دو دن پہلے دوستوں کی ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی، ہم اس پر کڑھ رہے تھے کہ نجانے بطور قوم ہم اس قدر غیر ذمے دار اور لاابالی کیوں بن چکے ہیں کہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں، اسے بے ڈھنگے پن سے بگاڑ دیتے ہیں۔ فائدہ پہنچنے کا امکان ہو تب بھی ہمارے حصے میں نقصان ہی آتا ہے۔ مثالیں تو بے شمار دی جاسکتی ہیں، مگر ہماری بحث حالیہ کوالامپور کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کی عدم شمولیت کے حوالے سے تھی۔ یہ پورا معاملہ بدترین مس ہینڈلنگ کا شاخسانہ ہے۔

ذاتی طور پر میں اس کے حق میں ہوں کہ ہمیں سعودی عرب کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو قائم رکھنا چاہیے۔ ہمارے معاشی حالات ایسے نہیں کہ مس ایڈونچر کیا جائے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے بدترین معاشی بحران میں دل کھول کر مدد دی۔ اربوں ڈالرڈیپازٹ کرائے۔ تین سال میں نو ارب ڈالر موخر پیمنٹ والے تیل کی فراہمی بذات خود بڑے ریلیف سے کم نہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے خصوصی باہمی تعلقات میں بعض اوقات موخر پیمنٹ کا مطلب ایک طرح سے کچھ نہ دینا بھی رہاہے۔ حساب دوستاں درِ دل والا معاملہ سمجھئے۔ سعودی عرب کے ساتھ متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کی کھلے دل سے مالی مدد کی۔ ان تمام پہلوئوں کو ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔ کوئی نادان حکمران ہی ان نزاکتوں اور حساسیت کو نظرانداز کر سکتا ہے۔

ہم سعودی عرب کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے، یہ بات اپنی جگہ درست، مگر ہمیں معاملات اس ڈگر تک بلا سوچے سمجھے نہیں لے جانے چاہیے تھے کہ دو مشکل چوائسز میں سے ایک کو اپنانا پڑے۔ پاکستانی حکومت اور منصوبہ سازوں کو پہلے ہی اندازہ کر لینا چاہیے تھا کہ ملائشیا جس بڑے لیول پر مسلم سربراہ کانفرنس بلا۔ رہا ہے، ترکی کے علاوہ ایران اور قطر بھی نمایاں ترین ممالک ہیں، اس کے بارے میں سعودی عرب کی رائے کیا ہوگی؟وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ترک صدر طیب اردوان اور ملائشیائی لیڈر ڈاکٹر مہاتیر محمد کے ساتھ مل کر اسلاموفوبیا اور دیگر ایشوز کے حوالے سے ایک بڑا پلیٹ فارم بنانے کا عندیہ دیا تھا۔ اسلامو فوبیا پر الجزیرہ کی طرز کا ایک بڑاٹی وی چینل بنانے کا فیصلہ بھی کیا، جو بے بنیاد پروپیگنڈے کو کائونٹر کر سکے۔ عمران خان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی سادگی، بھولپن یا سخت الفاظ میں ناتجربہ کاری اور عاقبت نااندیشی موجود ہے۔ وہ ایشوز پر زیادہ گہرائی میں غور نہیں کر پاتے۔ فطری صلاحیت موجود نہیں یا اتنی عجلت میں ہوتے ہیں کہ چند منٹ غور وفکر کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے بیشتر فیصلوں کو بعد میں بدلنا پڑتا ہے۔ تقریر کرنے لگیں تو کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کہہ بیٹھیں گے جن سے تنازع کھڑا ہوجائے۔ خان صاحب کے حوالے سے ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی کم علمی، ناقص فہم کا انہیں بالکل اندازہ نہیں۔ وہ خود کو جینئس سے کم نہیں سمجھتے، ایسا دانشور جو زندگی کے تمام شعبوں پر گہری نظر رکھتا ہے، اہل علم سے مشاورت کی جسے کوئی حاجت نہیں۔ ان کی بیشتر غلطیوں، کمزور ٹیم اور آئے روز کے یو ٹرن کے پیچھے یہی عجلت، مشورہ نہ کرنے کی عادت اورغور وفکرسے پرہیز کارفرما ہے۔

