آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں 1.3 ارب انسان بستے ہیں۔ رواں برس فروری میں بھارت میں وزارت ریلوے نے ہاتھ سے کام کرنے والے کاری گروں کے لیے مختلف نوعیت کی 90 ہزار اسامیوں کا اعلان کیا جس کو تاریخ کا سب سے بڑا اشتہار شمار کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے 2.8 کروڑ افراد نے درخواستیں دیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ ماہانہ 300 ڈالر کے قریب تنخواہ کی ہر اسامی کے لیے اوسطا 3 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے دوڑ لگائی۔

سرکاری سیکٹر کی ملکیتIndian Railwais نے جو کہ 172 برس قائم ہوئی تھی کچھ عرصہ قبل اعلان کیا کہ اس نے محکمے کو بڑے پیمانے پر جدید بنانے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔ اس منصوبے پر 130 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ انڈین ریلویز میں اس وقت 14 لاکھ ملازمین کام کر رہے ہیں۔ مسافروں اور سامان کے نقل و حمل کے لیے ادارے کے پاس 3 لاکھ کے قریب بوگیاں ہیں۔

گزشتہ برس بھارتی ریلوے اتھارٹی کی مجموعی آمدن 29 ارب ڈالر کے قریب رہی جس میں خالص منافع 98 کروڑ ڈالر تھا۔ اتھارٹی کے مطابق وہ 26 ہزار نئے ٹرین ڈرائیوروں اور ٹیکنیکل اہل کاروں کو بھرتی کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے علاوہ قُلی ، لوہار اور کچرا جمع کرنے جیسے کاموں کے لیے بھی مزید 63000 افراد کو ملازمت دی جائے گی۔ ان افراد کی عمر 18 سے 31 برس تک ہونی چاہیے۔

https://youtu.be/G5u68LF1I74

سال 2017ء میں بھارتی ریلویز میں رجسٹر ہونے والے مسافروں کی تعداد 10 ارب سے زیادہ رہی۔ شاید اتنی بڑی تعداد کا سن کر کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی ہو۔ تاہم اگر انسانوں سے کھچا کھچ بھری بھارتی ٹرینوں کی وڈیوز پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں تِل دھرنے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔

بھارتی اخبار “نَوا بھارت” کے مطابق اگر ریلوے اتھارٹی نئی اسامیوں کے لیے عمر کی آخری حد 40 برس کر دیتی تو ان 90 ہزار اسامیوں کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد 2.8 کروڑ سے بڑھ کر 4 کروڑ ہو جاتی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ہر اسامی کے لیے درخواست فارم 57 صفحات پر مشتمل ہے اور درخواست دینے والے کو تمام خانے پُر کرنے ہوں گے۔