ڈھاکا: بنگلا دیش میں خونی انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے، ووٹوں کی گنتی جاری ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو برتری حاصل ہو گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بنگلا دیش میں عام انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔

پُر تشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی۔

دوسری طرف اپوزیشن نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

دریں اثنا بنگلا دیش میں عام انتخابات کے دوران پُر تشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے، سخت سیکورٹی کے با وجود خوں ریز واقعات نے جنم لیا، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کی گئی۔

خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ کئی پولنگ اسٹیشنز پر حسینہ واجد کی حکومتی جماعت کے کارکنوں نے قبضہ جما لیا تھا۔

یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ شیخ حسینہ واجد کو بی این پی کی زیرِ قیادت قائم اتحاد وزراتِ عظمیٰ کی دوڑ سے باہر کر سکتا ہے، دوسری طرف انتخابات کا اعلان ہوتے ہی بنگلا دیشی عدالت نے اپوزیشن جماعت بی این پی کی سربراہ و سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا سمیت 17 سربراہوں کو کرپشن اور دیگر الزامات کے تحت جیل بھیج دیا تھا، خالدہ ضیا 17 برس قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