حقوق نسواں کی علمبردار کہتی ہیں کہ ”باربی” صرف ایک گڑیا نہیں بلکہ خواتین کی آزادی کا ایک عالمی مجسمہ ہے۔ یہ ایک خاتون کے مثالی اور معیاری خدوخال کی تصویر ہے،جس کے پاس دنیا کا سرمایہ ہے، وہ ایک لاپرواہ اور کھیل کود سے بھرپور زندگی گزارتی ہے اور کہانیوں والی رومانیت اسکی ذات میں رچی بسی ہے۔ ”باربی” نے جو جدید تہذیبی کردار عورت کو دیا وہ اس صدیوں پرانے گھسے پٹے کردار کی نفی کرتا ہے جس میں وہ ایک ماں تھی، محبت کرنے والی بیوی تھی اور شرم و حیا اسکی پہچان تھی۔ اس گڑیا ”باربی ”کو تخلیق کرنے والی خاتون روتھ ہینڈلر (Ruth Handler) نے کہا تھا اس گڑیا کو بنانے کے پیچھے یہ فلسفہ تھا کہ وہ اس گڑیا کے ذریعے ایک چھوٹی سی بچی کو لاتعداد خواب اور مستقبل کے کردار دکھانا چاہتی تھی جنہیں وہ اختیار کر سکتی ہے۔ روتھ عموما اپنی بیٹی باربرا کو کاغذ کی گڑیوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا کرتی،جو ان گڑیوں کے مختلف نام رکھتی اور بہت سے کردار ان کے ساتھ منسلک کر دیتی، جیسے ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، خانسامہ اور آیا وغیرہ۔ روتھ نے سوچا کہ میں اس عمر کی لڑکیوں کے لیے ایک مثالی گڑیا کیوں نہ بناؤں جسکی جسمانی ساخت سے لے کر زندگی میں اس کے رول تک آئیڈیل کا درجہ حاصل کرلیں۔ یوں اس نے 1959ء میں نیویارک کے کھلونوں کی نمائش میں ”باربی” کے نام سے ایک گڑیا نمائش کیلئے پیش کی۔ لاتعداد لکھاریوں نے ایسی گڑیا پر سوال اٹھائے کہ، کیا ایک چھوٹی سی بچی کے ہاتھ میں ایک نوجوان جسم والی گڑیا تھمائی جا سکتی ہے،وہ جسمانی خدوخال جن سے وہ ابھی تک نا آشنا ہے۔ کیا ایسا کرنا اسے وقت سے پہلے شرم و حیا اور اخلاق سے دور نہیں لے جائے گا۔ کچھ عرصے بعد نفسیات دانوں نے بھی سوال اٹھانے شروع کر دئیے، کہ بچپن میں ہی ایک انتہائی متناسب جوان جسم والی گڑیا بچیوں کے ہاتھ میں تھما نے کے بعد لڑکیوں میں ایسے ہی جسمانی تناسب کے حصول کی خواہش ایک جنون کی صورت اختیار کر لے گی۔ ہر وہ لڑکی جو بچپن میں اس آئیڈیل جسم کی گڑیوں سے کھیلتی رہی ہوگی، جب وہ جوانی کی دہلیز عبور کرے گی تو خود کو اس کے مطابق ڈھالنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کردے گی۔ جو لڑکی اس آئیڈیل کو حاصل نہیں کر پائے گی، وہ مسلسل ڈپریشن اور احساسِ کمتری کا شکار رہے گی۔ کس قدر منصوبہ ساز ذہنیت کے ساتھ دنیا بھر کی خواتین کو صرف ایک باربی بچپن میں پکڑانے کے بعد، اس آئیڈیل کے اردگرد عورتوں کو گھما کر اربوں ڈالر کی فیشن انڈسٹری کی نشوونما کی گئی۔ باربی سے پہلے دنیا بھر میں بچوں اور بچیوں کے کھیلنے کے لئے روئی، کاغذ، کپڑے، لکڑی یا مٹی کے کھلونے بنائے جاتے تھے۔ ان میں ایک خاص اہتمام کیا جاتا تھا کہ ان کی جسمانی ساخت اور مردانہ اور نسوانی اعضاء کی پہچان نمایاں نہ ہو۔ لڑکی گڑیا کیلئے اس کے لمبے بال اور چٹیا وغیرہ اسکی شناخت کے لیے کافی تھے جبکہ مردوں کے بال، داڑھی، موچھوں سے گڑیا اور گڈے کا فرق نمایاں ہوجاتا تھا۔ لیکن باربی ایک ایسی تہذیبی تبدیلی لے کر آئی تھی جس نے کم سنی میں ہی، جب بچوں کو اس تفریق کا شعور تک نہیں ہوتا، انکے ہاتھ میں ایک جوان عورت کے متناسب خدوخال والی گڑیا تھما دی۔ دنیا کے ہر معاشرے اور کلچر میں بچے جب گڑیا گڈے کا کھیل کھیلتے تھے تو انکے بنیادی کردار ماں باپ یا میاں بیوی سے مختلف نہیں ہوتے تھے۔ لیکن ”باربی” گڑیا والوں نے عورتوں کے لیے مختلف پیشوں کا انتخاب کیا اور پھر انکے حساب سے گڑیا تخلیق کردیں۔ اپنی تخلیق کے دو سال بعد یعنی 1961ء میں سٹینڈرڈ ”باربی” کے بعد جو گڑیا آئی وہ ”رجسٹرڈ نرس” کی تھی، 1965ء میں ایک ”خلانورد” (Astronaut)، 1984ء میں دن اور رات (Day to Night) نام سے باربی مختلف ملبوسات میں لائی گئی، 1995ء میں کم سن ڈاکٹر، 1995ء میں فائر فائٹر، 1999ء میں پائلٹ، 2015ء میں ڈائریکٹر اور سائنسدان، 2016ء میں ویڈیو گیم ڈویلپر اور 2016ء میں ہی صدر (President) کے کرداروں کی گڑیا مارکیٹ میں لائیں گئیں۔”باربی” گڑیا کے ساتھ اس کے متعلقہ شعبے کا تمام ساز و سامان بھی ایک شاندار پیکیج میں اس کے ہمراہ بیچا جاتا ہے۔ جیسے ڈاکٹر کے تھرمامیٹر سے لے کر کلینک اور ہسپتال کے تمام کھلونا سامان اس پورے کردار کی سج دھج کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ یوں جوبھی کردار آپ ایک دس سال کی بچی کے ذہن میں ایک آئیڈیل کے طور پر نقش کرنا چاہتے ہیں اسکا تمام ماحول وہ بچی اپنے کھلونوں کے ذریعے اپنے اردگرد سجالیتی ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ 1959ء سے لے کر آج یعنی 2020ء تک اکسٹھ سالوں میں کسی خاندانی رشتے کے حوالے سے کوئی ”باربی” نہیں بنائی گئی، جیسے ماں، بہن، بیٹی یا بیوی اور نہ ہی ان کرداروں کے حوالے سے کوئی متعلقہ سامان تخلیق کیا گیا۔ سب سے پہلی بار بی جو 1959ء میں مارکیٹ لائی گئی اس نے سیاہ اور سفید دھاریوں والا تیراکی کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کا جسم ایک جوان عورت کا تھا جسے ”Adult figured doll” کہتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی لڑکی یا لڑکا بڑے ہو کر کسی ساحل سمندر یا سوئمنگ پول میں خواتین کو ایسے لباس میں دیکھے تو اسے کوئی حیرت نہ ہوگی کیونکہ ایسی عریانی سے تو وہ بچپن میں کھیلتے تھے۔ عورتوں کے لیے جسمانی آئیڈیل یا رول ماڈل تخلیق کرنے کے لیے سٹینڈرڈ باربی 11.5 انچ کی ہوتی ہے جسکو 1/6 کی سکیل سے دیکھا جائے تو ایک جوان لڑکی کو خوبصورت ہونے کے لیے 5 فٹ نو انچ قد آور ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس کی دیگر پیمائشوں کے مطابق کمر 18انچ پتلی ہونی چاہیے۔ چونکہ ایسا جسم لڑکیوں نے آئیڈیل سمجھنا شروع کر دیا تھا اسی لئے اس کے فوائد اور نقصانات پر طب کی دنیا میں تحقیق شروع ہوگئی۔ فن لینڈ کی ہیلنسکی یونیورسٹی کے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر باربی کا آئیڈیل تناسب حاصل کیا جائے تو عورتوں کو جسم سے 22 فیصد چربی کم کرنا ہوگی جو انکے نسوانی وظائف (Female Function) کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ یوں 1997ء میں اسکی کمر کے سائز کو بڑا کر دیا گیا۔ ”باربی” نے خواتین میں مخصوص جسمانی ساخت کے حصول کا ایک جنون پیدا کردیا اور 1963ء میں اس ساخت کی ترغیب کیلئے باربی نے اپنا لٹریچر شائع کرنا شروع کیا جس کی پہلی کتاب ”How to lose weight” یعنی ”وزن کیسے کم کریں”، تھی۔اسی کتاب کا ایک اور ایڈیشن ”Slumber Party”، 1965ء میں آیا جس میں باربی جیسی جسمانی ساخت حاصل کرنے کی تراکیب درج تھیں۔ باربی نے مارچ 2018ء میں اپنی رول ماڈل مہم کا آغاز کیا۔ اس نے 17 کامیاب خواتین کی باربی بنائیں جنہیں Heros نہیں بلکہ Sheros کہا گیا۔ ”باربی” اب سفید فام، گندمی، پیلی اور کالی رنگت میں اسی جسمانی تناسب میں دستیاب ہے۔ باربی آپکو ہر اس کردار میں ملے گی جسے جدید کارپوریٹ تہذیب نے اپنی ضرورت کے لیے تراشا ہے۔ وہ خلا باز، اولمپک اتھلیٹ، ٹی وی رپورٹر، راک سٹار، ڈاکٹر، آرمی افیسر، ائر فورس پائلٹ، موسیقار، لائف گارڈ، سکوبا ڈائیور، بیس بال کھلاڑی، سفارتکار، غرض لاتعداد شعبہ ہائے زندگی کی ”باربی” آج کی خاتون کے لیے رول ماڈل کے طور پر میسر ہیں۔ لیکن کمال دیکھئے یہ عورتیں ڈاکٹر ہوں یا موسیقار، ٹی وی رپورٹر ہویا سفارتکار انکی جسمانی ساخت اور آئیڈیل تناسب پر کوئی سمجھوتا نہیں ہے۔ کوئی بدصورت جسم والی خاتون ایک کامیاب رول ماڈل میں نہیں ڈھل سکتی۔ اس بیچاری خاتون کو اسی جسم کی نمائش میں الجھا کر اسے کارپوریٹ دنیا کا گھنٹہ گھر بنادیا گیا ہے۔ اسکی جسمانی خوبصورتی کے گردکارپوریٹ انڈسٹری کا پہیہ گھومتا ہے۔ حسینہ عالم کے اسٹیج سے لے کر اشتہارات کی دنیا تک یہ بیچاری عورت ہے جسے اسکی صلاحیت سے زیادہ اسکی ظاہری خوبصورتی کی بنیاد پر تولا، پرکھا اور ناپا جاتا ہے۔ یہ جدید تہذیب ایک تماشہ گاہ ہے، عبرت کی دنیا ہے جس میں چند سالوں کی بچی کے ہاتھ میں ایک جوان عورت کا مجسمہ ایک باربی گڑیا کی صورت پکڑا کر اسے زندگی بھر کے لئے ایک ایسی دوڑ میں لگا دیا جاتا ہے جو موت تک جاری رہتی ہے۔ اس تھکا دینے والی زندگی میں اسے روز لوگوں کی نظروں میں زندہ رہنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ روز جینا اور روز مرنا پڑتا ہے

روزنامہ 92 نیوز