میں آپ کو دیکھنے میں بڑا بڑا لگتا ہوں، مگر میرے اندر ایک بچہ چھپا ہوا ہے، بلکہ چھپا ہوا کہاں ہے، وہ تو زور زور سے ہنستا ہے۔ بوقت ضرورت بڑھکیں بھی لگاتا ہے، اس کا ہنسنا تو مجھے اچھا لگتا ہے مگر فلم دیکھنے کے دوران ہیروئن کے ڈانس پر بڑھکیں لگانا اور ولن کے مظالم دیکھ کر گالیاں دینا اچھا نہیں لگتا، چنانچہ میرے بار بارمنع کرنے پر اب اس کی بڑھکیں اور گالیاں صرف میں ہی سن سکتا ہوں، اس نے اپنی آواز کا والیم اتنا کم کردیا ہے کہ اس کے اس بچگانہ پن کا کسی دوسرے کو پتہ نہیں چلتا۔ میرے اندر کا بچہ فرصت کے اوقات میں وٹس ایپ کھول کر بیٹھ جاتا ہے اور فنی ویڈیوز اور پوسٹس دیکھتا ہے، خوش ہوتا ہے، دوستوں بلکہ اجنبیوں کو بھی فارورڈ کرنے لگتا ہے۔ یاسر مجھے بہت سمجھاتا ہے اور کہتا ہے ابو آپ یہ کیا کرتے ہیں، یہ بچوں کا کام ہے،فارغ وقت میں آپ فلاں فلاں انگریزی فلم دیکھ لیا کریں۔ جس دن یاسر مجھے یہ مشورہ دیتا ہے، میں اس روز اسے دس بارہ پوسٹس اور ویڈیوز فارورڈ کردیتا ہوں، جس سے میرے اندر کا بچہ خوشی سے زور زور سے تالیاں بجاتا ہے اور مجھے شاباش دیتے ہوئے کہتا ہے نوجوان تم نے آئندہ بھی کبھی ’’سوبر‘‘ ہونے کی اداکاری نہیں کرنی جس کام کے تم کاریگر ہی نہیں ہو تمہیں اس میں ہاتھ ڈالنےکی کیا ضرورت ہے؟

اور یہ جو بچہ ہے نا، بہت بے وقوف بھی ہے، ظاہر ہے بچے بے وقوف ہی ہوتے ہیں، جب اس کے سامنے کوئی دوست بڑے بڑے دعوے کرتا ہے، یہ بڑے غور سے سنتا ہے اور ان دعوئوں کی تردید نہیں کرتا، اس بچے کے بھولپن اور معصومیت کو دیکھ کر یار لوگ اسے بے وقوف بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور یہ بڑی سہولت سے بے وقوف بن بھی جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں کچھ لوگ اس کی اچھل کود اور ہر ایک سے پرجوش ملنے اور اس کی دوستی ’’نچلے طبقے‘‘ کے افراد سے بھی دیکھتے ہیں تو اسے بھی کم تر سمجھنا شروع کردیتے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں اور وہ اس کے جونیئر اور سینئر ہم عصر ہیں، جو اسے بے ضرر تصور کرکے اس پر کیچڑ اچھالتے ہیں کہ اس نے کون سا جوابی حملہ کرنا ہے مگر اس کےباوجود یہ بچہ ان سے شکایت نہیں کرتا، بچہ جو ہوا! یہ بچہ ہر ایک کو خود سے برتر سمجھتا ہے، چنانچہ اس کے ساتھ اجنبی اور غیر اجنبی بہت لبرٹی لے جاتے ہیں۔ ان کےخیال میں یہ بچہ نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے، چنانچہ وہ اپنی شخصیت کی جزئیات اور تفصیلات مکمل اطمینان کے ساتھ اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور یہ بچوں کی طرح خوش ہوکر تالیاں بجا کر ان کی تحسین کرتا ہے۔