اگر وہ وزارت خارجہ سے اس نئے منظرنامے پر تفصیلی سٹڈی کراتے، ماہرین سے مشاورت کرتے تو یقینی طور پر یہ نتیجہ اخذ کرتے کہ اگر پاکستان پرجوش انداز میں ملائشیا، ترکی کے اس Initiative کی طرف بڑھا تو یقینی طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت وغیرہ کو شدید تحفظات پیدا جائیں گے۔ یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں تھا کہ سعودی عرب ملائشیا کے اس اقدام کو اپنے لئے چیلنج تصور کرے گا، خاص کر جب ایران، قطر جیسے اینٹی سعودی عرب ممالک پیش پیش ہوں۔ اگر خان صاحب مشاورت کر لیتے، ان کا ہوم ورک اچھا ہوتا تو وہ احتیاط سے قدم بڑھاتے۔ سعودی عرب کوابتدا ہی سے اعتماد میں لیتے اور محتاط، نپے تلے انداز میں ملائشیاکے ساتھ معاملات چلاتے۔ ایسا نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اچانک، ہبردھبڑمیں سعودی عرب کی طرف دوڑ لگانا پڑی۔ اس کے بعد ہنگامی طور پرعمران خان کو ملائشیا کی سربراہ کانفرنس میں عدم شمولیت کا اعلان کرنا پڑا۔ ہمارے دوست دشمن سب یہ تماشا دیکھتے رہے۔ وزیراعظم اور ریاست پاکستان کی سبکی ہوئی۔ ملائشیااور ترکی دونوں نے کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیاتھا۔ بدقسمتی سے سعودی عرب کا کشمیر کے حوالے سے رویہ زیادہ مثبت نہ رہا، انہوں نے بھارتی وزیراعظم کواپنے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے بھی نوازا، حالانکہ مودی کو فسطائیت کا اعلیٰ ترین ایوارڈ ملنا چاہیے تھا۔ ترکی اور ملائشیا سعودی عرب کی نسبت کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے قریب کھڑے رہے۔ اب انہیں یقینی طور پر پاکستانی ردعمل سے مایوسی ہوئی ہوگی۔ عمران خان نے طیب اردوان اور ڈاکٹر مہاتیر سے فون پر معذرت کی ہے۔ دونوں کا رویہ مدبرانہ رہا۔ وہ پاکستان کو یقینا اکاموڈیٹ کریں گے۔ یہ بات مگر ہمیں سوچنا ہوگی کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ ریاستی رویے کے بعد کون سا ملک ہمارے ساتھ کھڑا ہونے کا سوچے گا؟ ہمیں سعودی عرب بمقابلہ ملائشیا، ترکی والی صورتحال کو نہایت دانش مندی اور سلیقے سے ڈیل کرنا چاہیے تھا، افسوس کہ ہم اس امتحان میں ناکام رہے۔

ابھی اس واقعے پر دکھ کی کیفیت طاری تھی کہ گزشتہ روز سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہوا۔ ایک جج صاحب نے شدت جذبات میں آ کر فیصلے میں یہ تک لکھ ڈالا کہ اگر پرویز مشرف سزا ملنے سے پہلے مر جائیں تو ان کی لاش تین دن کے لئے اسلام آباد کے ڈی چوک میں لٹکائی جائے۔ اس فیصلے سے ہر کوئی ہکا بکا رہ گیا۔ کوئی بھی یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ اتنے ہائی پروفائل کیس میں ایک سینئر جج صاحب کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ، کمزور اوربچکانہ قسم کا فیصلہ لکھا جائے گا۔ اعتزاز احسن جیسے سینئر اور سنجیدہ وکیل بھی چیخ اٹھے کہ یہ کیا ہے، ایسا فیصلہ کون لکھ سکتا ہے؟اٹارنی جنرل نے تو بہت سخت الفاظ استعمال کئے، دیگر سینئر وکلا میں سے کوئی بھی ان الفاظ کی حمایت نہیں کر پایا۔ حیرت ہوتی ہے کہ فاضل جج صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستانی آئین اور قوانین کے مطابق ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی لاش کو لٹکانے کی کیا تک اور جواز ہے؟ ایسا تو سینکڑوں سال پہلے جابر حکمران کیا کرتے تھے۔ جدیددنیا اور مہذب سماج میں ایسا خیال کسی کے ذہن میں آ کیسے سکتا ہے؟سوشل میڈیا پر بعض احباب نے کرامویل کی مثال دی، برطانیہ میں جس کی لاش قبر سے نکال کر سزا سنائی گئی۔ یہ مگر صدیوں پہلے کی بات ہے، تب توچڑیل ہونے کے الزام میں عورتوں کو جلا دیا جاتا تھا، غلامی کا ادارہ بھی پوری طرح موجود تھا، انسانی سماج میں اور بھی بہت سی شدت پسندانہ خرابیاں موجود تھیں۔ آج اپنے ہوش وحواس میں ایسی بات کون کر سکتا ہے؟فیصلے کا یہ ٹکڑا شدت پسندی، ازئیت پسندی اور انتہائی قسم کے ذاتی عناد کو ظاہر کرتا ہے۔ اس فیصلے سے پرویز مشرف کے خلاف آنے والا پورا فیصلہ مشکوک اور بے اعتبار ہوگیا ہے۔ فیصلہ ویسے بھی اکثریتی رائے سے ہوا۔ تین ججوں میں سے ایک نے مشرف کو بری کر دیا، دو نے سزا سنائی۔ ان میں سے ایک جج صاحب نے جو فیصلہ لکھا، دنیا کے کسی بھی عدالتی، قانونی نظام میں اسے ذرا برابر بھی وقعت یا اہمیت نہیں دی جائے گی۔ پرویز مشرف کو اس سے زیادہ بڑی مددفراہم نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ تو لگا جیسے قدرت نے بیمار ڈکٹیٹر پر رحم کھایا اور اسے اچانک ہی مظلوم کا درجہ دلا دیا۔ کہا جار ہا ہے کہ حکومت مذکورہ جج صاحب کے خلاف ریفرنس دائر کرنا چاہ رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا توقوی امکان ہے کہ ابتدائی سماعتوں میں سپریم جوڈیشل کونسل اپنا فیصلہ صادر کر دے گی۔ کیا ہم پاکستانی ہر معاملے میں مس ہینڈلنگ ہی کرتے رہیں گے؟جہاں ایک ڈکٹیٹر کوسزا دینے کا فیصلہ بھی ڈھنگ سے نہ لکھا جا سکے، وہاں اور کیا امید رکھی جائے