بھارت کے مفرور ارب پتی “باوا گوٹھو رگھو رام شیٹی” عُرف بی آر شیٹی نے تقریبا ایک ہفتہ قبل اپنے دھماکا خیز اعلان میں کہا تھا کہ کرونا کی وباء ختم ہونے کے بعد وہ متحدہ عرب امارات واپس لوٹ آئیں گے۔

بی آر شیٹی ایک معروف ہیلتھ گروپ ‘NMC’ کے بانی ہیں۔ ان پر برطانیہ میں دھوکا دہی اور فوج داری نوعیت کے مقدمات چل رہے ہیں۔

شیٹی کی کہانی 3 مئی 1973 سے شروع ہوتی ہے جب انہوں نے روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات کے درالحکومت ابوظبی میں قدم رکھا۔ اس وقت شیٹی کی جیب میں صرف 7 امریکی ڈالر کی رقم تھی۔

شیٹی کے مطابق ابوظبی آنے کی بنیادی وجہ مال کما کر 1.5 لاکھ روپے کا قرضہ اتارنا تھا۔ یہ قرضہ شیٹی کے گھر والوں نے ان کی بہن کی شادی اور شیٹی کی انتخابی مہم کے واسطے لیا تھا۔ وہ کرناٹکا ریاست میں ایک میونسپلٹی کے نائب سربراہ منتخب ہو گئے تھے۔

ابوظبی میں شیٹی نے سوپر مارکیٹ میں ڈلیوری مین کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ “میں بھاری کارٹنوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر ان کے مالکان تک پہنچایا کرتا تھا۔ مجھے پہلی تنخواہ 500 درہم ملی۔ یہ رقم میں نے اپنی والدہ کو بھارت بھیج دی تا کہ وہ قرضے کی پہلی قسط ادا کر دیں”۔

اگلے 18 ماہ میں شیٹی خاندانی قرضے کو چکانے میں کامیاب ہو گئے۔

شیٹی کے مطابق 1975 میں انہیں تجارتی بنیادوں پر یہ خیال آیا کہ وہ زائد سٹی کے علاقے میں دو کمروں کے اپارٹمنٹ کے اندر ایک کلینک اور فارمیسی قائم کر لیں۔ انہوں نے اس خیال کو عملی جامہ پہنایا۔ اس طرح نیو میڈیکل سینٹر NMCمیں ایک جنرل فزیشن اور ایک دانتوں کے ڈاکٹر کے علاوہ مکمل طور پر تیار ایک لیب بھی بن گئی۔ شیٹی کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ منصوبہ اُس وقت کے خلیج کمرشل بینک سے 30 لاکھ درہم کا قرضہ لے کر شروع کیا۔

سال 1980 میں شیٹی نے اپنے کاروبار کو متنوع بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک غیر ملکی منی ایکسچینج (UAE Exchange) کے نام سے قائم کیا۔ یہاں تک کہ 2014 تک کمپنی کی ٹرانسفر کردہ رقم کا حجم 26 ارب ڈالر کے قریب ہو گیا۔

سال 2003 میں شیٹی نے فارماسوٹیکل لوازمات تیار کرنے کے لیے ابوظبی میں “نيوفارما” کے نام سے فیکٹری لگائی۔ سال 2015 میں اس کی مارکیٹ ویلیو دو ارب ڈالر کے قریب تھی۔ اسی سال کمپنی نے لندن میں وائم فوریکس کمپنی ٹریولیکس کے حصص خریدے۔ ان کی قیمت ایک ارب پاؤنڈ تھی۔

سال 2012 میں NMC کمپنی لندن کے اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹر ہو گئی۔ سال 2018 کے دوران لندن ایکسچینج میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 9.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

سال 2015 سے 2018 کے درمیان کا عرصہ بی آر شیٹی اور ان کے این ایم سی گروپ کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔ اس دوران گروپ نے بھاری قرضوں کے ذریعے اپنا دائرہ کار وسیع کر لیا۔ اسی عرصے میں گروپ نے شارقہ میں الزہراء ہسپتال کو 32.2 کروڑ ڈالر کے عوض خرید لیا۔

مارچ 2018 میں ابوظبی کے علاقے خلیفہ سٹی میں شیٹی کے گروپ کے زیر انتظام “NMC” رائل ہسپتال کا افتتاح ہوا۔ یہ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی زمین پر بننے والا پہلا ہسپتال تھا۔ اسی سال دبئی میں بھی این ایم سی گروپ کو میڈیکل سٹی قائم کرنے کے لیے زمین دی گئی۔

بی آر شیٹی اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو بڑی حد تک قریب رکھتے تھے۔ ان کے بھائی سدھیر شیٹی متحدہ عرب امارات ایکسچینج کمپنی کے سربراہ ہیں۔ اسی طرح پرسانت منگٹ این ایم سی گروپ کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے بھارتی اس ارب پتی کاروباری شخصیت کی ٹیم میں اعلی عہدوں پر فائز رہے۔

شیٹی نے ایک ضخیم سلطنت قائم کر ڈالی جو صحت، تعلیم اور منی ٹرانسفر کے میدان میں سرگرم رہی۔ اس سلطنت کے ذریعے برطانیہ کے علاوہ یورپ، خلیج اور بھارت میں اربوں ڈالر قیمت کی درجنوں کمپنیاں خرید لی گئیں۔

شیٹی برج خلیفہ میں رہائش کے بھی مالک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “لوگ اسے خریدنے کے لیے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں تاہم میں یہ ہر گز فروخت نیں کروں گا”۔

شیٹی کا کہنا ہے کہ “میں وطن سے روانہ ہو رہا تھا تو میری ماں نے کہا کہ تھا کہ بیٹا تُو جو چاہے وہ کرنا مگر ہر کام میں سماج کی خدمت کے واسطے اپنا ہاتھ کھلا رکھنا .. لہذا میں یہ تین کام صحت کی نہگداشت، تعلیم اور منی ٹرانسفر ،،، سب سماج کی مدد کے لیے کر رہا ہوں”۔

بھارتی ارب پتی بی آر شیٹی تمام عمر دوسروں کے لیے مددگار بننے کا درس دیتے رہے۔ تاہم اس کے برعکس اب وہ جہاز کے ڈوبنے سے قبل ہی چھلانگ لگا کر باہر آ گئے۔ اپنے این ایم سی گروپ کو بچانے کے لیے اس پر 6.6 ارب ڈالر کے قرضے کی ادائیگی میں مدد کے بجائے شیٹی ابھی تک بھارت میں ہیں اور وہ امارات واپس نہیں آئے۔ اس سے قبل شیٹی اور ان کے گھر والوں کے مالی اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