پاکستان کا سیکولر، لبرل اور روشن خیال طبقہ جو خود کو آزادی، امن اور انسانی حقوق کا علمبردار بنا کر پیش کرتا ہے، اس طبقے کے دل میں آج کل ایک خواہش بہت شدت سے مچل رہی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ شکست خوردگی کی ذلت کی دلدل میں بار بار دھنستے ہیں اور ڈھٹائی کے ساتھ پھر قلم ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں یا کیمروں کے سامنے آکر اپنے سینوں میں چھپی ہوئی خواہشوں کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ یہ طبقہ مدتوں کیمونزم، سوشلزم اور کسان مزدور کی بادشاہت کے خواب دیکھتا رہا، لیکن اس کا اصل ہدف اسلام اور مسلمان تھے۔آجکل یہ جمہوریت، انسانی حقوق اور مذہب سے آزاد معاشرت کے خواب بیچتا ہے۔ لیکن کیا کریں اس سیکولر، لبرل اور روشن خیال طبقے کی آرزوؤں، خواہشوں اورتمناؤں کاواحد قبرستان ،گذشتہ نصف صدی سے اللہ کے مالک و مختار ہونے پر کامل یقین رکھنے والوں کی سرزمین افغانستان بنتا چلا آرہا ہے۔ یہ متوکل علی اللہ مسلمانوں کا ایسا مسکن ہے جہاں گذشتہ تیس سال سے بھی کم عرصے میں دنیا کی دو عالمی طاقتوں کو بدترین شکست کا سامنا ہوچکا ہے۔ ذلت و رسوائی اور ٹیکنالوجی کے دیوتا کی تذلیل اور وہ بھی نہتے، بے سر و سامان اور مٹھی بھر افغانوں کے ہاتھوں۔۔۔ میرا اللہ اپنی قدرت کی نشانیاں ان تمام تبصرہ نگاروں، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کے منہ پر ذلت کی صورت تحریر کرتا چلا آرہا ہے۔ دسمبر 1979ء میں روس کی آمد سے لے کر 15 فروری 1989ء تک جب آخری روسی فوجی افغانستان سے شکست کا داغ سجائے نکلا اورپھر جب 7 اکتوبر 2001ء کو امریکہ دنیا کے اڑتالیس ممالک کی طاقتور افواج کے ساتھ کابل میں داخل ہوا، اس دن سے لیکر اب تک ان اٹھارہ سالوں کے بعد یعنی جب امریکہ قطر میں اپنی پسپائی اور محاذ جنگ سے واپس جانے کی تاریخیں گن رہا ہے تو میرے ملک کا یہ اسلام دشمن سیکولر، لبرل دانشور ذلت و رسوائی کے کیچڑ سے ڈھٹائی کے ساتھ برآمد ہوا اور دنیا کے میڈیا کو ایک نیا چورن بیچنے لگا۔ یہ چورن ان کی خواہش اور خواب ہے۔ کہا جا رہاہے کہ امریکیوں کے جانے کے بعد افغانستان میں شدید خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، اس قدر قتل و غارت ہو گی کہ لوگ امریکیوں کو یاد کریں گے۔ اس طبقے نے اپنی اس خواہش کو روس کے چلے جانے کے بعد پاکستان کے امریکہ پرست سیاسی حکمرانوں اور دیگر اسلامی ممالک میں امریکی سرپرستی میں قائم بادشاہتوں کے ذریعے مجاہدین میں اختلاف پیدا کرکے پورا کر لیا تھا اور افغانستان کئی سال خانہ جنگی کی آگ میں بھی جلتا رہاتھا۔ آج بھی ان کی یہی خواہش، تمنا اور خواب ہے۔ لیکن اس دفعہ ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔افغانستان کا مقدر اب طالبان کے ہاتھ میں جانے والا ہے۔کون طالبان ؟ ان تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کو شاید 11 نومبر 1994ء کی وہ صبح یاد نہ ہو، انہیں کیا پاکستان کی با خبر ایجنسیوں کو بھی اس کا علم تک نہ تھا۔اس دن افغانستان میں ملا محمد عمر مجاہد کی سربراہی میں پچاس کے قریب فرزانوں نے “طالبان’ کے نام پر ایک تحریک کو منظم کیا اور پاکستانی شہر چمن کی سرحد کے پار افغان قصبے سپن بولدک میں موجودخود ساختہ کمانڈروں اور وارلارڈز کو اپنے کالے دھندوں سے باز آنے کا پیغام بھیجا۔ وہ پیغام انہوں نے ہنسی میں اڑا دیا۔ سپن بولدک میں سمگلنگ کا بازار لگتا تھا اور ہر ٹرک سے زبردستی بھتہ وصول کیا جاتا تھا۔ اگلے دن ایک ٹرک میں طالبان کی کل پچاس کی عددی قوت میں سے چالیس افراد ایک ٹرک میں سوار ہوئے اور اس پر ترپال تان دی گئی۔ بولدک کے عادی بھتہ خور کمانڈر نے رشوت وصول کی اور یہ چالیس طالبان شہر میں داخل ہو گئے اور صرف پندرہ منٹ کی مزاحمت کے بعد شہر پر طالبان کا سفید پرچم لہرا رہا تھا۔ صرف دو دن کے بعد یعنی 13 نومبر کو قندھار ان کے زیر تسلط تھا۔ اس کے بعد فتوحات اور امن کی ایک تاریخ ہے۔ 27 ستمبر 1996ء کو کابل فتح ہوا تو اس کے بعد افغانستان کی گذشتہ تین سو سالہ تاریخ میں اگلے پانچ سال امن، انصاف اور سکون کے سال لکھ دیئے گئے۔ طالبان کے مقابل صرف وہ تھوڑا سا افغانستان تھا جہاں روس، امریکہ، ایران اور بھارت ملکر شمالی اتحاد کی مدد کر رہے تھے۔ لیکن 8 اگست 1998 ء کو جب مزار شریف فتح ہوا تو ان عالمی طاقتوں کی بد حواسی دیکھنے کے قابل تھی۔ سات سالہ خانہ جنگی یوں ختم ہوئی کہ پورے افغانستان میں سکون کا راج ہوگیا۔ صرف ایک مثال، طالبان ایک فیصلے سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ افغان معاشرے میں چار ہزار سالہ روایت یہ تھی کہ ہر کوئی اپنے دفاع کے لئے اسلحہ اپنے پاس رکھتا تھا۔ تیر و تلوار کے زمانے سے کلاشنکوف تک یہ روایت قائم رہی۔ یہاں تک کہ 1992ء میں جب امریکہ نے افغانوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے تین ارب ڈالر اسلحہ کی واپس خریداری کے لئے مختص کیے اور سٹنگر میزائل سے لے کر بندوق تک واپس لینے کے لیے پیسے دینا شروع کیے گئے مگر کامیابی نہ ہو سکی۔ طالبان حکومت کے ایک حکم نامے کے بعد پورے افغانستان میں عوام نے ذاتی اسلحہ حکومت کے حوالے کر دیا، کیونکہ انہیں اب یقین ہو گیا تھا کہ ریاست ان کے جان و مال کی محافظ ہے۔ شرعی قوانین کے نفاذ نے صحابہ کرامؓ کا وہ دور زندہ کر دیا جب لوگ آخرت کے خوف سے جرم کا اقرار کرتے تھے۔۔ یکم مئی 2001 کو افغانستان کی سپریم کورٹ میں ایک نوجوان نے چار بار زنا کے جرم کا اقرار کیا اور درخواست کی کہ اس پر حد نافذ کی جائے اور اس کے کنوارا ہونے کی وجہ سے عدالت کے باہراسے سو کوڑے لگائے گئے۔ سود کے خاتمے کا ملا محمد عمر کا 2 ذیقعد 1421 کا وہ فرمان اس قدر تفصیلی ہے کہ عالمی معاشی و مالیاتی نظام کی خرابیوں کو بھی واضح کرتا ہے۔ وہ افغانستان جو پوری دنیا کو فراہم کی جانیوالی پوست، افیون اور ہیروئن 97 فیصد برآمد کرتا تھا، صرف ایک فرمان کے بعد دنیا کے نقشے پر ہے ایسا ملک بن کر ابھرتا ہے جہاں پوست کاشت ہی نہیں ہوتی۔ میرے ملک کا یہ دانشور اپنی جہالت کی وجہ سے ان دنوں ایک اور چورن بیچ رہا ہے کہ طالبان تو پشتون اور سنی ہیں ،یہ آئیں گے تو ازبک، تاجک اور شیعہ اقلیتوں سے لڑائی شروع ہو جائے گی۔ انہیں شاید علم ہی نہیں کہ ملا عمر کی حکومت سے زیادہ وسیع البنیاد کوئی اور حکومت افغانستان کے گذشتہ ماضی میں قائم ہی نہیں رہی۔ کابل کی وزارتیں مختلف نسلی گروہوں میں تقسیم تھیں۔ منصوبہ بندی، تعلیم اور سماجی بہبود کی وزارتیں بدخشانی فارسی خوان اقلیت کے پاس تھیں۔ نسلی تعصب سے ماورا ہونے کا عالم یہ تھا کہ پکتیا پشتون اکثریت کا صوبہ ہے۔ طالبان دور میں اس کا گورنر بھی بدخشانی فارسی خوان تھا۔ اس اقلیت کو فوج کی ایک انفینٹری ڈویژن کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی، جس میں شیعوں پر مشتمل ایک ڈویژن شامل تھی جو سنیوں کے ساتھ مل کر شانہ بشانہ طالبان مخالف گروہوں سے لڑتے تھے۔ ایک اور چورن یہ بھی بیچا جا رہا ہے کہ خواتین کے حقوق پامال ہو جائیں گے۔ 1997ء میں پندرہ سال بعد کابل یونیورسٹی کھولی گئی اور 1999ء میں خواتین کلاسوں کا آغاز ہوا۔ اقوام متحدہ کی 1999 ء کی رپورٹ اٹھا لیں، قندھار،ہرات اور جلال آباد میں خواتین کے نرسنگ اسکول کھولے گئے۔ کیا کوئی سیکولر دانشورمیڈیا کو بتائے گا کہ 8 مارچ 2000ء کوپورے افغانستان میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ کابل میں سات سو خواتین پر مشتمل تقریب ہوئی جس میں یونیورسٹی پروفیسرز ، ڈاکٹر، نرسیں اور اسکولوں کی پرنسپل شامل ہیں۔ اس تقریب میں ملا محمد عمر کا یہ پیغام سنایا گیا “ہمارے پاس خواتین کی تعلیم کے مسئلہ کا حل تو ہے لیکن اس کا کوئی حل نہیں جو دنیا ہم سے چاہتی ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کریں”۔ کوئی آزاد مورخ، دانشور یا تجزیہ نگار جب طالبان کے اس دور کی تصویر کا مطالعہ کرنے کے بعد آنے والے افغانستان کا نقشہ ترتیب دے گا تو وہ صرف ایک ہی فقرہ بولے گا کہ “امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کے بعد اگر کسی قوت میں افغانستان کو پر امن بنانے کی صلاحیت ہے تو وہ صرف اور صرف طالبان ہیں”۔ مجھے ترس آتا ہے ان لبرل، سیکولر دانشوروں پر جن کا یہ خواب بھی چکنا چور ہونے والا ہے کہ امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان خونریزی میں بدل جائے گا۔ ٭٭٭٭٭ ایک بیوہ کو قرض اتارنے کے لیے قرض حسنہ کی ضرورت ہے جو وہ آسان ماہانہ اقساط میں ادا کردے گی۔ صاحب خیر حضرات اس نمبر پر بات کرکے تسلی کے بعد مدد کرسکتے ہیں