البلد ایئربیس عراق کے ایف 16 طیاروں کا مرکزی ہوائی اڈہ ہے—  فائل فوٹو: رائٹرز
البلد ایئربیس عراق کے ایف 16 طیاروں کا مرکزی ہوائی اڈہ ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

عراق کے شہر بغداد میں واقع البلدایئر بیس پر راکٹوں کے حملوں میں 4 مقامی فوجی زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ بغداد کے شمال میں واقع ایئر بیس پر امریکی فوجیوں کے ٹھکانے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراق کی عسکری قیادت نے 4 مقامی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

عرقی فوج کے بیان کے مطابق کاتیوشا نوعیت کے 8 راکٹ البلد ایئربیس سے ٹکرائے جس میں دو عراقی افسر اور دو ایئرمین زخمی ہوگئے۔

خیال رہے کاتیوشا راکٹ لانچر ایک وقت میں متعدد راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

البلد ایئربیس عراق کے ایف 16 طیاروں کا مرکزی ہوائی اڈہ ہے جسے عراق نے اپنی فضائی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے امریکا سے خریدا تھا۔

فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس اڈے پر امریکی فضائیہ کے چھوٹے دستوں کے ساتھ امریکی ٹھیکیدار بھی موجود تھے تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کے بعد اکثریت کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

ایک ذرائع نے بتایا کم از کم 90 فیصد امریکی مشیران اور سیلی پورٹ اور لاک ہیڈ مارٹن کے ملازمین، جو طیاروں کی بحالی میں مہارت رکھتے ہیں، دھمکیوں کے بعد واپس چلے گئے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا البلاد ایئربیس پر صرف 15 امریکی فوجی اور ایک طیارہ موجود ہے۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ حملے کس نے کیا اور اس کا مقصد کیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عروج اس وقت پہنچا جب امریکا نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پیراملیٹری کے سربراہ سمیت 9 افراد کو نشانہ بنایا۔

ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکا کو اس حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے امریکی اقدام کو جنگ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ ایران نے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغ دیے تھے۔

ایران نے میزائل حملے میں ’80 امریکی دہشت گرد‘ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم امریکا نے تہران کے دعوے کو مسترد کردیا تھا۔

اس سے قبل یعنی گزشتہ برس دسمبر میں شمالی عراق میں ہونے والے راکٹ حملے میں ایک امریکی ٹھیکیدار مارا گیا تھا جس کے جواب میں امریکی فضائی کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجووں کے 25 اراکین ہلاک ہوگئے تھے۔