ولبر روس

امریکہ کے سیکرٹری برائے تجارت ولبر روس نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والا مہلک کورونا وائرس امریکہ کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اس سے شمالی امریکہ میں ملازمتوں کی واپسی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔‘

اس وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے چین کی معیشت اور عالمی ترقی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ولبر روس کے اس بیان پر ٹرمپ انتظامیہ کے ناقدین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

فاکس بزنس نیوز پر پوچھے گئے ایک سوال پر کہ آیا اس وائرس کا پھیلاؤ امریکی معیشت کے لیے خطرہ ہے، ولبر روس نے کہا: ’میں ایک انتہائی بدقمست اور مہلک بیماری پر کامیابی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’حقیقت یہ ہے کہ اس سے کاروباروں کو اپنی سپلائی چین پر نظرِثانی کرنے کے لیے ایک اور چیز مل گئی ہے۔۔۔ تو میرے خیال میں اس سے شمالی امریکہ میں ملازمتوں کی واپسی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔‘

بعد ازاں امریکی محکمہ تجارت نے ان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’جیسا کے سیکرٹری روس نے واضح کیا ہے کہ سب سے پہلا قدم وائرس پر قابو پانا اور اس سے متاثر ہونے افراد کی مدد کرنا ہے۔‘

ایک ترجمان نے کہا ’ایک ایسے ملک کے ساتھ کاروبار کی افادیت پر غور کرنا ضروری ہے جس کی اپنے لوگوں اور پوری دنیا کے لیے خطرات کو روکنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔‘

ولبر روس کے اس بیان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے رکن کانگرس ڈان بیئر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مہلک وبا کے دوران کاروباری فوائد پر بات کرنے سے متعلق سوال اٹھایا۔

ماہرین معاشیات نے بھی ولبر روس کے بیان پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سنگاپور میں برطانوی کمپنی ’دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘ کے سائمن بیپٹسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یہ بیان ’انتہائی عجیب‘ لگا۔

انھوں نے کہا ’کمپنیاں کسی بیماری کے پھیلنے کی بنیاد پر سنجیدہ اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلے نہیں کر رہیں جو شاید صرف تین سے چھ ماہ تک جاری رہے گی۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وائرس امریکہ پر مثبت کے بجائے منفی اثرات مرتب کرے گا۔

’ہر چیز کے باوجود امریکہ درحقیقت ہارنے والا ہے، چین ابھی بھی امریکہ کے لیے بڑی مارکیٹ ہے تو اگر چین کی معیشت میں کمی آتی ہے تو اس سے امریکہ کو بھی دھچکا لگے گا۔‘

چین کے علاوہ دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے ایک عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

کورونا وائرس
Image captionکورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے چین کی معیشت اور عالمی ترقی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے

چین میں اب تک اس وائرس کی وجہ سے 213 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ دیگر 18 ممالک میں بھی پھیل چکا ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سنہ 2002 اور 2003 میں پھیلنے والی وبا سارس کے مقابلے کورونا وائرس دنیا کی معیشت پر زیادہ اثر انداز ہو گا۔ سارس نے کم از کم آٹھ ہزار افراد کو متاثر کیا تھا جس کی وجہ سے 700 سے زائد اموات ہوئیں اور عالمی معیشت کو 30 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے چین میں ٹیکنالوجی اور کاریں بنانے والی کمپنیوں سمیت بڑے کاروبار عارضی طور پر بند ہو رہے ہیں جبکہ حکام نے نئے قمری سال کے موقع پر چھٹیوں میں اضافہ اور ملک میں سفری پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔

بی بی سی اردو