برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان اور انڈیا کے معرض وجود میں آنے کے بعد انڈیا میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں نے پاکستان کی جانب نقل مکانی کی لیکن بالی وڈ کے نامور اداکار اور صدا کار نصیرالدین شاہ کے والدین نے انڈیا میں رہ جانے کو ترجیج دی۔

بالی وڈ کے نامور اداکار نصیرالدین شاہ کا برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان نہ جانے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ’یہ حقیقت ہے کہ انڈیا میں میرے والد کی کوئی جائیداد نہیں تھی لہذا وہ سرحد پار جا کر اپنے ضمیر کی آواز کے برخلاف دعویٰ کر کے جائیدادیں ہتھیانا نہیں چاہتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ ان کی یہاں سرکاری ملازمت تھی اسے چھوڑ کر نئی زندگی کا آغاز کرنا درست معلوم نہ ہوا چنانچہ انھوں نے آزاد ’ہندو ملک‘ میں رہنے کو ترجیح دی۔‘

نصیرالدین شاہ اپنی سوانح حیات ’اور پھر ایک روز‘ میں لکھتے ہیں کہ ان کے والد کبھی بھی کشتیاں جلانے کے قائل نہیں تھے، انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم انڈیا میں ہی رہ کر کچھ نہ کچھ بہتر کرلیں گے بعد میں یہی ثابت ہوا کہ انڈیا میں ہمارے لیے مستقبل کے بارے میں ان کے تخمینے اور اندازے غلط نہیں تھے۔

نصیر الدین شاہ

نصیرالدین شاہ کی سوانح حیات تقریباً پانچ برس قبل شائع ہوئی تھی لیکن حال ہی میں انھوں نے انڈیا کے شہریت کے متنازع قانون پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’70 برس بعد اب انھیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ بطور مسلمان انڈیا میں نہیں رہ سکتے اور یہ کہ انھیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت بھی پڑے کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ انڈین بھی ہیں۔‘

نصیر الدین شاہ کے مطابق ان کے والد علی محمد شاہ نے نائب تحصیلدار سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ نصیرالدین شاہ لکھتے ہیں کہ برطانوی حکومت میں پروونشل سروس کرنے سے قبل ان کے والد نے ایک سیلانی طرز کی زندگی گزاری تھی اس دوران صحبح آزادی طلوع ہوئی یعنی تقسیم برصغیر ہوئی اور انگریز یہاں سے چلا گیا۔

’وہ موقع سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے تھے اس لیے انھوں نے انڈیا میں رہ جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے دو بھائیوں نے انڈیا کو چھوڑ دیا، میری والدہ کے بہن بھائیوں میں سے بھی کئی ایک نے ایسا کیا۔ میری والدہ کے دس بہن بھائی تھے جبکہ میرے والد کے سات بہن بھائی، بلاشبہ ہم سب نے اپنے والد کے انڈیا نہ چھوڑنے کے فیصلے کو بہتر جانا۔‘

نصیر الدین شاہ کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان سے تھا، انھوں نے جنگ آزادی کو کچلنے میں انگریز فوج کا ساتھ دیا تھا۔ نصیرالدین شاہ اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ ہمارے جدامجد کا نام آغا سید محمد شاہ تھا وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب واقع ایک قصبے پغمان سے تعلق رکھتے تھے وہ پیشے کے اعتبار سے ایک فوجی تھے، وہ انیسویں صدی کے پہلے نصف میں کسی وقت برصغیر آئے تھے۔

’وہ ہندوستان کی 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی طرف سے لڑے تھے جنگ میں ان کے کارہائے نمایاں سے خوش ہو کر انھیں میرٹھ کے قریب جاگیر عطا کی گئی تھی اسے سردھنا جاگیر کہا جاتا تھا۔ اس جاگیر کے علاوہ آغا سید محمد شاہ کو سرکار برطانیہ کی جانب سے نواب جانفشان کا لقب دیا گیا تھا۔‘

نصیر الدین شاہ کے والد علی محمد شاہ نے اپنے آبائی دیس افغانستان سے تعلق باندھے رکھا تھا، جب افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان جلاوطن ہو کر برطانیہ گئے تو نصیر الدین شاہ کے والد بھی اس قافلے میں شامل تھے وہ شاہ افغانستان کی بیٹی کے انگریزی زبان کی اتالیق مقرر ہوئے تھے اور کچھ عرصے کے بعد وہ انڈیا واپس آ گئے۔

نصیرالدین شاہ والد کی سرکاری ملازمت کی وجہ سے انڈیا کے کئی شہروں اور دیہی علاقوں میں رہے۔ انھوں نےعلی گڑھ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں وہ اپنی پہلی بیوی پروین کے عشق میں مبتلا ہوئے۔

علی گڑھ یونیورسٹی کی یادوں میں وہ لکھتے ہیں کہ ’آپ صرف ایک کرتے اور پتلون میں ہاسٹل سے باہر نہیں جاسکتے تھے، شیروانی یا پینٹ شرٹ پہننا لازمی ہوتا تھا اسی طرح شیروانی کے ساتھ ٹوپی لازم تھی۔‘

