ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں امریکی اہداف پر میزائل حملے میں کم سے کم 80 ’’امریکی دہشت گرد‘‘(فوجی) مارے گئے ہیں۔اس نے کہا ہے کہ ایران نے 15 میزائل داغے تھے اور ان میں سے کسی بھی میزائل کو روکا نہیں گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی نے سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن انتقام میں کوئی اقدام کرتا ہے تو ایران نے خطے میں 100 دوسرے اہداف کی بھی نشان دہی کر لی ہے۔اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس میزائل حملے میں امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور دوسرے آلات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے بدھ کو علی الصباح عراق میں امریکی فوج کے زیر استعمال اڈے پر یہ میزائل حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی گذشتہ جمعہ کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی ہے۔ایران کے اس مسلح ردعمل کے بعد مشرقِ اوسط میں ایک بڑی جنگ کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔

العربیہ

عراقی فوج نے کہا ہے کہ مغربی صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد ائیر بیس اور عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ایک فوجی اڈے پر کل بائیس میزائل داغے گئے ہیں۔ان دونوں فوجی اڈوں پر امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فوجی تعینات ہیں مگر اس میزائل حملے میں عراقی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

فوج نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ عین الاسد ائیر بیس پر سترہ میزائل داغے گئے تھے۔ان میں سے دو پھٹ نہیں سکے تھے۔اربیل میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج کے ہیڈ کوارٹرز پر پانچ میزائل داغے گئے تھے۔

عراقی فوج نے ایران کے اس میزائل حملے کی تفصیل جاری کی ہے لیکن حملہ آور ملک ایران کا نام نہیں لیا ہے اور فعل مجہول میں یہ بیان جاری کیا ہے:

’’عراق کو 8 جنوری 2020ء کو علی الصباح پونے دو بجے (1:45)سے پونے تین بجے (2:45) کے درمیان 22 میزائلوں کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ان میں 17 میزائل عین الاسد ائیربیس پر گرے تھے۔ ان میں سے دو پھٹ نہیں سکے تھے۔پانچ اربیل شہر میں اتحادی فوج کے ہیڈ کوارٹرز پر گرے ہیں۔عراقی فورسز کا ان میزائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔‘‘

دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں امریکی اہداف پر میزائل حملے میں کم سے کم 80 ’’امریکی دہشت گرد‘‘ (فوجی) مارے گئے ہیں۔اس نے کہا ہے کہ ایران نے 15 میزائل داغے تھے اور ان میں سے کسی بھی میزائل کو روکا یا ناکارہ نہیں بنایا گیا ہے۔