پاکستان نے انڈیا کی جانب سے پاکستانی سرزمین پر کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے ٹھکانے کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

یہ بات منگل کو قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بدھ کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے جبکہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے۔

 

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی سلامتی کی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے بھی شرکت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے غیر ضروری طور پر جارحانہ حملہ کیا اور اس حملے کا جواب دینے کا حق پاکستان محفوظ رکھتا ہے اور جگہ اور وقت کا تعین پاکستان خود کرے گا۔

اعلامیے میں انڈین حکام کی طرف سے ان دعووں کی سختی سے تردید کی گئی جس میں انڈین حکام نے کہا تھا کہ انڈین طیاروں نے حملہ کرکے بالاکوٹ میں واقع کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے ایک تربیتی کیمپ کو تباہ کرنے کے علاوہ بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔

مسعود اظہرتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionپلوامہ حملے کی ذمہ داری مسعود اظہر کی جماعت جیشِ محمد نے قبول کی تھی

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس جگہ کو انڈین حکام نشانہ بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس علاقے میں بین الاقوامی اور مقامی میڈیا کو لے جایا جا رہا ہے تاکہ دنیا حقائق سے آگاہ ہوسکے۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ عالمی قیادت کو علاقے میں انڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

دوسری طرف حکومت نے موجودہ صورت حال پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ حزب مخالف کی جماعتوں کے علاوہ خود حکمراں اتحاد میں شامل ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے کیا گیا تھا۔

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر علی محمد خان نے منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایوان کو بتایا کہ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ اجلاس منگل کے رات کو ہی طلب کر لیا جائے۔

دوسری جانب پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ موقع سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ بھارت سمیت عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کے سیاست دان اور قوم پوری طرح مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اب یہ موجودہ حکمرانوں پر ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ہیں اس کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیتی ہے یا نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اسلامی ممالک کی تنظیم سے بھرپور احتجاج کرنا چاہیے کہ اُنھوں نے کیسے بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو او آئی سی کے اجلاس میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو ہے۔

قومی سلامتی کمیٹیتصویر کے کاپی رائٹISPR
Image captionپاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ انڈیا کی اس کارروائی میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا

اُنھوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف پاکستان نے اجلاس طلب کیا اور پھر اسی ملک کی وزیرِ خارجہ کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا جن کی حکومت پر مسلمانوں پر تشدد کرنے کا الزام ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فخر امام کا کہنا تھا کہ بھارتی طیاروں کی طرف سے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کی قیادت کا اجلاس طلب کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں ایک ایسی جماعت برسرِ اقتدار ہے جس کی قیادت تنگ ذہن ہے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کے دور میں سلالہ حملے کے بعد نیٹو فورسز کی آمد و رفت پر جو پابندی عائد کی گئی تھی اس کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ میں ہی ہوا تھا۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-47366850