.
بحریہ ٹاؤن کراچی کی حالیہ ریفنڈ پالیسی ایک فریب سے زیادہ کچھ بھی نہیں. ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی میں میسر زمین نئی سکیم بنا کر مہنگے داموں بیچنا چاہتا ہے. سپریم کورٹ میں کیے گئے وعدے کے مطابق یہ زمین متاثرہ الاٹیوں کو ملنی چاہیے تھی. اس کے علاوہ ملک ریاض دوسرے شہروں میں بھی نئے پراجیکٹ شروع کرنا چاہتا ہے. اس لئے ملک ریاض تمام متاثرین کے منہ بند کرنا چاہتا ہے. تاکہ یہ لوگ سوشل میڈیا پر شور مچا کر اس کے نئے منصوبے ناکام نہ بنا دیں. ریفنڈ میں دیے گئے چیکوں کے کیش ہونے کا چانس بہت کم ہے..
یاد رہے کہ ملک ریاض نے جان بوجھ کر سپریم کورٹ سے غلط بیانی کی تھی کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے متاثرہ الاٹیوں کو16900 ایکڑ کے اندر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ ملک ریاض اس سے پہلے یہ واردات بحریہ ٹاون راولپنڈی فیز 9 کے الاٹیوں کے ساتھ کر چکا ہے۔جو پچھلے دس سال سے ریفنڈ کے لیے دھکے کھا رہے ہیں

متاثرین سےدرخواست ہے کہ ریفنڈ کے چکر میں نہ آتیں. بلکہ متبادل پلاٹ کے لیے مندرجہ ذیل نسخہ استعمال کریں.

  1. ہر متاثرہ شخص نئے آنے والے چیف جسٹس محترم جسٹس گلزار کو By Name خط لکھے کہ ملک ریاض کو حکم کریں کہ وعدے کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی میں میسر زمین سے متبادل پلاٹ الاٹ کرے.
  2. نیب کو شکایت لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے. پاکستان سٹیزن پورٹل پر ایف آئی اے کے نام متبادل پلاٹ حاصل کرنے کے لیے شکایت کرہں. ان شکایات کو عمران خان ذاتی طور پر ڈیل کرتا ہے.
    3- آرمی چیف جنرل باجوہ کو بھی خط لکھیں کہ بحریہ ٹاون میں کام کرنے والے تمام ریٹائرڈ آرمی افسران کو جنرل وارننگ جاری کریں کہ ملک ریاض کے اس فراڈ سے الگ ہوجائیں اور بحریہ ٹاؤن کی ملازمت چھوڑ دیں. ور نہ ان کے خلاف فوج جیسے مقدس ادارے کے وقار کو مجروح کرنے کے الزام میں پوسٹ ریٹائرمنٹ کورٹ ماشل کر دیا جایے گا. ان ریٹائرڈ افسروں کی مدد کے بغیر بحریہ ٹاؤن مفلوج ہو جائے گا. جو کہ ملک ریاض نہیں چاہتا.
    اللہ کے فضل سے اس وقت ملک ریاض کو حکومتی اور اسٹیبلشمنٹ کی سطح پر کسی بھی قسم کی سپورٹ نہیں ہے. بڑے بڑے چورون اور ڈاکوؤں کو سیدھا کرنے کے لیے عمران خان اور جنرل باجوہ کا نام ہے کافی ہے..
    اللہ کا شکر ہے کہ جنرل باجوہ ہی آرمی چیف رہیں گے. جب تک جنرل باجوہ اپنی سیٹ پر ہیں انشا اللہ ہمارا حق ہمیں ضرور ملے گا.
    آزمائش شرط ہے.
    نشاۃ پیج لائیک کریں اور اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں ڈاکٹر شفقت قمر راولپنڈی