واشنگٹن : اپریل سے جون تک پیدا ہونے والے بچوں میں بعد کی زندگی میں عارضہ قلب کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی کی طبی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ موسم بہار میں پیدا ہونے والے افراد میں عارضہ قلب کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں ایک لاکھ 16ہزار سے زائد افراد کی تاریخ پیدائش اور ان کے قلب کی شریانوں سے جڑے امراض کے مابین موازنہ کیا گیا تھا۔

تحقیق کاروں نے اپنے رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اپریل (موسم بہار) میں پیدا ہونے والے افراد کا نومبر میں پیدا ہونے والے افراد کے مقابلے میں عارضہ قلب میں مبتلا ہوکر مرنے کا 12 فیصد زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ تو واضح نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے مگر سائنسدانوں کے خیال میں موسم کے مطابق غذا، ہوائی آلودگی اور سورج کی روشنی میں تبدیلی وغیرہ حمل اور زندگی کی ابتدا میں کردار ادا کرنے والے عوامل ہیں۔

محققین نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے 1976 میں نرسوں پر ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج کا جائزہ لیا جو 38 سال تک جاری رہی تھی

نتائج سے عندیہ ملا کہ جن خواتین کی پیدائش اپریل میں ہوئی، ان میں امراض قلب سے موت کا خطرہ ہوتا ہے، مارچ میں پیدا ہونے والی خواتین میں یہ خطرہ 9 فیصد، مئی یا جولائی میں 8 فیصد جبکہ جون میں 7 فیصد ہوتا ہے، دسمبر میں یہ شرح 5 فیصد ہوتی ہے۔

جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امیر گھرانوں میں پیدا ہونے والے افراد میں امراض قلب اور جلد موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے آخر میں واضح کیا کہ اس کی وجہ فی الحال واضح نہیں اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی تصدیق کی جاسکے اور اس کے ممکنہ میکنزم کو بھی سامنے لایا جاسکے۔

اے آر وائی نیوز