امیر علی حاجی زادہ تہران میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے یوکرین کے مسافر طیارے کو مارگرانے کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ایک آپریٹر نے غلطی سے اس طیارے کروز میزائل سمجھ لیا تھا اور پھر اس پرمیزائل داغ دیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ایلیٹ پاسداران انقلان کی فضائی فورس کے سینیر کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے ہفتے کے روز ایک پریس بریفنگ میں واقعے کی مکمل وضاحت کی ہے اور اس انسانی غلطی پر معذرت کی ہے۔

انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے تو ایرانی حکام کو گذشتہ بدھ ہی کو بتا دیا تھا کہ ایک شہری طیارے کو حادثاتی طور پر مارگرایا گیا ہے مگر انھوں نے امریکا کو بھی جزوی طور پر اس طیارے کی تباہی کا ذمے دار قرار دیا ہے جس نے ان کے بہ قول ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔

حاجی زادہ نے کہا کہ پاسداران انقلاب اس واقعے کی مکمل ذمے داری قبول کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ یوکرینی فضائی کمپنی کے مسافر طیارے کو مختصر فاصلے تک مارکرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

انھوں نے کہا:’’کاش! میں نے جب اس حادثے کے بارے میں سنا تھا تو اسی وقت میں مرگیا ہوتا۔‘‘

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور ایرانی حکام سے مکمل تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

گذشتہ بدھ کو یوکرین انٹرنیشنل ائیرلائنز کا بوئنگ 737-800 تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے تھوڑی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔یہ مسافر طیارہ یوکرین کے دارالحکومت کیف جارہا تھا اور اس میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں 57 ایرانی نژاد کینیڈین شہری تھے۔

جریدے نیوز ویک نے پینٹاگان کے ایک عہدہ دار ، امریکی انٹیلی جنس کے ایک سینیر افسر اور عراقی انٹیلی جنس کے ایک افسر کے حوالے سے یہ انکشاف کیا تھا کہ یوکرین کے مسافر طیارے کو ممکنہ طور پر ایران کے طیارہ شکن میزائل نظام سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین کے طیارے پر روسی ساختہ زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ٹور ایم 1داغا گیا تھا۔پینٹاگان کے عہدہ دار اور امریکی انٹیلی جنس افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ویک کومزید بتایا تھا کہ طیارے کی تباہی کے بارے میں ان کے جائزے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ واقعہ حادثاتی طور پر رونما ہوا تھا۔

العربیہ