مگر یہ سب اجنبی اور غیر اجنبی لوگ ایک بات بھول جاتے ہیںاور وہ یہ کہ میرے اندر جو بچہ ہے وہ بچہ تو ہے مگر دودھ پیتا بچہ نہیں ہے۔ یہ چودہ پندرہ سال کا بچہ ہے جو ذہنی طور پر عموماً نیم بلوغت کا حامل ہوتا ہے، مگر بیسویں صدی کا بچہ تو پانچ چھ سال کی عمر ہی میں بہت کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ آج میں آپ کو بتائوں کہ مجھے یہ بچہ بہت پیارا ہے۔ اگرچہ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ میری شخصیت کے بارے میں غلط فہمی کا شکارہو جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود مجھےیہ بہت پیارا ہے۔ میں اپنے اس لاڈلے کی بچگانہ حرکتوں کو مہمیز دیتارہتا ہوںکیونکہ اس عمر میں بھی میری زندہ دلی میرے اندر کے اس بچے ہی کی وجہ سے ہے۔ اس کے پیارے لگنے کی ایک وجہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ اس کی ’’نابلوغیت‘‘ مجھے چپکے چپکے بلوغت بخشتی رہتی ہے، چنانچہ بہت سے لوگ یہ سمجھ کر کہ یہ اندھا،بہرہ اورگونگا ہے ایک ایک کرکے اپنے چہرے سے سب نقاب سرکا دیتے ہیں اور ان کی اصل حقیقت میرے سامنے آ جاتی ہے۔ ایک حافژ جی تھے، پہلے یہ وضاحت کردوں کہ پنجاب میں حافظ قرآن کو حافظ اور نابینا کو ’’حافژ‘‘ کہتے ہیں، تو ان حافژ جی کے حجرے میں ان کے دور پار کا ایک عزیز بطور مہمان ٹھہراہوا تھا’’حافژ جی‘‘ رات کو اس کے سونے کا انتظار کرتے جب انہیں یقین ہو جاتا کہ وہ سو گیا ہے تو بقول شاعر:

واعظاء کسِ جلوہ برمحراب و منبر می کنند

چوں بہ حلوت می روند آں کارِ دیگر می کنند

سو ایک دن اس بدتمیز مہمان نے سونے کی اداکاری کی اور جب حافژ جی کو یقین ہوگیا کہ وہ سوگیا ہےتو ’’خلوت‘‘پاکر انہوں نے ایک ’’خدمت گار‘‘ کو طلب کرلیا۔ کشتی جب عین منجدھار میں تھی، وہ واہیات مہمان بول اٹھا ’’حافژ جی‘‘ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟‘‘ حافژ جی نے کہا ’’جھوٹوں کی ایسی کی تیسی پھیر رہا ہوں‘‘۔ دراصل وہ جو مہمان تھا وہ میرے اندر کے بچے جیسا ہی تھا۔ جو جب چاہتا ہے آنکھیں بند کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے آنکھیں کھول لیتا ہے۔

میرے اندر کا بچہ صرف اس قسم کی فضول حرکتیں ہی نہیں کرتا بلکہ وہ ان لکھاریوں پر بھی اتنی بلند آواز میں ہنستا ہے جو کھلتے اور ڈھیلے ہوئے اپنے بند قبا کو نہیں دیکھتے بلکہ ان پر آوازے کستے ہیں جو سویلین حکومت ہو یا آرمی کی حکومت، وہ ہر حکومت سے فوائد حاصل کرسکتے تھے، مگر ان کے پورے کیریئر میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔انہیں صرف ایک لیڈر کی ضرورت ہے جو چاہے اپنی زندگی کے بدترین ادوارمیں سے گزر رہا ہو یا حکومت میں ہو، وہ اسے پاکستان کے لئے بہترین چوائس سمجھ کر اس کےساتھ کھڑے رہتے ہیں، ہر حکومت کے تلوے چاٹنے والوں کو اس طرح کے ضمیر کے قیدی اچھے نہیں لگتے۔ مگر اس کےباوجود میں اپنے اندر کے بچے کو قہقہے لگانے سے روکتا ہوں کہ مجھے کسی کی تضحیک اچھی نہیںلگتی۔ مگر میرے منع کرنے پر ہربار وہ جواب میں کہتا ہے کہ مختلف اوقات میں چہروں سے سرکتے نقاب پر مجھے ہنسنے سے نہ روکیں کیوں میں بچہ تو ضرور ہوں، مگر دودھ پیتا بچہ نہیں ہوں۔