراتا بچگانہ سا خطاب سن کر یہ غصہ مزید بڑھ گیا جو اس خبر اور ملاقات کے بعد کچھ ٹھنڈا پڑا ہے کہ حکومت سوئی ہوئی نہیں، باہوش اور باخبر ہے۔ یہ غصہ ’’اچانک‘‘ ہرگز نہیں، اس کا ایک پس منظر ہے اور وہ یہ کہ جس طرح ٹاسک فورس پہ ٹاسک فورس بن رہی ہے، میں اس پر بھی بہت بری طرح جھنجھلایا ہوا تھا کیونکہ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ پی ٹی آئی ’’بارات‘‘ گھر پہنچ جانے پر ’’دلہن‘‘ کو مائیوں بٹھائے گی۔ PTIکی جدوجہد کے دوران مجھے ہمیشہ یہ یقین تھا کہ اس سے وابستہ ٹیکنو کریٹس اور پروفیشنلز خاموشی سے اپنے اپنے شعبوں میں دن رات کام کر رہے ہوں گے تاکہ حکومت میں آتے ہی مسائل کے حل کرنے پر توجہ دے سکیں اور کم سے کم وقت میں ملک کو موجودہ اقتصادی دلدل سے نکال سکیں کیونکہ بچہ بچہ جانتا تھا کہ ملکی معاشی حالت جیل کی دال سے بھی پتلی ہے لیکن جب یہ بم سر پر پھٹا کہ نالائقوں کا ٹولہ حکومت سنبھالنے کے بعد سوچ رہا ہے کہ کیا کیا جائے۔ غصہ تو تھا جو اب بھی ہے لیکن یہ بالکل ایسا ہی تھا اور ہے کہ کسی کو اچانک یہ ’’بریکنگ نیوز‘‘ ملے کہ اس کا لاڈلا کمرئہ امتحان میں پیپر دینے کی بجائے ’’تیاری‘‘ میں مصروف ہے یعنی امتحان میں 100فیصد ناکامی اس کا مقدر ہے۔ اس جلتی پر تیل یہ کہ اسد عمر رومانس ہی ختم نہیں ہو رہا۔نتیجہ یہ کہ میں آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا جو ایک فطری ردعمل تھا۔ اب واپس اس طرف چلتے ہیں کہ شاید نہیں یقیناً ہم دنیا کی دلچسپ اور عجیب ترین قوم ہیں کیونکہ میرے چند کالمز اور پروگرامز کا نتیجہ بھونچال کی صورت میں برآمد ہوا۔ ایسی افراتفری، سراسیمگی، سنسنی خیزی اور فون کالز پہ فون کالز کہ میری مت ماری گئی۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے نکال دی حالانکہ میرے نزدیک سب کچھ نارمل تھا اور نارمل بلکہ صحت مند ہے۔سیاسی جماعتیں، عبادت گاہیں نہیں ہوتیں اور نہ ہی سیاستدان پیر فقیر، اولیاء، اوتار اور بُت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مجھ جیسے بُتشکن کے لئے۔ کئی بار لکھ چکا ہوں کہ شخصیت پرستی ….بُت پرستی سے بڑا گناہ ہے کیونکہ بُتکی پوجا کے نتیجہ میں اس ’’بے جان‘‘ کا دماغ خراب نہیں ہوتا جبکہ شخصیت پرستی اس شخصیت کو ابنارمل کر دیتی ہے، اس کا دماغ خراب کر دیتی ہے جس کی قیمت پورے ملک اور قوم کو چکانی پڑتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی تباہی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ان میں لیڈرز نہیں دیوتا ہوتے ہیں۔ اختلاف اور اعتراض کو گناہ سمجھا جاتا ہے، تنقید کو گالی سمجھتے ہیں اور یہ رویہ بالآخر لیڈر شپ کو بھی ذلیل و رسوا کر دیتا ہے جس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ’’دی لیڈر‘‘ کے سامنے اس کے ساتھی نہیں چمپو، چامکے اور مالشیے ہوتے ہیں جو ان کی ہر قابلِ نفرت حرکت کا بھی بے شرمی سے دفاع کرتے کرتے لیڈر کے ساتھ ساتھ خود بھی غرق ہو جاتے ہیں۔اول تا آخر کمٹمنٹ کا محور و مرکز آپ کا ملک اور ہم وطن ہی ہونے چاہئیں، باقی سب کچھ ثانوی، بے معنی، بے وقعت اور وقتی ہے۔ اللہ اور رسول ؐ کے بعد غیر مشروط محبت، اطاعت اور وفا صرف اپنی مٹی اور ان افتادگان خاک کے ساتھ جنہیں عوام کہتے ہیں اور جنہیں نسل در نسل بُتوں اور زندہ بُتوں…. بے جان اور جاندار بُتوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔جو اپنے لیڈروں کے گریبان نہیں پکڑ سکتے، ان پر زمین تنگ ہو جاتی ہے اور آسمان نامہربان۔ نسل در نسل کشکول ان کی پہچان بنا رہتا ہے۔