متحدہ عرب امارات کےوزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم”اوپیک” سے قطر کے الگ ہونے کے اعلان کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ قطر سیاسی تنہائی کے نتیجے میں “اوپیک” میں اپنا اثرو نفوذ قائم رکھنے میں ناکام رہا ہے، جس کے بعد دوحہ نے اس تنظیم سےالگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

“ٹوئٹر” پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر کی جانب سے اوپیک سے انخلاء کی اقتصادی شق کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی موجودہ حالات میں‌اس فیصلے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کا کہنا تھا قطر کے فیصلے کے بعد دوحہ کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے “اوپیک” کے خلاف ابلاغی جنگ کا امکان موجود ہے۔

خیال رہے کہ قطر گیس کی پیداوار پر زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کے تیل کی یومیہ پیداوار 6 لاکھ بیرل ہے مگر قطر دنیا بھر میں گیس کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔

خیال رہے کہ قطر نے کہا ہے کہ وہ عن قریب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم”اوپیک” سے علاحدگی اختیار کرے گا۔