ڈھاکا: بنگلا دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ شہریت کا قانون سمجھ سے باہر ہے، ہمیں سمجھ نہیں بھارت نے ایسا کیوں کیا؟ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ مودی سرکار نے بھی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہمیں سمجھ نہیں بھارت نے ایسا کیوں کیا؟

اپنے انٹرویو میں شیخ حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش میں اس وقت دس اعشاریہ سات فیصد ہندو آباد ہیں اور بھارت سے ہمارے ملک میں ہجرت کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ تاہم انڈیا میں رہنے والے افراد کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ بنگلا دیشی وزیراعظم کے یہ ریمارکس وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے ہندوستان میں ملک گیر احتجاج کو تشویشناک قرار دیا تھا۔

وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم بھارت کے نمبر ون دوست ہیں۔ مودی سرکار نے ہمیں بار بار یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ این آر سی اور سی اے اے ان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ہمیں تشویش ہے کہ اگر بھارت کی غیر یقینی صورتحال کا اس کے ہمسایوں پر اثر ہو سکتا ہے۔