نصیر الدین شاہ
Image captionنصیر الدین شاہ نے اپنی سوانح حیات کا انتساب اپنے بیٹوں عماد اور ویوان کے نام کیا ہے

’ہر جانب سے سلام، سلام کی آوازیں آتی تھیں، جو لوگ اونچی آواز میں دوسروں کو سلام نہیں کرتے تھے یا نماز میں خوش دلی سے شرکت نہیں کرتے تھے ان پر فوری طور پر ’کمیونسٹ‘ کا لیبل لگا دیا جاتا تھا۔ دوسری اہم روایت یہ تھی کہ انگریزی بولنے والے طالب علموں کو فوری طور پر ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کا لقب دے کر ان کی الگ طور پر درجہ بندی کر دی جاتی تھی۔‘

برصغیر کی تقسیم کے وقت نصیرالدین شاہ کے والدین پاکستان نہیں گئے لیکن اس بٹوارے سے جو خاندان تقسیم ہوئے اس تکلیف اور درد کو انھوں نے بھی قریب سے محسوس کیا۔

اپنی پہلی بیوی پروین مراد کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ پانچ برس کی تھیں تو والد اور والدہ میں علیحدگی ہو گئی اور والد بیٹی کو لے کر پاکستان چلے گئے اور یوں پروین کا بچپن کراچی میں گزرا۔ جس کے بعد میں وہ تعلیمی ویزے پر والدہ کے ساتھ رہنے انڈیا آ گئی تھیں۔ یہاں قیام کے لیے وہ ایک شعبے کے بعد دوسرے شعبے میں داخلہ لیتی تھی۔

نصیر الدین شاہ اور پروین مراد کی عمر میں ساڑھے 14 برس کا فرق تھا وہ اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’ان دنوں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی زوروں پر تھی اس کشیدگی کی وجہ سے دونوں طرف شکوک و شبہات بہت زیادہ تھے، بنگلہ دیش کا تنازع شروع ہو چکا تھا اور پاکستان کا خیال تھا کہ مکتی باہنی کے ذریعے انڈیا وہاں فتنے اور فسادات کو ہوا دے رہا ہے۔ انڈیا کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانیوں کو رجسٹرڈ کروانا پڑتا تھا اور پولیس سٹیشن میں ہفتہ وار رپورٹ کرنے کے لیے بھی پابند کیا جاتا تھا۔‘

’پروین بھی پاکستانی ہی تھی ان کے ویزے کے خاتمے کے متعلق ایک نوٹس بھی جاری کر دیا گیا تھا مگر پروین کا مسئلہ انڈیا میں رہنا تھا جو وہ کسی بھی انڈیا کے شہری کے ساتھ شادی کر کے ہی حل کر سکتی تھی چناچہ اپنی محبت کو انڈیا میں روکنے کے لیے ان سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔‘

نصیر الدین شاہ اور پروین مراد کی شادی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکی اور وہ ان کی بیٹی حبہ شاہ کو لے کر لندن منتقل ہو گئیں۔ حبہ شاہ بعد میں بالی وڈ کی اداکارہ بنیں۔

نصیر الدین شاہ نے دوسری شادی تھیٹر اور فلم کی اداکارہ رتنا پاٹھک سے کی، انھوں نے اپنی سوانح حیات کا انتساب اپنے بیٹوں عماد اور ویوان کے نام کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ دونوں افراد اس کتاب میں کہیں نظر نہیں آئیں گے تاہم ان کی والدہ رتنا سے ملاقات اور شادی کا ذکر تفصیلی موجود ہے۔

نصیر الدین شاہ
Image captionنصیر الدین شاہ نے دوسری شادی تھیٹر اور فلم کی اداکارہ رتنا پاٹھک سے کی

نصیرالدین شاہ لکھتے ہیں کہ ’میں نے پہلی بار جب امی سے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ وہ ایک ہندو لڑکی سے شادی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو انھوں نے پوچھا کہ تم نے کیا اس کو اسلام قبول کرنے کا کہا ہے، کیا وہ اسلام قبول کرنے پر تیار ہے؟

میں نے امی سے کہا کہ نہیں میں رتنا کو اسلام قبول کرنے کا بالکل نہیں کہوں گا میرے اس جواب پر امی نے میری جانب دیکھا اور آہستہ آہستہ اپنے سر کو کچھ دیر تک ہلاتی رہیں۔ خاموشی نیم رضا کے مصداق اس وقت مجھے لگا کہ امی نے رتنا سے میری شادی والی بات کو ناپسند نہیں کیا، اس کے بعد وہ رتنا کا رشتہ لینے چلی گئیں۔‘

نصیر الدین شاہ کے بڑے بھائی ضمیر الدین شاہ انڈین فوج کے نائب سپہ سالار تعینات ہوئے اور علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر فرائض سرانجام دیے اس کے علاوہ کئی بھتیجے بھانجے اور دیگر رشتے دار فوج اور انڈین سول سروس میں رہے۔

نصیرالدین شاہ فلم فیئر ایوارڈ اور نینشنل فلم ایوارڈ لے چکے ہیں ساتھ میں انڈین حکومت انھیں پدما شری اور پدما بھوشن ایوارڈ بھی دے چکی ہے۔ ان کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جو انڈیا کی سیکولر شناخت پر یقین رکھتے ہیں۔

BBC URDU