امریکی فوج کے ایک اعلان کے مطابق 8 جنوری کو عراق میں عین الاسد کے فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں زخمی ہونے والے 11 امریکی فوجیوں کا علاج مکمل ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی فوج نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔

امریکی مرکزی کمان کے ترجمان کیپٹن بیل اوربین کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا تاہم دھماکے کے سبب متعدد فوجیوں کے دماغ زور دار دھمک سے متاثر ہوئے۔ ان کی حالت کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق احتیاطی تدابیر کے مقصد سے متاثرہ فوجیوں میں سے 3 کو کویت میں عریفجان کیمپ اور 8 کو جرمنی میں لینڈشٹل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام تر مطلوبہ معائنوں اور ٹیسٹ کے کے بعد یہ فوجی کویت اور جرمنی سے واپس آ کر اپنی خدمات کا دوبارہ آغاز کر دیں گے۔

عراق کے صوبے انبار میں عین الاسد کے بڑے فوجی اڈے میں 1500 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

دوسری جانب عراق کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان میجر جنرل عبدالکریم خلف نے عراقی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ فوج کے سربراہ نے امریکی فوج کی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کی منظوری نہیں دی ہے۔ یہ کارروائیاں 10 روز سے معطل ہیں۔

اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے امریکا کے دو عسکری ذمے داران کے حوالے سے بتایا تھا کہ وزارت دفاع (پینٹاگان) داعش تنظیم کے انسداد کے سلسلے میں عراقی فوج کے ساتھ اپنے تعاون کو جلد از جلد دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے۔ اس کا مقصد دہشت گرد تنظیم کو موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور عراق کے درمیان مشترکہ عسکری کارروائیوں کا سلسلہ بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے دو روز بعد 5 جنوری کو موقوف ہو گیا تھا۔

اسی روز عراقی پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں تمام غیر ملکی افواج کے وجود کو ختم کیا جائے۔

سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں۔

واشنگٹن: امریکی حکام نے عراق میں ایران کی طرف سے کیے جانے والے میزائل حملوں میں 11 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کرلیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے اعتراف کیا کہ جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد ایران کے عراق میں امریکی فوجی اڈے الاسد ائیر بیس پر انتقامی میزائل حملے میں 11 امریکی فوجی زخمی ہوئے جنہیں ائیر بیس سے علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ ایرانی حملے کے بعد کئی امریکی فوجیوں کو سر پر چوٹ کے شبے میں امداد دی گئی جن میں سے کئی فوجیوں کو اب بھی طبی امداد دی جارہی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک طے شدہ طریقہ کار ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں قریب موجود تمام افراد کی دماغی چوٹ جانچنے کے لیے ان کی ٹرامیٹک اسکریننگ کی جاتی ہے۔

ترجمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران کے میزائل حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ حملے کے دنوں میں کچھ سروس ممبران کو محتاط ہوتے ہوئے جرمنی کے میڈیکل سینٹر اور کویت منتقل کردیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر محسوس ہوا کہ اسکریننگ پر بھیجے جانے والے فوجی اہلکار ڈیوٹی کے لیے فٹ ہیں تو انہیں عراق میں ہی تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔

امریکا ایران حالیہ کشیدگی کا پس منظر

3 جنوری کو امریکا نے بغداد میں میزائل حملہ کرکے ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا تھاجس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

8 جنوری کی علی الصبح ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فوج کے دو ہوائی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں 80 ہلاکتوں کا بھی دعویٰ کیا گیا تاہم امریکا نے اس حملے میں کسی بھی امریکی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تردید کی ہے