شادی بیاہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ عمر بھر کا تعلق استوار کرنے سے پہلے نوجوانوں کے ذہن میں بہت سے سوال ہوتے ہیں اور کئی طرح کی مشکلات ان کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔ آپ بھی ضرور ان سوالات و مشکلات سے آگاہ ہوں گے البتہ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کو جو مسئلہ درپیش ہے

وہ ضرور منفرد اور حیران کن ہے۔ ویب سائٹ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سماجی مشیر اسد شفیع کے سامنے اس لڑکی نے اپنا مسئلہ کچھ یوں بیان کیا ہے:ڈیئر اسد، میں دو بھائیوں کے معمے میں پھنسی ہوئی ہوں اور نہیں جانتی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میری فیملی آسٹریلیا میں رہتی ہے لیکن میں آٹھ سال تک اپنے والد کے رشتہ داروں کے ہاں کراچی میں مقیم رہی۔

انہوںنے اس تمام عرصے کے دوران میرے ساتھ بہت اچھا سلوک روا رکھا۔ ان کے دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک مجھ سے بڑا اور دوسرا مجھ سے چھوٹا ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران میری اس خاندان اور خصوصاً ان کے چھوٹے بیٹے کے ساتھ بہت انسیت ہوگئی تھی۔ وہ مجھ سے پانچ سال چھوٹا ہے لیکن ہم ایک دوسرے کو بہت پسند کرنے لگے۔

میں جانتی ہوں کہ اس معاشرے میں عمر کے اس فرق کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اگرچہ آسٹریلیا میں یہ عام بات ہے۔پانچ سال تک میں کراچی میں رہی اور پھر اپنے والدین کے پاس آسٹریلیا آگئی۔ ہمارا تعلق کچھ عرصے تک تو قائم رہا لیکن پھر دوریاں بڑھتی گئیں اور تقریباً ایک سال بعد اس نے یہ تعلق بالکل ختم کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے والدین اس رشتے کے لئے کسی طور راضی نہیں ہوں گے۔

اس کے فیصلے نے مجھے پاش پاش کردیا۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ اتنا وقت اکٹھے گزارنے کے بعد وہ مجھے یوں چھوڑ دے گا، لیکن بالآخر میں نے بھی اس تلخ حقیقت سے سمجھوتہ کرلیا۔

اب میری زندگی میں ایک اور موڑ آ گیا ہے۔ ہوا کچھ یوں ہے کہ میرے لئے اس کے بڑے بھائی کا رشتہ آگیا ہے۔ مجھے کبھی اس میں دلچسپی نہیں رہی تھی لیکن اب سوچتی ہوں کہ شاید وہ میرے لئے ایک اچھا شریک سفر ثابت ہوسکتا ہے۔ میری عمر 27سال ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ میرے حالات کے مطابق یہ میرے لئے اچھا رشتہ ہے۔

میرے والدین بھی اس کے لئے راضی ہیں، لیکن اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ میرا سابقہ تعلق ایک ایسا راز ہے جسے اور کوئی نہیں جانتا۔بڑا بھائی میرے ساتھ شادی کا خواہشمند ہے لیکن چھوٹا اس پر بھی خوش نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر میں اس کے بھائی کی شریک حیات بنوں گی تو اسے اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا کیونکہ وہ مجھے اپنی بھابھی کے روپ میں نہیں دیکھ سکتا۔

وہ خود تو میرے ساتھ شادی پر تیار نہیں ہوا، لیکن اپنے بھائی کے ساتھ میری شادی پر بھی راضی نہیں۔ کیا مجھے اس کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کر دینا چاہیے؟ مجھے یہ خدشہ بھی ہے کہ میرے سابقہ تعلق کا راز کبھی نہ کبھی فاش ہوجائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ لڑکی ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ایک شخص اس کے ساتھ بے وفائی کر چکا ہے اور اسی کا بڑا بھائی اس سے شادی کا خواہاں ہے، لیکن وہ ان دونوں کے سابقہ تعلق سے لاعلم ہے۔ سماجی مشیر اسد شفیع تو کہتے ہیں کہ وہ اس رشتے کو قبول کر لے کیونکہ جو شخص اس سے بے وفائی کر چکا ہے اس کی وجہ سے یہ رشتہ ٹھکرانا دانشمندی نہیں۔ اب آپ ہی بتائیے اسے کیا کرنا چاہئیے؟

اداکارہ حریم فاروق اوراداکار علی رحمن خان اپنی فلم ”پرچی “ کی کامیاب نمائش پربہت خوش ہیں۔تفصیلات کے مطابق د ونوں فنکار فلم کی پروموشنل شوٹ کیلئے گزشتہ روز ایک ٹرک اڈے پر پہنچ گئے۔

جہاں انہوں نے شوٹ کروایا۔ حریم فاروق کی چائے والی کے روپ میں تصاویر سوشل میڈیا پرخوب وائرل ہورہی ہیں۔ واضح رہے کہ فلم پرچی پہلی پاکستانی فلم ہے جو سعودی عرب کے سینما گھروں میں بھی دکھائی جائیگی۔

