کون جیتا ……… کون ہارا ؟
ابوبکر قدوسی
قطر میں ہونے والے طالبان اور امریکی مذاکرات میں ایک بات تو کھل کے سامنے آئی کہ اس میں شرائط لگانے اور منوانے والا فریق طالبان ہے اور چار و ناچار ماننے والا فریق امریکہ ہے –
ایک خبر جو دو ہفتے پہلے آئی اور ہوا کے دوش گم ہو گئی تھی لیکن جاتے جاتے ہماری اوپر کردہ بات کی تصدیق کر گئی تھی – وہ یہ کہ جب طالبان نے مذاکرات کو موخر کرنے کا عندیہ دیا تو امریکی ایلچی خاتون فوری طور پر پاکستان پہنچی تھیں – اس سے دو باتیں واضح ہوئیں تھیں ایک یہ کہ امریکہ ہر صورت مذاکرات کامیاب کرنا چاہتا ہے ، دوسری یہ کہ پاکستان ابھی بھی طالبان پر اتنا اثر رکھتا ہے کہ طالبان کو راضی رکھنے کے کے لیے پاکستان کی منت سماجت ضروری سمجھی جا رہی ہے –
پاکستان کی ان مذاکرات میں اہمیت جاننے کے لیے آپ زلمے خلیل زاد کے بدلے ہوے لہجے کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں – زلمے خلیل زاد پاکستان دشمنی میں معروف ہیں ، لیکن ان مذاکرات میں امریکی نمائندگی کرتے ہوے انہوں نے ماضی کے برعکس سفارتی آداب کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی – حالانکہ ابھی مہینہ بھر پہلے ٹرمپ اپنی ٹویٹس میں پاکستان بارے ان آداب کی دھجیاں اڑا چکے ہیں –
کہنے کا حاصل یہ ہے کہ زلمے خلیل زاد کا پاکستان بارے معقول رویہ امریکہ کی مذاکرات بارے سنجیدگی ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی کہ امریکہ ہر قیمت پر ان مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے –
ان مذاکرات میں سب سے اہم نکتہ یہی رہا کہ غیر ملکی افواج کے نکلنے کا ٹائم ٹیبل مقرر کیا جائے – ابھی مذاکرات کا موجودہ دور ختم ہو گیا ہے – زلمے خلیل زاد کابل کی حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے نکل گئے ہیں اور طالبان نے بھی کوئی منفی بات نہیں کی اور مذاکرات بارے اچھے جذبات کا اظہار کیا ہے – اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات میں جاری گفت شنید میں کوئی ڈیڈ لاک آیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا بڑا اختلاف کہ مذاکرات معطل ہو کے ہی رہ جائیں –
ایک دلچسپ پہلو ان مذاکرات میں یہ بھی نظر آیا کہ فریقین نے اس دوران ایک دوسرے پر حملے جاری رکھے – طالبان نے ایک اڈے پر بڑا حملہ کیا اور سوا سو فوجی مار دیئے جو ماضی کی نسبت ان کی ایک بڑی کامیابی تھی – اس بڑے حملے کا مذاکرات کے دنوں میں کرنا امریکہ کو یہ جتلانے کے سوا کیا تھا کہ گیم ہمارے ہاتھ میں ہے نہ کہ آپ کے – اس کے جواب میں امریکہ نے بھی ایک بڑا حملہ کیا اور پچیس کے قریب طالب مار دیے ..لیکن امریکی حملے ہمیشہ اخلاقی کمزوری کا مظہر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ہمیشہ عام شہریوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوتی ہیں –
ہمیشہ سے دیکھا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران جنگیں روک دی جاتی ہیں لیکن ان مذاکرات میں ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ماضی کی نسبت حملے شدید ہو گئے – کہا جا سکتا ہے کہ فریقین مذاکرات کے دوران ایسا کر کے نفسیاتی دباؤ ڈال رہے تھے جو ہمیشہ تب ہوتا ہے کہ کوئی واضح ہدف سامنے موجود ہو – اور یہی ہوا کہ مذاکرات کا دور ختم ہو تو کسی بھی فریق نے مذاکرات کی ناکامی کا عندیہ نہیں دیا بلکہ امید افزاء بات کی گئی –
جہاں تک بات ہے کہ افغان جنگ کون جیتا اور کون ہارا تو اس میں کوئی بھی دوسری رائے نہیں ہے کہ یہ جنگ امریکہ ہار چکا ہے اور طالبان جیت رہے ہیں – طالبان نے بس اتنا کیا ہے کہ حقیقت کا ادراک کرتے ہوے جنگ کو ختم کرنے کی راہ اختیار کی ہے – اور حقیقت یہ ہے کہ ایسی جنگوں میں مکمل فتح کے لیے نقصان زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ برداشت کرنا پڑتا ہے اور جب حقیقی مقاصد کم نقصان سے حاصل ہو رہے ہوں تو اس سے روگردانی کوئی بہتر رویہ نہیں ہے – اس لیے طالبان نے امریکی افواج کے انخلاء ، قیدیوں کا تبادلہ اور موجودہ افغان حکومت سے مل کے کام کرنے کی کسی صورت کو اختیار کرنے کو قبول کیا ہے – طالبان کا یہ فیصلہ ان کے ماضی کی نسبت لچک دار ہونے کی واضح دلیل بھی ہے –

