چین کے ریاستی میڈیا کے مطابق چینی پولیس نے خوبصورت بنانے والی جعلی اشیا بیچنے والے ایک سپلائی نیٹ ورک کو پکڑ لیا ہے۔

زینوا نیوز ایجنسی کے مطابق اس نیٹ ورک نے گذشتہ چھ ماہ میں تقریباً ساڑھے چار ملین ڈالر کے جعلی بوٹوکس اور وٹامن سی کے انجیکشن بیچے ہیں۔

اس کیس میں اب تک پانچ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے۔

خیال ہے کہ چین میں بیوٹی کی جعلی مصنوعات کی خرید و فروخت عام ہے۔

گذشتہ ستمبر حکام کو چانگدے شہر میں ایک بیوٹی پارلر کے معائنے کے دوران جعلی اشیا ملی تھیں۔

جب یہ پتہ چلانے کی کوشش کی گئی کہ بیوٹی پارلر نے یہ اشیا کہاں سے خریدیں تو جلن صوبے میں زو نام کے ایک شخص کا پتہ چلا جو میسجنگ ایپ ’وی چیٹ‘ کے ذریعے انھیں فروخت کرتا تھا۔

جب پولیس نے زو کے گودام پر چھاپہ مارا تو انھیں ہائیلورونک ایسڈ کی 2300 بوتلیں ملیں۔ اس ایسڈ کو سکن کیئر مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بیوٹی کی جعلی اشیا کو قبضے میں لیا گیا۔

ان کے ہاتھ زو کا شپنگ ریکارڈ بھی لگا جس سے پتہ چلا کہ وہ یہ مصنوعات 10 مختلف ممالک کو بھیجتا تھا۔

زو کو دو دیگر افراد کے ساتھ جعلی اور غیر قانونی مصنوعات بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

چین پلاسٹک سرجری کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں سے ایک ہے اور یہاں غیر جراحی علاج کی بھی بڑی مانگ ہے۔

چینی انتظامیہ نے پہلے بھی بیوٹی کی جعلی مصنوعات کے خطرات کے متعلق وارننگ دی تھی۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب بیوٹی آپریشن کے بعد کئی مریضوں کی حالت بگڑ گئی اور انھیں ہسپتال لے جانا پڑا۔

BBCURDU