وہ وقت جب علی رضا عابدی سمیت 3 مسالک اور 6 سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے ایک ہی امام کے پیچھے نماز ادا کی

قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی اپنے خالقِ حقیقی کے پاس پہنچ چکے ہیں ۔ عام انتخابات 2018 میں انہوں نے عمران خان کے مد مقابل الیکشن لڑا تھالیکن فتح یاب نہیں ہوسکے تھے۔ الیکشن مہم کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب علی رضا عابدی سمیت 3 مسالک اور 6 سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے ایک ساتھ نماز ادا کرکے اتحاد اور رواداری کی مثال قائم کی تھی۔

عام انتخابات کی مہم کے دوران 17 جولائی کو حکیم سعید گراو¿نڈ گلشن اقبال میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اچانک آمنے سامنے آگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ ماحول کشیدہ ہوتا جارہا تھا کہ ایسے میں مغرب کی اذان ہوگئی۔ علی رضا عابدی سمیت تمام جماعتوں کے کارکن نعرے بازی بھول کر نماز کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایسے میں نہ تو سیاسی عداوت ہی آڑے آئی اور نہ ہی کسی مسلک کی بات کی گئی۔

جماعت اسلامی کے ”سنی“ امیدوار اسامہ رضی امام بن گئے۔ ایم کیو ایم کے ”شیعہ“ علی رضا عابدی سمیت تمام پارٹیوں کے کارکنان سب کچھ چھوڑ کر صف میں کھڑے ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے کیمپ کے عین سامنے سب نے باجماعت نماز ادا کی۔ اس نماز میں 3 مسالک کے ماننے والے اور 6 سے زائد سیاسی جماعتوں کے کارکنان شریک ہوئے۔