امریکا و طالبان کا 17 سالہ افغان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ

امریکا اور افغان طالبان نے 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا معاہدہ کرلیا،18 ماہ میں غیر ملکی افواج افغانستان چھوڑنے پر بھی اتفاق ہوگیا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 6 روز سے جاری مذاکرات میں امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں امن کےلئے انتہائی اہم معاہدہ ہوگیا۔

 

غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور امریکی وفود کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے کے ساتھ آئندہ 18 ماہ میں غیر ملکی افواج کے افغانستان چھوڑنے پر اتفاق ہوا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے مذاکرات میں جنگ بندی اور غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاکےمعاہدے کے بعد طالبان براہ راست افغان حکومت سے بات کریں گے۔

امریکا و طالبان کا 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ

دوحہ مذاکراتی عمل مکمل ہونے کے بعد امریکی نمائندے خصوصی برائے افغان مصالحتی عمل زلمے خلیل زاد پیشرفت سے افغان صدر اشرف غنی کو آگاہ کرنے کےلئے کابل روانہ ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنگ بندی کا شیڈول آئندہ چند روز میں طے کیا جائےگا،تاہم یہ بات سامنے نہیں آسکی کے معاہدے کے حوالے سے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا یا معاہدے کی تمام شقوں کو امریکا نے قبول کرلیا ہے یا اس میں چند ایک پر اس کے اعتراض باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر تاحال کابل میں واقع امریکی سفارتخانے کا موقف سامنے نہیں آیا ہے،حالات سے آگاہی کے بعد افغان حکومت کے ردعمل سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔

طالبان ذرائع کے مطابق طالبان نے امریکا کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین القاعدہ یا داعش کو امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہی امریکا کا مرکزی مطالبہ تھا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ بندی کے حوالے سے دورانیے کو حتمی شکل دیں گے تاہم افغان حکومت کے نمائندوں سے صرف اس وقت بات چیت ہوگی جب جنگ بندی کا نفاذ ہوجائے گا۔

طالبان ذرائع کے مطابق معاہدے کے دیگر نکات میں قیدیوں کا تبادلہ، طالبان رہنماؤں پر عائد سفری پابندیوں کا اختتام اور سیز فائر کے بعد افغانستان میں عبوری حکومت کا قیام شامل ہیں۔

افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان قطر میں گزشتہ ایک ہفتے سے مذاکرات جاری تھے جن میں جنگ بندی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر غور کیا جارہا تھا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام ایسے امن معاہدے کے خواہاں ہیں جس کے تحت طالبان کی آئندہ افغان حکومت میں شمولیت کی راہ ہموار ہوسکے۔

امریکی حکام کا یہ بھی اصرار ہے کہ طالبان موجودہ افغان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کریں تاہم طالبان اب تک اس سے انکار کرتے آئے ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں بھی پاکستان کی معاونت سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں افغان امن مذاکرات ہوئے تھے جس میں طالبان سمیت فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذاکرات میں شریک طالبان نمائندے اپنی شوریٰ سے بات کریں گے اور جس کے بعد دوبارہ زلمےخلیل زاد سے ملاقات کریں گے۔

پاکستان کی معاونت سے شروع ہونے والے مذاکرات میں امریکا اور افغان طالبان کے علاوہ اماراتی اور سعودی حکام بھی حصہ تھے۔

دسمبر کے مہینے میں ہی وزیراعظم عمران خان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط لکھا تھا جس میں پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا گیا تھا۔

جواب میں وزیراعظم نے کہا تھا ہم افغانستان میں امن لانے کے لیے خلوص کے ساتھ پوری کوشش کریں گے، اس کے بعد طالبان اور امریکی حکام کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے تھے۔