مذہبی آزادی کی پامالی کا الزام، امریکا نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا

امریکا نے پاکستان پر مذہبی آزادی کی پامالی کا الزام لگا کر بلیک لسٹ کر دیا۔

امریکی وزارت خارجہ نے ایک سال پہلے پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کانام تشویشناک ممالک کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔

امریکا کی جانب سے پاکستان پر مذہبی آزادی کی پامالی کا الزام لگایا گیا۔بلیک لسٹ میں چین،سعودی عرب، ایران، بعض دیگر ملک شامل ہیں۔

امریکا نے اقلیتوں سے ناروا سلوک کا بہانہ بناتے ہوئے پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسی سال مئی میں عالمی مذہبی آزادی رپورٹ 2017 جاری کردی گئی۔مذہبی آزاد ی پر امریکہ کے خصوصی سفیر سیموئیل برون بیک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا بھارت میں بھی مختلف مذاہب کو آزادی حاصل نہیں ہے ۔امریکہ بھارت کو واچ لسٹ میں نہیں ڈال رہا۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا یہ رپورٹ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی حمایت میں امریکی تاریخی کردار کا ایک بیان ہے۔ مذہبی آزادی کا امریکہ کے آغاز میں کردار تھا اور یہ ہماری مستقبل کیلئے بھی اہم ہے ۔ یہ دنیا بھر کے ہر شہری کا حق ہے ، صدر ٹرمپ اور نائب صدر مذہبی آزادی کے خواہاں افراد کے ساتھ ہیں۔ ہم دنیا بھر میں حال اور مستقبل میں مذہبی آزادی کی حمایت کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔

یہ رپورٹ امریکی اور عالمی اقدار کے تحفظ کیلئے امریکی سفارتکاروں کی محنت کو آشکار کرتی ہے ، یہ رپورٹ 200 ملکوں میں حکومتوں، دہشت گرد گروپوں اور انفرادی شخصیات کی جانب سے مذہبی آزادی کو پامال کرنے اور اس مسئلے کے حل کا احاطہ کرتی ہے ۔ اسی سال 25 اور 26 جولائی کو امریکہ میں مذہبی آزادی پر پہلی مرتبہ وزرا کی سطح کی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس میں ہم خیال حکومتوں، عالمی تنظیموں، مذہبی طبقات، سول سوسائٹی کے افراد کو دعوت دی گئی۔

اس موقع پر پاکستان کا نام واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا ۔تاہم تازہ ترین خبر کے مطابق پاکستان کا نام واچ لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں امریکا نے اقلیتوں سے ناروا سلوک کا الزام لگا کر پاکستان کو تشویشناک ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا

دنیا نیوز