پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی نعیم الحق 70 برس کی عمر میں کینسر کے مرض سے جنگ ہار گئے۔

نعیم الحق 11 جولائی 1949 کو کراچی میں پیدا ہوئے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بینکنگ کے شعبے کا انتخاب کیا اور کاروبار بھی کیا۔ انہوں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹر اور وکالت کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی، وہ نیویارک، یو این پلازہ میں این بی پی کی شاخ قائم کرنےوالی ٹیم کاحصہ رہے۔

نعیم الحق نے1980میں بطورمرچنٹ بینکرلندن میں رہائش اختیارکی، بعد ازاں وہ ایروایشیا کمپنی کے میجنگ ڈائریکٹر بنے، اس کے بعد انہوں نے میٹروپولیٹن اسٹیل میں چیئرمین کے عہدے پر بھی کام کیا۔

لندن میں رہائش کے دوران 80کی دہائی میں نعیم الحق کی عمران خان سےملاقات ہوئی جو دوستی میں تبدیل ہوگئی، انہوں نے 1984میں تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی اور لندن سے کراچی منتقل ہوگئے۔ نعیم الحق نے1988میں تحریک استقلال کے ٹکٹ پر اورنگی ٹاؤن سےالیکشن بھی لڑا۔

بعد ازاں انہوں نے 1996 عمران خان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، 2008میں اہلیہ کےانتقال کے بعد پوری توجہ پی ٹی آئی پر مرکوز کی اور 25دسمبر2011کو کراچی میں عظیم الشان جلسہ کر کے دکھایا۔ عمران خان نے نعیم الحق کو تحریک انصاف کی کور کمیٹی اور انفارمیشن سیکریٹری کا عہدہ بھی دیا۔

سیاسی جدوجہد کے دوران انہیں 2018 میں کینسر کے مرض کی تشخیص ہوئی مگر وہ جماعت میں متحرک کردار ادا کرتے رہے اور مرکزی رہنما کی حیثیت سے امور انجام دیتے رہے، علاوہ ازیں انہوں نے بطور مرکزی سیکرٹری اطلاعات کراچی اور پی ٹی آئی کراچی کے صدر  کے طور پر بھی  فرائض سرانجام دے چکے تھے۔

نعیم الحق نے 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے لیے متحرک کردار ادا کیا، انتخابات میں کامیابی کے بعد نعیم الحق کو وزیراعظم عمران خان کا معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور مقرر کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جب سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تو نعیم الحق نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور وہ آخری دن تک اسی جماعت سے وابستہ رہے، انہوں نے 23 سالہ جدوجہد میں ہر مشکل وقت میں وزیراعظم عمران خان کا ساتھ دیا۔