جوڑا

ماہرین کے مطابق کچھ شادی شدہ جوڑے جذباتی اور جنسی طور پر اس قدر لاتعلق ہو جاتے ہیں کہ ان کا رشتہ طلاق سے بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

دنیا بھر میں جوڑے اپنے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں پر اپنے کمرے میں بحث کرنے سے گریز کرتے ہیں جس کی وجہ سے جوڑے اور خاندان کو پہنچنے والا نقصان طلاق سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

بی بی سی نے اس ’جذباتی خلا‘ کا سامنا کرنے والے ایسے ہی کچھ جوڑوں سے بات کی اور ماہرین سے پوچھا کہ اس سے نمٹنے کے ممکنہ طریقے کیا ہیں۔

شادی شدہ لیکن ویران زندگی

کمال کہتے ہیں ’سچ پوچھیں تو میں یہ نہیں بتا سکتا کہ میں شادی شدہ ہوں یا طلاق یافتہ۔‘

لندن کے ٹیلی کمیونیکیشن کنسلٹنٹ گزشتہ بیس برسوں سے اپنی اہلیہ ثریا کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں اور اس جوڑے کے دو بچے ہیں۔

خاتون
Image captionکچھ جوڑوں کے مطابق وہ ’جذباتی خلا‘ کا شکار ہیں

46 سالہ کمال سیاسی اور سماجی مبصر ہیں جن کے فیس بک پر سینکڑوں فالوورز ہیں لیکن اپنی بیوی کے ساتھ رشتے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اب خراب ہوتا جا رہا ہے ’بھرپور محبت سے اب ایک صرف احترام کا رشتہ، جیسا کام کی جگہ پر آپ کا کام کے ساتھیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’یہ سب ہمارے پہلے بیٹے کی پیدائش کے بعد شروع ہوا۔ ایسا لگا کہ جذباتی اور جنسی کشش ختم ہوگئی ہے۔ اور تب سے ایسا ہی ہے۔‘

’ہمارے بیٹے کی پیدائش کے کئی ماہ بعد بھی جب وہ اکیلا سونا چاہتی تو میں وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔ میں یہی کہتا رہتا کہ یہ شاید ایسا ہارمونز یا بچے کی پیدائش کے بعد موڈ میں آنے والی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔

’جب یہ بڑھنے لگا تو میں نے کچھ ماہرین سے رابطہ کیا۔ ہمارے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد ایسا لگنے لگا جیسے اسے ہمارے درمیان کوئی جذباتی یا جنسی تعلق نہیں چاہیے۔‘

کمال کو یاد ہے کہ جب انھوں نے رومانس کی ضرورت پر بات کی تو کیسے ان کی اہلیہ نے انھیں ’نوجوانوں کی طرح پیش نہ آنے‘ کو کہا۔ وہ بتاتے ہیں ’جب میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ اب مجھے ایک باپ کی طرح کا رویہ رکھنا چاہیے۔

’ثریا سمجھتی ہیں کہ وہ ایک مثالی بیوی ہیں کیونکہ وہ بچوں، گھر اور خاندان کا خیال رکھتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بحیثیت ماں اور گھریلو خاتون وہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن وہ بس یہی کر رہی ہیں۔‘

جوڑا
Image captionکیا رومانس ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے؟

ان چاہا محسوس کرنا

کمال کی مایوسی جلد غالب آنے لگی۔ وہ ان چاہا محسوس کرنے لگے اور پیچھے ہٹنے لگے۔ وہ اکثر اپنے کمرے میں رہنے لگے اور فیس بک پر اپنے سینکڑوں دوستوں کی ورچوئل کمپنی میں سکون محسوس کرنے لگے۔

ان سب کے درمیان ایسی خواتین کی کوئی کمی نہیں تھی جو ان کے خیالات کی تعریف کرتیں۔ کبھی کبھی وہ اپنا آلہ موسیقی بجا کر اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ بھی کرتے۔ جب انھیں زیادہ لائیکس ملتے تو وہ دوبارہ پر اعتماد محسوس کرنا شروع کر دیتے۔

کمال کہتے ہیں لائکس اور کمنٹس سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جلد ہی ’رومانوی اور جنسی تعلق‘ میں تبدیل ہونے لگا۔

’ایک ایسے وقت میں جب میں جذباتی طور پر خود کو مردہ اور شادی کو بے جان سمجھنے لگا، تو مجھے ان پرکشش خواتین سے دور رہنا مشکل لگنے لگا جو مجھ میں دلچسپی لیتی تھیں۔‘

جوڑا
Image captionاہنی شادی سے ناخوش جوڑے اکثر سوشل میڈیا کے ذریعے راہ فرار اختیار کرتے ہیں

کمال کو یقین ہے کہ اس صورتحال میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ’لوگ مجھ پر تنقید کریں گے لیکن میں اکیلا ایسا نہیں۔ میرے جیسے اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ میرے جاننے والوں میں ایسے بہت سے لوگ ہیں۔‘

