القاعدہ کا نیا لیڈر حمزہ رہتا ایران میں ہے ، مگر کام باہر کرتا ہے، ایرانی رجیم ایک خالص نظریے پر مبنی ہے

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ’’بدقسمتی سے ایران ایک ضرررساں کردار ادا کررہا ہے ،ایرانی رجیم ایک خالص نظریے پر مبنی ہے ۔اس نے القاعدہ کے سابق مقتول لیڈر اسامہ بن لادن کے بیٹے سمیت اس جنگجو گروپ کے بہت سے کارکنان کو پناہ دے رکھی ہے۔وہ انھیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا اور اس نے انھیں امریکا کے حوالے کرنے سے بھی سے انکار کردیا ہے۔

انھوں نے یہ باتیں امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس نیوز سے ایک انٹرویو میں کہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کا بیٹا حمزہ اب القاعدہ کا نیا لیڈر ہے ۔وہ رہتا تو ایران میں ہے لیکن کام ایران سے باہر کرتا ہے اور ایران ان کی حمایت کررہا ہے۔

سعودی ولی عہد کا سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹ کے لیے ریکارڈ کیا گیا یہ انٹرویو اتوار کی شب ان کے امریکا کے دورے سے دو روز قبل نشر کیا گیا ہے۔انھوں نے القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات سمیت مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے اور وہ کسی امریکی ٹیلی ویژن کے ذریعے امریکی ناظرین سے پہلی مرتبہ مخاطب ہوئے ہیں۔ان سے سی بی ایس کے پروگرام’’ یہ صبح‘‘ کی شریک میزبان نورا او ڈونیل نے یہ خصوصی انٹرویو کیا تھا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ا گر ایران جوہری بم تیار کرتا ہے تو سعودی عرب بھی اس کے فوری بعد اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دے گا۔سی بی ایس نے ایک ہفتہ قبل اپنی ویب سائٹ پر اس انٹرویو کے مختصر مندرجات پوسٹ کیے تھے ۔

سعودی ولی عہد نے ایران کے سپریم لیڈر آیت ا للہ علی خامنہ ای کو نازی جرمنی کے مرد آہن ایڈولف ہٹلر کے مشابہ قرار دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ وہ (خامنہ ای ) توسیع پسند ہیں اور پھیلنا چاہتے ہیں۔ وہ ہٹلر کی طرح مشرقِ وسطیٰ میں اپنا ایک منصوبہ تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔یورپ اور دنیا نے ماضی میں اس بات کا ادراک نہیں کیا تھا کہ ہٹلر کتنے خطرناک ہوسکتے تھے ، الّا یہ کہ جو ہونا تھا ، وہ ہوگیا تھا۔میں اب یہ سب کچھ مشرقِ وسطیٰ میں رونما ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