وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے امن کی خواہش کوکمزوری نہ سمجھا جائے، اس ملک کا ہیرو ٹیپو سلطان ہے، غلامی قبول نہیں کریں گے، بھارت کو پیغام دیتا ہوں اس سے آگے نہ جائے، کل بھارتی پائلٹ کو چھوڑ دیں گے۔

پاک بھارت کشیدگی پر قومی اسمبلی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم عمران خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اپوزیشن کا شکرگزار ہوں، پوری قوم اس وقت متحد ہے، کہا تھا بھارت ایک قدم بڑھائے تو ہم 2 بڑھائیں گے، دنیا میں سب سے زیادہ غربت برصغیر میں ہے، چین نے ہمسایوں کے ساتھ مسائل کو احسن طریقے سےنمٹایا۔ انہوں نے کہا مودی کو خط لکھا لیکن ردعمل اچھا نہیں آیا، مودی کا ردعمل اس لیے اچھا نہیں کیونکہ بھارت میں الیکشن ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت کو کہا ثبوت دیں، ایکشن لیں گے، ثبوت دینے کے بجائے بھارت میں جنگی ماحول پیدا کیا گیا، ساری صورتحال میں پاکستانی میڈیا نے مثبت کردار ادا کیا، میڈیا نے خود دیکھا دہشتگردی سے تباہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا بھارت سے یہ بھی کہا کہ کوئی کارروائی کی تو جواب دیں گے، بھارت نے آج پلوامہ سے متعلق ڈوزیئر دیا، بھارتی میڈیا نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، کل کوشش کی کہ مودی کو ٹیلی فون کروں، عالمی برادری نے بھی کوشش کی کہ کشیدگی کم ہو۔

وزیراعظم نے کہا 4 سال کے دوران کشمیر میں انتہائی ظلم ہوا، مقبوضہ کشمیر میں ایک تحریک شروع ہو چکی ہے، کشمیری آزادی کے علاوہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں، کیا وجہ ہے کہ ایک 19 سالہ کشمیری نوجوان خودکش بمبار بن گیا ؟ کیا بھارتی عوام کو اپنی حکومت سے یہ سب نہیں پوچھنا چاہیئے، کاش بھارتی میڈیا نے دہشتگردی سے پاکستان میں تباہی دیکھی ہوتی۔ انہوں نے کہا کوشش کریں گے ترکی سے بھی مسئلے کو حل کرانے کی بات کریں، تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، پاکستان امن چاہتا ہے۔