’’میں دہشت گرد کی ماں نہیں ہوں‘‘، ’’اگر میرا بیٹا دہشت گرد تھا تو مارا کیوں؟ اسے زندہ گرفتار کیوں نہیں کیا؟ انڈیا کے جاسوس کو زندہ گرفتار کر لیا، تو کیا میرے بیٹے کو زندہ نہیں پکڑ سکتے تھے؟‘‘، ’’میرے گھر جا کر دیکھیں ہمارا حال کیا ہوا ہے؟‘‘، ’’ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں ،روتے ہیں، ہماری ایک بچی ہے، اُسے لوگ کیا کہیں گے کہ تم دہشت گرد کی بیٹی ہو؟ مجھے کہیں گے کہ تم دہشت گرد کی ماں ہو، برائے مہربانی آپ نے جو یہ (دہشت گرد کا) لیبل لگایا ہے، اسے ہٹا دیں، ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، میں رات کو سوتی ہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے‘‘، یہ دہائی ساہیوال پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ذیشان جاوید کی ضعیف اور معذور والدہ نے گزشتہ منگل کو اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے دی تو وہاں مکمل خاموشی چھا گئی۔ قارئین غور کریں تو یہ ماں اپنے بیٹے کے قتل کیے جانے پر کچھ اور نہیں مانگ رہی، وہ یہ بھی شکایت نہیں کر رہی کہ اُس کے بیٹے کو کیوں مارا گیا وہ تو رو رو کر بس اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ اُس کے مارے جانے والے بیٹے کو کم از کم دہشت گرد تو نہ کہیں۔ جو سوال اس ماں نے اٹھایا، وہ ہر دوسرا شخص پوچھتا ہے کہ اگر ذیشان دہشت گرد تھا تو زندہ کیوں نہ پکڑا؟ اگر کلبھوشن کو زندہ پکڑا جا سکتا تھا تو اس کے بیٹے کو دہشت گرد قرار دے کر‘ بغیر کسی عدالتی فیصلے کے کیوں دن دہاڑے قتل کر دیا گیا؟ اِس ماں کو، اس کی بیوہ بہو اور پوتی کو ذیشان کے مرنے پر صبر تو آ ہی جائے گا لیکن ایک دہشت گرد کی ماں، ایک دہشت گرد کی بیوہ اور ایک دہشت گرد کی بیٹی کے لیبل کے ساتھ وہ معاشرے میں کیسے زندہ رہ سکتی ہیں؟ نہ سینیٹ کی کمیٹی کے پاس اس ماں کے سوالات کے جواب تھے اور نہ ہی حکومت ان سوالات کا ابھی تک کوئی جواب دے پائی ہے۔ یہ کیسا دہشت گرد تھا جو لاہور کے ایک محلے میں گزشتہ تین دہائیوں سے رہائش پذیر تھا جس کے ہمسائے اور رشتہ دار اُس کے اچھے کردار کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ کیسا آپریشن تھا جس میں ذیشان کو دہشت گرد قرار دے کر سب سے پہلے اُسے مارنے کا حکم دیا گیا اور اس حکم کی تکمیل میں تین معصوم جانوں کو بھی اس لیے بے دردی سے قتل کر دیا گیا کہ وہ اُس گاڑی میں سوار تھیں جسے ذیشان چلا رہا تھا۔ مرنے والی تیرہ سالہ اریبہ کو پہلے گاڑی سے باہر نکالا گیا لیکن پھر اندر دھکیل کر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اُس کو اُس کے ماں باپ کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ گولیاں تو اس ظالمانہ کارروائی میں بچ جانے والے اریبہ کے چھوٹے بھائی اور بہنوں کو بھی لگیں۔ کوئی سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس رپورٹ دینے والوں کو پوچھنے والا ہے کہ اگر ذیشان دہشت گرد تھا یا اُس کا دہشت گردوں سے تعلق تھا تو اُسے پکڑا کیوں نہ گیا، اُس کے خلاف کوئی ایف آئی آر کیوں نہ کاٹی گئی۔ وہ تو سب کے سامنے گزشتہ تین دہائیوں سے ایک ہی محلے میں رہتا تھا، نہ افغانستان میں چھپا تھا اور نہ ہی کہیں اور غائب ہوا۔ اُسے بڑے آرام سے پکڑ کر پوچھ گچھ کی جا سکتی تھی۔ یہ کون سا طریقہ ہے کہ کسی فرد کو دہشت گرد قرار دے کر پہلے جان سے مار دو اور پھر ثبوت ڈھونڈو۔ ذیشان کی فیملی کا تو کیا حال ہو گا، جب اُس کے ساتھ قتل کیے گئے خلیل، اُس کی بیوی اور بیٹی (جن کے بارے میں حکومت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ وہ بے قصور تھے اور ناحق مارے گئے) کے ورثاء اور اُن کے وکیل تک یہ شکایت کرتے ہیں کہ اُن کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ ذیشان کی والدہ نے تو پارلیمانی کمیٹی سے کہا کہ وہ پچیس سال سے اس علاقے کے رہائشی ہیں لیکن کبھی ان کے بیٹے ذیشان کی کوئی شکایت نہیں آئی۔ اگر یہ ماں سچائی پر نہیں تو پھر حکومت اور اس کے اداروں کو اتنے دن گزرنے کے باوجود ذیشان کے خلاف کوئی ثبوت کیوں نہ ملا؟ جو بات ذیشان کی والدہ نے کی، اُس کی گواہی تو تحریک انصاف کی خاتون ایم این اے عندلیب عباس نے بھی دی۔ عندلیب کا کہنا تھا کہ ذیشان کی والدہ کا اُن کے ہاں آنا جانا تھا، ذیشان اُن کے بچوں کی طرح تھا اور وہ ان کے بچوں کے ساتھ ہی کھیلتا تھا۔ عندلیب نے کہا کہ ایک تو آپ کا بچہ مارا جائے اور اوپر سے بغیر تحقیق کےیہ کہا جائے کہ وہ دہشت گرد تھا ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے کیسے کسی کے بچے کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے؟ عندلیب نے یہ بھی کہا کہ وہ ذیشان کی فیملی کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گی۔ معلوم نہیں وہ ایسا کر سکیں گی کہ نہیں لیکن میری اُن سے درخواست ہے کہ کم از کم حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس بات کا تو پابند بنا دیں کہ جب تک کوئی آزاد ادارہ ذیشان کے دہشت گردی کے ساتھ تعلق کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتا، اُسے دہشت گرد نہ کہا جائے۔ افسوس کہ حکومتی وزراء تو اب بھی وہی کہانی دہرا رہے اور اس بات پر بضد ہیں کہ ساہیوال آپریشن درست تھا۔ افسوس صد افسوس!