نئی دہلی: اعلیٰ بھارتی وزیر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت، پاکستان میں کیے گئے فضائی حملوں کے کوئی شواہد پیش نہیں کرے گی جس میں بڑی تعداد میں ’جنگجو‘ ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ بھارت کے پاکستان پر فضائی حملے کے دعوے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جبکہ بھارتی دعوے کے شواہد طلب کیے جارہے ہیں۔

دونوں ممالک میں کشیدگی کی صورتحال پاکستان کی جانب سے گرفتار بھارتی پائلٹ کی واپسی کے بعد سے کچھ بہتر ہوتی نظر آرہی ہے۔

عالمی قوتوں نے بھی دونوں ممالک کو ایک اور جنگ سے روکنے کی کوششیں کی ہیں۔

تاہم دونوں اطراف کی افواج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر شیلنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

خیال رہے کہ 26 فروری کو بھارتی لڑاکا طیاروں نے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا تھا جس کے حوالے سے نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جنگجوؤں کا کیمپ تباہ کردیا ہے۔

اسلام آباد اور مقامی افراد نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں کوئی کیمپ تھا ہی نہیں۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارتی طیارے نے پہاڑ کے ایک حصے کو نشانہ بنایا اور واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بھارت میں اپوزیشن لیڈرز نے حکومت سے حملے کے شواہد طلب کیے ہیں۔

نریندر مودی کے قریبی اور بھارتی وزیر خزانہ ارن جیٹلے کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی سیکیورٹی ادارہ اپنے آپریشن کی تفصیلات عیاں نہیں کرتا ہے‘۔

انڈیا ٹوڈے میڈیا گروپ کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسلح افواج اور ہماری سیکیورٹی و خفیہ ایجنسیوں کو صورتحال سے نمٹنے کا پورا اختیار ہونا چاہیے اور اگر کوئی چاہتا ہے کہ آپریشن کی تفصیلات عوام کو بتائی جائیں تو وہ نظام کو سمجھتا نہیں ہے‘۔

جیٹلے نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کی بھارت میں عام انتخابات کے قریب ہونے پر مقامی سیاست کے ملوث ہونے کے تاثر کو بھی مسترد کیا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ عام انتخابات میں حکمراں جماعت ملک میں بڑھتے ہوئے قومی جذبے سے فائدہ اٹھائے گی۔

بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھی نندن نے جمعے کے روز واہگہ بارڈر کے ذریعے واپس اہنے وطن گئے تھے۔

وزیر دفاع نرمالا سیتا رامن نے ابھی نندن سے نئی دہلی کے ڈیفنس ہسپتال میں ملاقات کی جہاں انہیں اپنے یونیفارم میں دیکھا گیا تھا۔

ابھی نندن کو اپنی ڈیوٹی پر دوبارہ معمور ہونے سے قبل میڈیکل چیک اپ سے گزرنا ہوگا۔

ملاقات میں پائلٹ نے پاکستان میں زیر حراست ہونے کے حوالے سے وزیر کو وضاحت بھی دی۔

پاکستان نے ابھی نندن کی واپسی کو جذبہ خیرسگالی کے تحت واپس کیا ہے۔