مصرکی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے باعث مذہبی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

جامعہ الازھر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک شخص کا زیادہ شادیاں کرنا عورت پر ظلم کے مترادف ہے۔ جو لوگ کثرت ازواج کے قائل ہیں وہ غلطی پر ہیں۔

مصرکے ایک ہفتہ وار پروگرام میں بات کرتے ہوئے شیخ الازھر نے کہا کہ قرآن پاک کا حکم ہے “فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة” ۔ یعنی اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم بیویوں میں انصاف نہیں کرسکو گے تو ایک بیوی کافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کثرت ازواج عورتوں اور اولاد دونوں پرظلم ہے۔ تعدد ازواج کے حوالے سے قرآن کی نص کو بہ غور پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ پوری آیت کا ایک حصہ ہے پوری آیت نہیں‌ہے۔ اس کا کچھ حصہ پہلے اور کچھ بعد میں ہے۔

ڈاکٹرالطیب نے استفسار کیا کہ کیا مسلمان بیوی پر ایک اور شادی کرنے کے لیے آزاد ہے؟ یا یہ آزادی سخت شرائط میں مقید ہے؟۔ کثرت ازواج مقید حق ہے۔ ایک بیوی ہوتے دوسری شادی کے لیے دونوں میں انصاف بنیادی شرط ہے۔ اگر انصاف نہیں تو کثرت ازواج حرام بلکہ ظلم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جامعہ الازھر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کثرت ازواج کے حوالے سے ہمارا دینی ورثہ مختلف آراء پر مبنی ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ سماجی طورپر مرد اور عورت کے درمیان ہم آہنگی ہو مگر نص صحیح اس فہم کے زیاہ قریب ہے کہ کف سماج میں نہیں بلکہ دین میں ہونا چاہیے۔ سو ایسا ممکن نہیں کہ کوئی شخص دین دار کہلائے مگر وہ میزان اخلاق میں پورا نہ اترے۔

شیخ الازھر نے کہا کہ صالح ازدواجی زندگی کی بنیاد مال اور عہدے کے ساتھ نہیں بلکہ دین کے ساتھ وابستگی میں ہے۔ دین ہی ازدواجی زندگی کو درست ٹریک پر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
Al Arabia