امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لئے یوں تو ہر دور میں نظریاتی، مسلکی اور فقہی گروہ چودہ سو سال سے سرگرم عمل رہے ہیں ،لیکن مسلمانوں کو قومی ریاستوں میں تقسیم کرکے ان میں محدود وطنیت کا بیج بونا ایک ایسی سازش تھی جو تیار تو اسلام دشمن قوتوں کے ہاں ہوئی لیکن اسے “نظمِ اجتماعی” کے شرعی لبادے میں ڈھالنے کا فریضہ ان جدیدیت و مغربیت کے متاثرین نے ادا کیا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گذشتہ تین صدیوں سے یہ دستور بنا لیا ہے کہ اسلام کا جو بھی تصور سائنس، سوشل سائنس، معاشرت، مدنیت یہاں تک کے اجتماعی اخلاقیات کے پیمانے پر پورا نہیں اترتا اسے مسترد کر دیا جائے۔ سرسید احمد خان سے لے کر علامہ جاوید احمد غامدی تک ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے جدید سائنس، معاشرت اور مدنیت کا ترازو ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور اس پیمانے پر اسلام کا جو بھی تصور پورا نہ اترتا ہو، اول تو اسے سرے سے ہی مسترد کر دیا جائے یا پھر جیسے کوئی تولنے والا کانٹ چھانٹ کرتا ہے، ویسے ہی مختلف توجیہات کے ذریعے اسے جدید پیمانوں پر فٹ کردیا جائے۔ سر سید احمد خان نے جب معراج نبویؐ کا انکار کیا تھا تو اس وقت تک سائنس نیوٹن کے نظریات کے جھولے میں جھول رہی تھی، اگر سرسید مزید ایک سو سال زندہ رہتے اور آئن سٹائن انہیں بتا دیتا کہ اگر ایک جسم کو روشنی کی رفتار جو ایک لاکھ چوبیس ہزار میل فی سیکنڈ ہے سے گھمایا جائے تو اس پر ٹائم اور سپیس (space) کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سرسید اچھل پڑتے اور کہتے دیکھو ایسے ہی اس کائنات کے مالک اللہ تبارک و تعالی نے رسول اکرم ﷺکو معراج آسمانی کروایا تھا۔ سائنس پر دین کو پرکھنے والا گروہ تو آج بھی اسی طرح سرگرم عمل ہے لیکن ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو جدید معاشرت اور مدنیت کے پیمانوں پر دین کی اساس کو تبدیل کردیتا ہے۔ اس پیمانے پر اصول دین کوشرعی توجیہات سے کاٹنے چھانٹنے میں علامہ جاوید احمد غامدی صاحب کا کمال ہے۔ اللہ فرماتا ہے “اے نبیؐ اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے منہ کے اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی تو انہیں ستایا نہیں جائے گا” (الاحزاب: 59)۔ اس آیت کو جدید شہریت، مدنیت اور تہذیب کے پیمانے پر تولتے ہوئے غامدی صاحب نے فرمایا کہ چونکہ حجاب کا بنیادی مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان عورتوں کو ستایا نہ جائے اور آج کل چونکہ حجاب والی عورت کو ستایا جاتا ہے، اس لیے حجاب کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ حجاب والی عورت کو ستانے کے اعدادوشمار غامدی صاحب کے اپنے ذہن کی اختراع ہیں۔ ورنہ امریکہ اور یورپ میں جتنی بھی خواتین اسلام قبول کرتی ہیں، ان میں سے لاتعدادکے انٹرویو ریکارڈ پر موجود ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ جیسے ہی ہم نے حجاب پہنا، یوں لگتا تھا جیسے ہم ایک بہت بڑی پناہ میں آگئیں، نہ مردوں کی غلیظ نظریں ہمارا پیچھا کرتی ہیں اور نہ ہی بہانے بہانے ہم سے گفتگو کرنے کے لیے راہ چلتے لوگ آگے بڑھتے ہیں۔ جدید معاشرت، تہذیب اور مدنیت کا ایک تصور قومی ریاستوں کا تصور ہے جو جنگ عظیم اول کے آس پاس عملی طور پر پیش کیا گیا اور پھر خلافت عثمانیہ کے زوال بعد اس کو مستحکم کرنے کے لیے نئی بننے والی عالمی تنظیم “لیگ آف نیشنز” میں اس کے خدو خال سنوارنے کے لئے یہ اصول بنایا گیا کہ ریاست رنگ، نسل، زبان اور علاقے سے وجود میں آتی ہے اور یہ دراصل ایک معاشرتی معاہدہ “social contract”ہے جو لوگ آپس میں کرتے ہیں،پاسپورٹ کا ڈیزائن منظور ہوا اور ویزا کے قوانین بنائے گئے۔ جسے آج سیاسیات کی زبان میں “معاشرتی معاہدہ “کہا جاتا ہے وہ دراصل عالمی طاقتوں بلکہ فاتح اقوام کی امت مسلمہ کے خلاف سب سے بڑی سازش تھی جس کے تحت اسے تیونس سے لے کر برونائی تک حصوں بخروں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اب اس امت میں مصری، عراقی، ایرانی، لبنانی، سعودی اور یمنی باقی رہ گئے۔ سب کے سب اس بتانِ رنگ و بو میں تقسیم کر دیے گئے جس کی جڑ کاٹنے کے لئے اسلام آیا تھا اور رسول اکرم ﷺ نے آخری خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا “جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں”۔ جاہلیت میں سب سے بڑا دستور رنگ و نسل کا دستور تھا جس کے بارے میں اسی خطبے میں فرمایا تھا کہ کسی کالے کو گورے پر اور عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل نہیں۔ لیکن اسی ہدایت کے خلاف قومی ریاستیں وجود میں آگئیں۔ یہ تو خیر ایک اجتماعی عالمی سازش تھی جس کے ذریعے کسی بھی مذہبی یا عالمی شناخت کو مسترد کر دیا گیا۔ دنیا کے نقشے پر مسلم امہ کا وجود رہا اور نہ ہی مسیحی یورپ اور عیسائی دنیا باقی رہ گئی۔ مذہب کو دیس نکالا دینے کی سازش تو غیروں کی تھی لیکن اسے شرعی جواز ہمارے ان جدید مفکرین نے فراہم کیا۔ ان کے نزدیک عالمی طاقتوں کے ذریعے شکست خوردہ اقوام کو قومی ریاستوں میں تقسیم کرنا دراصل ایک “معاشرتی معاہدہ “ہے اور اسلام معاہدوں کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ جسے یہ لوگ معاشرتی معاہدہ کہتے ہیں اسے تو برطانیہ فرانس اور دیگر طاقتوں نے آپس میں کیا تھا، اس میں خطے کے عوام کہاں سے آ گئے جو شکست کے بعد 57 ملکوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ دوسرا شرعی جواز یہ دیا جاتا رہا کہ جہاں مسلمانوں کا “نظمِ اجتماعی” قائم ہوجائے وہاں اس حکومت کا حکم لاگو ہوگا۔ اس نظریے سے پاکستان، ایران، عراق اور دیگر کا یہ قوم پرستانہ نظریہ برآمد ہوا کہ” سب سے پہلے میری قوم “۔ ان جدید قومی ریاستوں کے تصور کو انسانی زندگی کی ارتقاء قرار دے کر اسے وطن سے وفاداری کے اسلامی تصور سے نتھی کر دیا گیاہے۔ یعنی بھارت کا مسلمان ہو یا امریکہ اور برطانیہ کے مسلمان شہری، اگر اپنے وطن سے وفاداری کرتے ہوئے کسی مسلمان ملک سے بھی لڑتے ہیں تو یہ انکی عین حب الوطنی ہے جو ایمان کا حصہ ہے۔ آج ان لوگوں میں باکسر محمد علی کلے جتنا بھی ایمان شائد باقی نہیں ، جس نے امریکی قید برداشت کر لی اپنا عالمی اعزاز گنوا دیا لیکن اپنے ملک یعنی “نظم اجتماعی ” کی فوج میں بھرتی ہو کر لڑنے کے ناجائز فیصلے کا ساتھ نہ دیا۔ اسلام تو باطل کا ساتھ دینے والے اس تصور کی نفی کرتا ہے جہاں آپ کو ملکی قوانین بے بس کر کے مسلمانوں کے خلاف ہی لڑنے پر مجبور کر دیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو بولے تم کس حالت میں تھے، وہ کہنے لگے کہ ہم تو زمین میں بے بس بنا دیئے گئے تھے، فرشتوں نے کہا کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے، لہذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا انجام ہے۔ البتہ وہ مرد و عورت جو ہجرت کی تدبیر نہیں کر سکتے اور نکلنے کا راستہ نہیں پاتے چنانچہ پوری امید ہے اللہ انہیں معاف فرما دے گا” (النسائ: 97,98)۔ اس پوری آیت میں مشرکین کے “نظمِ اجتماعی” یا قومی ریاست سے وفاداری کو اس قدر عذاب سے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس کا فیصلہ اللہ موت کے وقت ہی فرشتوں کے ذریعے فرما دے گا۔رسول اکرم ﷺنے فرمایا “انا بریٔ من کل مسلم یقیم بین اظہر المشرکین” میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرتا ہے (ابو داؤد، ترمذی)۔ اسلام انسانی ارتقاء کے اس تصور کی جڑ کاٹتا ہے جو امت مسلمہ کو مشرکین کے “نظمِ اجتماعی “کا وفادار بناتا ہے۔