بھارتی میڈیا کا ایک اور دعویٰ غلط نکلا، کالعدم جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے انتقال کی خبر جھوٹ نکلی۔

بھارتی میڈیا نے پاکستان میں کالعدم جماعت جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے انتقال کی خبریں چلادی ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا انتقال 2 مارچ کو ہوا ہے۔

بھارتی میڈیا نے مولانا مسعود اظہر کی موت کی وجہ ایئراسٹرائیک قرار دی جب کہ بعض میڈیا گروپس نے جگر کے کینسر کے باعث ان کے انتقال کی خبر نشر کی ہے۔

بھارتی میڈیا کی یہ خبر بھی جھوٹ کا پلندہ نکلی اور قریبی ذرائع نے مسعود اظہر کے اہل خانہ کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

اس حوالے سے شاہ محمود قریشی نے جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسعوداظہر کے انتقال کی مجھےکوئی اطلاع نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں الیکشن کی وجہ سے پاکستان سےکشیدگی بھارت کی سیاسی ضرورت ہے، پلوامہ حملے کے حوالے سے بھارت سے ملنے والے ڈوزیئر کی جانچ کی جا رہی ہے پھر جواب دیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کیلئے بات چیت ضروری ہے، کچھ تنظیموں پر بھارت کو اعتراض ہے، مقبوضہ کشمیر میں بعض قوانین پر پاکستان کو اعتراض ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایوان میں مولانا مسعود اظہر سےمتعلق بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مسعود اظہر پاکستان میں ہیں اور بہت بیمار ہیں، گھر سے نہیں نکل سکتے، اگر بھارت مسعود اظہر سے متعلق شواہد دیتا ہے جو پاکستان کی عدالتوں کو قبول ہوں، تو ہم سے شیئر کرے، ہم عوام اور عدالت کو قائل کریں گے، ہمیں قانونی عمل کو مطمئن کرنا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی میڈیا مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں غاصب بھارتی فوجیوں پر حملے کے بعد سے ہی منظم انداز میں نریندر مودی کے جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے اور مسلسل من گھڑت خبریں نشر کررہا ہے۔

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کا پس منظر

14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خود کش حملہ ہوا تھا جس میں 45 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے حملہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شروع کردیا تھا۔

اس کے بعد 26 فروری کو شب 3 بجے سے ساڑھے تین بجے کے قریب تین مقامات سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی جن میں سے دو مقامات سیالکوٹ، بہاولپور پر پاک فضائیہ نے ان کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی تاہم آزاد کشمیر کی طرف سے بھارتی طیارے اندر کی طرف آئے جنہیں پاک فضائیہ کے طیاروں نے روکا جس پر بھارتی طیارے اپنے ‘پے لوڈ’ گراکر واپس بھاگ گئے۔

پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اس اشتعال انگیزی کا پاکستان اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر جواب دے گا، اب بھارت پاکستان کے سرپرائز کا انتظار کرے۔

بعد ازاں 27 فروری کی صبح پاک فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول پر مقبوضہ کشمیر میں 6 ٹارگٹ کو انگیج کیا، فضائیہ نے اپنی حدود میں رہ کر ہدف مقرر کیے، پائلٹس نے ٹارگٹ کو لاک کیا لیکن ٹارگٹ پر نہیں بلکہ محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر اسٹرائیک کی جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے پاس جوابی صلاحیت موجود ہے لیکن پاکستان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جو اسے غیر ذمہ دار ثابت کرے۔

جب پاک فضائیہ نے ہدف لے لیے تو اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے 2 جہاز ایک بار پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کی طرف آئے لیکن اس بار پاک فضائیہ تیار تھی جس نے دونوں بھارتی طیاروں کو مار گرایا، ایک جہاز آزاد کشمیر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا۔

پاکستان حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو پاکستان نے حراست میں لیا جس کا نام ونگ کمانڈر ابھی نندن تھا جسے بعد ازاں پروقار طریقے سے واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

جیو نیوز