قصور واقعے سے متعلق پولیس کا ملزم کا جاری کیا گیا خاکہ غلط نکلا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا خاکہ جلدبازی میں تیار کیا گیا۔ وڈیو میں نظر آنیوالا شخص جاری کیے گئے خاکے سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ملزم کا خاکہ اہل علاقہ سے لی گئی معلومات کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔ ‎

شام میں جاری قتل و غارت کے بارے میں آئے روز کوئی نئی رپورٹ سامنے آتی ہے اور ہر نیا انکشاف پہلے انکشافات سے کہیں زیادہ لرزہ خیزثابت ہوتا ہے۔ ایک ایسی ہی دل ہلا دینے والی داستان انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی رپورٹ میں بیان کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں شام کے ان خفیہ قید خانوں کا ذکر کیا گیا ہے جہاں پچھلے پانچ سال کے دوران تقریباً 18 ہزار لوگ وحشیانہ تشدد ، بھوک اور بیماریوں کے باعث لقمہ اجل بن گئے ہیں اور دنیا کو اس المیے کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔

شادی بیاہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ عمر بھر کا تعلق استوار کرنے سے پہلے نوجوانوں کے ذہن میں بہت سے سوال ہوتے ہیں اور کئی طرح کی مشکلات ان کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔ آپ بھی ضرور ان سوالات و مشکلات سے آگاہ ہوں گے البتہ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کو جو مسئلہ درپیش ہے

وہ ضرور منفرد اور حیران کن ہے۔ ویب سائٹ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سماجی مشیر اسد شفیع کے سامنے اس لڑکی نے اپنا مسئلہ کچھ یوں بیان کیا ہے:ڈیئر اسد، میں دو بھائیوں کے معمے میں پھنسی ہوئی ہوں اور نہیں جانتی کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میری فیملی آسٹریلیا میں رہتی ہے لیکن میں آٹھ سال تک اپنے والد کے رشتہ داروں کے ہاں کراچی میں مقیم رہی۔

انہوںنے اس تمام عرصے کے دوران میرے ساتھ بہت اچھا سلوک روا رکھا۔ ان کے دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک مجھ سے بڑا اور دوسرا مجھ سے چھوٹا ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران میری اس خاندان اور خصوصاً ان کے چھوٹے بیٹے کے ساتھ بہت انسیت ہوگئی تھی۔ وہ مجھ سے پانچ سال چھوٹا ہے لیکن ہم ایک دوسرے کو بہت پسند کرنے لگے۔

میں جانتی ہوں کہ اس معاشرے میں عمر کے اس فرق کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اگرچہ آسٹریلیا میں یہ عام بات ہے۔پانچ سال تک میں کراچی میں رہی اور پھر اپنے والدین کے پاس آسٹریلیا آگئی۔ ہمارا تعلق کچھ عرصے تک تو قائم رہا لیکن پھر دوریاں بڑھتی گئیں اور تقریباً ایک سال بعد اس نے یہ تعلق بالکل ختم کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے والدین اس رشتے کے لئے کسی طور راضی نہیں ہوں گے۔

اس کے فیصلے نے مجھے پاش پاش کردیا۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ اتنا وقت اکٹھے گزارنے کے بعد وہ مجھے یوں چھوڑ دے گا، لیکن بالآخر میں نے بھی اس تلخ حقیقت سے سمجھوتہ کرلیا۔

اب میری زندگی میں ایک اور موڑ آ گیا ہے۔ ہوا کچھ یوں ہے کہ میرے لئے اس کے بڑے بھائی کا رشتہ آگیا ہے۔ مجھے کبھی اس میں دلچسپی نہیں رہی تھی لیکن اب سوچتی ہوں کہ شاید وہ میرے لئے ایک اچھا شریک سفر ثابت ہوسکتا ہے۔ میری عمر 27سال ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ میرے حالات کے مطابق یہ میرے لئے اچھا رشتہ ہے۔

میرے والدین بھی اس کے لئے راضی ہیں، لیکن اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ میرا سابقہ تعلق ایک ایسا راز ہے جسے اور کوئی نہیں جانتا۔بڑا بھائی میرے ساتھ شادی کا خواہشمند ہے لیکن چھوٹا اس پر بھی خوش نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر میں اس کے بھائی کی شریک حیات بنوں گی تو اسے اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا کیونکہ وہ مجھے اپنی بھابھی کے روپ میں نہیں دیکھ سکتا۔

وہ خود تو میرے ساتھ شادی پر تیار نہیں ہوا، لیکن اپنے بھائی کے ساتھ میری شادی پر بھی راضی نہیں۔ کیا مجھے اس کی وجہ سے اس رشتے سے انکار کر دینا چاہیے؟ مجھے یہ خدشہ بھی ہے کہ میرے سابقہ تعلق کا راز کبھی نہ کبھی فاش ہوجائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