انھوں نے ایک دوہری زندگی بنا لی ہے، ظاہری طور پر ’ایک بہترین باپ اور شوہر‘ جبکہ ویک اینڈ پر وہ بے تکلفی کے ساتھ ’اپنی محبت‘ سے ملاقات کرتے۔

ماہر عمرانیات حامد الہاشمی کا خیال ہے کہ بہانے تلاش کرنے کی بجائے کمال کو اپنی ضروریات اور صورتحال کے بارے میں کھل کر اپنی بیوی سے بات کرنی چاہیے۔

مرد اور عورت
Image captionسمجھوتا بھی آپ کی شادی شدہ زندگی بچا سکتا ہے

الہاشمی کہتے ہیں ’انھیں اپنی بیوی کو بتانا چاہیے تھا کہ اگر حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ چیزیں کہاں تک جا سکتی ہیں۔ اکثر درمیانی راستہ تلاش کرنا بہترین طریقہ ہوتا ہے، دونوں پارٹیوں کے لیے سمجھوتا، جس سے غلطیوں اور دوری کے احساس کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘

الہاشمی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دونوں فریق غلطی پر ہیں۔ ’بیوی کو شادی کے جذباتی اور جنسی حصے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، یہ ایسی چیزیں ہیں جو محبت کو برقرار رکھنے کے لیے فطری اور ضروری ہیں۔‘

معالج امل الحامد کے مطابق ضروری ہے کہ لوگ یہ کہنا چھوڑ دیں کہ ’ہم نے وہ سب کیا جو ہم کر سکتے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں ’دوسرے کو قصوروار ٹھہرانا اور خود مظلوم بن جانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا‘۔

اس کے بجائے وہ اچھی چیزوں کے بارے میں سوچنے کا مشورہ دیتی ہیں، ماضی کی ان یادوں اور اس وقت کے بارے میں جب انھوں نے ایک ساتھ مشکلات کا سامنا کیا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’ہر ایک کو تعلق میں پہل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، مثبت خیالی لازم ہے۔‘

ماہر نفیسات امل الحامد
Image captionمعالج اور مشیر امل الحامد کے مطابق دوسرے کو قصوروار ٹھرانے اور خود مظلوم بن جانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا

خود کو قصور وار سمجھنا

مترا اور رستم ایک ایرانی جوڑا ہے جن کی عمر چالیس برس کے لگ بھگ ہے۔ وہ 2005 سے برمنگم میں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

دس برس قبل مترا میں چھاتی کے کینسر اور بعد میں بچہ دانی میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ ایک پریسٹ، بیضہ دانی اور بچہ دانی سے محروم ہو گئیں۔ اور ان کی زندگی اضطراب سے بھر گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ آپریشنز کی وجہ سے ان کی جنسی زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ ’اب میری زندگی صرف میری بیٹیاں ہیں۔‘

جب ان کے شوہر نے محبت کے لیے کہیں اور دیکھنا شروع کر دیا تو وہ بالکل یقین نہ کر سکیں۔ جب انھیں اس بارے میں علم ہوا تو انھوں نے اپنے شوہر کو اپنے اور دوسری عورت کے درمیان ایک کا انتخاب کرنے کا کہا۔

’انھوں نے دوسری عورت کا انتخاب کیا، وہ جانتے تھے کہ دوسری عورت کا انتخاب کرنے سے انھیں اپنی بیٹیوں کو بھی کھونا پڑے گا۔‘

جوڑا
Image captionازدواجی مشاورت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی، ایشیائی اور مغربی کمیونٹیز میں بہت سے لوگ اس گولی کو نگلنے میں دقت محسوس کرتے ہیں

’اگر ان کی جگہ میں ہوتی تو میں آخری دم تک ان کا ساتھ دیتی۔ شادی بری اور اچھی دونوں چیزوں کے لیے ہوتی ہے۔ شاید مردوں کو کم خود غرض ہونا سیکھنا پڑے گا۔‘

اس کے باوجود مترا تسلیم کرتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتیں اور اس لیے وہ خود کو قصورورا سمجھتی ہیں۔ ’تاہم میں یہ تسلیم نہیں کر سکی کہ انھوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ بحیثیت عورت میں ان چاہا محسوس نہیں کر سکتی۔‘

اور رستم اب صرف کتابوں میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ مترا کہتی ہیں ’وہ اپنے کام کے علاوہ بمشکل ہی کچھ اور کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ خاموش رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی بیٹیاں بھی کہتی ہیں کہ وہ بہت بیزار ہیں‘۔

ازدواجی مشاورت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی، ایشیائی اور مغربی کمیونٹیز میں بہت سے لوگ اس گولی کو بہت مشکل سے نگلتے ہیں۔

