نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شرح میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صفائی کی ملازمت کا اشتہار شائع ہوتے ہی انجینئرنگ سمیت بہت سے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے اس کیلئے درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق انڈیا کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں خاکروبوں کی 14 آسامیوں کے لئے اشتہار شائع دیا گیا تو اس کے جواب میں 4600 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔

درخواست دینے والوں میں بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کی ہے جن میں انجینئرنگ گریجویٹس، ایم بی اے، کامرس، آرٹس اور سائنس میں ڈگری اور ڈپلوما رکھنے والے کی ہے۔

تاہم دھیان رہے کہ خاکروب کے اس عہدہ کے لئے لازمی صلاحیت امیدوار کا صرف صحت مند ہونا ہے اور کسی تعلیمی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ ماہانہ تنخواہ پندرہ ہزار روپے ہے۔

اںڈیا میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خاکروب کی نوکری کے خواہشمندوں میں اعلی تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل پچھلے دنوں اترپردیش میں چپڑاسی کے 62 عہدوں کے لئے 93 ہزار اور مہاراشٹر اسمبلی کی سکریٹریٹ کی کینٹین میں 13 ویٹرز کے لئے 7 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ اِن میں ڈاکٹریٹ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے بھی شامل تھے۔