جوڑا

مالی مدد

29 سالہ ثمرا نے 2015 میں ترکی آنے کے لیے اس وقت شام کو چھوڑا جب انھوں نے ایک ترک مرد سے شادی کی تاکہ وہ ’ایک پناہ گزین کی زندگی ‘سے فرار ہو سکیں، خاص طور پر ایک پناہ گزین عورت جنھیں اکثر ہراساں کیا جاتا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ صرف شادی ہی ’ایک مناسب حل ہے‘ لیکن انھیں اپنے شوہر کے خاندان اور ان کے سماجی پس منظر کے بارے میں جان کر حیرت ہوئی جو کہ ان سے قدرے مختلف تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میری پوری زندگی بچوں کا خیال رکھنے، کھانا پکانے، صفائی کرنے اور اپنے شوہر کی مطالبات پورا کرنے کے گرد گھومتی ہے۔‘

وہ اس شادی میں صرف اس وجہ سے ہیں کہ وہ ان کی مالی معاونت کرتا ہے اور وہ اپنے دو بچوں کا خیال رکھنے کے قابل ہیں۔

جوڑا
Image captionایک رشتے میں دو سے زیادہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں

’اگر میرے پاس کوئی اور طریقہ ہوتا تو میں ان کے ساتھ ایک بھی دن اور نہ رہتی۔ جب میں اپنے خاندان کے ساتھ تھی تو میرے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں کیا گیا۔ میری رائے، میری عزت اور جذبات کی یہاں کوئی قدر نہیں۔ وہ صرف اپنے مطالبے پر سکیس چاہتا ہے۔‘

خفیہ شادی

روج جن کا تعلق اربیل سے ہے، کہتی ہیں کہ ان کے 60 سالہ والد کئی دہائیوں سے ان کی 47 سالہ والدہ کے ساتھ نہیں سوئے۔

ان کی والدہ جانتی ہیں کہ ان کے شوہر نے ’کسی اور عورت سے خفیہ شادی کر رکھی ہے‘ لیکن وہ اس کے باوجود اس چیز کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگر اس صورتحال کا علم لوگوں کو ہو گیا تو وہ اس کا سامنا نہیں کر پائیں گی۔

روج بتاتی ہیں ’میرے والد ایک امیر آدمی ہیں اور اسی لیے ایک 30 برس کی خاتون ان سے شادی کے لیے رضامند ہو گئی۔ میری والدہ مضبوط اور مالی طور پر خود مختار ہیں لیکن وہ اس بارے میں بات کرنا اور طلاق کا مطالبہ نہیں کرنا چاہتیں تاکہ ہماری ساکھ خراب نہ ہو۔ وہ اپنا فخر قائم رکھنا چاہتی ہیں۔‘

روج کہتی ہیں کہ ان کی والدہ کئی برسوں تک جذباتی مسائل سے دوچار رہیں لیکن انھوں نے اسے چھپا کر رکھا کیونکہ وہ قابل رحم نظر نہیں آنا چاہتی تھیں۔ وہ ٹھیک اور خوش رہنے کا دکھاوا کرتی ہیں لیکن حقیقت میں وہ بہت غمزدہ ہیں۔

ان کی والدہ نے قانونی مشاورت لینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اپنے شوہر کی دوسری شادی کو خفیہ رکھنا چاہتی تھیں۔

واپسی کا ممکنہ راستہ

کاؤنسلر الحامد کے مطابق فریقین کی چیزوں کو ٹھیک کرنے کی خواہش ہی ایک واحد راستہ ہے۔

’اگر دونوں میں سے ایک بھی دوسرے کو مجرم قرار دیتا ہے تو چیزیں مزید بدتر ہو جائیں گی۔ انھیں کھل کر بات کرنے اور احتیاط سے الفاظ کے استمعال کی ضرورت ہے۔ ورنہ رنجشیں مزید بڑھ جائیں گی۔‘

ماہر عمرانیات حامد الہاشمی
Image captionسماجی محقق ڈاکٹر حامد الہاشمی کا خیال ہے کہ کسی تعلق کی ذمہ داری دونوں فریقوں پر عائد ہوتی ہے اور کسی بھی ناکامی کے لیے دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔

الحامد کے مطابق بعض اوقات ایک فریق چیزوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دوسرا فریق اس صورتحال پر قائم رہتا ہے، جس سے تبدیلی کی کوئی بھی کوشش مایوس کن ہو جاتی ہے۔

الحامد کہتی ہیں ’مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو بڑھنے نہ دیں۔ انھیں اکثر اوقات صحیح زبان کا استعمال کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کو نیچا نہ دکھاتے ہوئے بات چیت کرنی چاہیے۔‘

وہ کہتی ہیں ’اس سے ہمیشہ تبدیلی لانے میں مدد ملتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’اگر شوہر اپنی بیوی کو تحفہ دے کر حیران نہیں کرتا، تو بیوی کو چاہیے کہ وہ پہل کرے۔ محض تکرار کرنے کے بجائے ایک ایسا اقدام بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘

وہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں ’سب سے اہم بات ہے کہ ہار نہیں مانیا چاہیے بلکہ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔‘

٭٭٭اس مضمون میں شامل افراد کی شناخت کوے تحفظ کے لیے فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں

بی بی سی اردو