لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) امام کعبہ شیخ صالح بن محمد آل طالب نے کہا ہے کہ طاغوت سن لے! دین اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتیں اس لیے کہ دین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے اٹھارکھا ہے۔ حج میں فساد پیدا کرنے کی ہرسازش ناکام بنا ئیں گے ۔ عبادت کے لیے حرمین شریفین کے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ عبادات کی آڑ میں کسی کو شرپسندی پھیلانے اور حرمین شریفین کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

حرمین شریفین کے دفاع کے لیے حکومت اور پاکستانی عوام کا عزم اور محبت مثالی ہے۔ ہم حرمین شریفین اور دین اسلام کی حفاظت کے لیے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی سازش کی جارہی ہے مگر اسلام سراپا رحمت اور پرامن دین ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں ممالک اور انکی عوام اسلام کی سربلندی چاہتی ہیں، دونوں کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں، یہ ریاستیں اسلام کے غلبہ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینا جانتی ہیں اس لیے دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے، دونوں کا دشمن ایک ہے، دونوں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ایسے عناصر کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کالا شاہ کاکو میں منعقدہ آل پاکستان اہل حدیث کا نفرنس کے پہلے روز مرکزی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جسکی صدارت امیر مرکزی جمعیت سینیٹر پروفیسر ساجد میرنے کی ۔ کا نفرنس میں ملک بھر سے جید علما ء اور شیوخ الحدیث سمیت لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید شریک ہوئے ۔ قبل ازیں جب امام کعبہ جب پنڈال میں پہنچے تو فضا تکبیر کے نعروں سے گونج ا ٹھی۔ حرمت حرمین پر جان بھی قربان ہے ۔ قائد اہل حدیث کا اک اشارہ حاضر حاضر خون ہمارا۔ اسلام کا بے باک سفیر ساجد میر۔ جب امام کعبہ کانفرنس میں پہنچے علماء نے مرحبا مرحبا یاامام مرحبا کے استقبالی نعرے لگائے ۔اسی طرح حرمت حرمین پر جان بھی قربان کے نعرے لگائے جاتے رہے ۔

امام کعبہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے حکومت اور پاکستانی عوام کا عزم اور محبت مثالی ہے۔ ہم حرمین شریفین اور دین اسلام کی حفاظت کے لیے جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی سازش کی جارہی ہے مگر اسلام سراپا رحمت اور پرامن دین ہے ۔ الشیخ صالح بن محمد آل طالب نے کہا کہ طاغوت سن لے! دین اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتیں اس لیے کہ دین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے اٹھارکھا ہے۔

شیطان مسلمانوں میں انتشار، فتنہ اورباہمی عداوت پیدا کررہا ہے مگر ہم سب مسلمان قرآن وحدیث کے پرچم تلے متحدہو کر ان سازشوں اور شیطانی حربوں کا مقابلہ کریں گے اور انہیں ناکام بنائیں گے ۔ عراق، شام فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اسلام سے محبت کرتے ہیں اور قران وحدیث کے ماننے والے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم قران اور حدیث والے ہیں ، جس کی حفاظت اللہ کے ذمہ ہے اللہ اپنا دین اور ہمیں سب کو محفوظ رکھے گا۔ان کا کہناتھا کہ ہمارا رشتہ قرآن سے ہے ،

قران وحی ہے اور حدیث بھی وحی ہے ۔ یہ دین کی اصل بنیاد ہے۔ ہمیں اپنا تعلق ان دو چیزوں کے ساتھ مضبوط کرنا ہو گا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا تھاکہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کے جارہا ہوں ،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میر ی سنت جو ان دو چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہو گا۔ اور یہی کامیاب لو گ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ میری دعا ہے کہ جس طرح ہم یہاں اکٹھے ہیں جنت میں بھی اللہ ہمیں اکٹھے رکھے ۔امام کعبہ نے پاکستان میں امن اور اسکی سلامتی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے بھی دعائیں مانگیں۔

اور اس خواہش کا بھی دعا میں اظہار کیا کہ یااللہ جلد وہ وقت لاکہ ہم سب بیت المقدس میں نماز پڑھ سکیں ۔ امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد آل طالب نے دعا کی کہ روز محشر حوض کوثر پر بھی ہمیں اسی جم غفیر کی طرح جمع کرے۔پاکستان ایک قوت کا مرکزہے۔ پاکستان عالم اسلام کا فخر ہے ۔ پاکستان سگا بھائی ہے ،سخت حالات سے باہر نکالا، مجھے فخر ہے کہ پاکستانیوں سے مخاطب ہے ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز پاکستان سے محبت کرتے ہیں، انکی طرف سے بھی میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ انکے حکم پر پاکستان آیا ہوں۔

تاکہ ہمار ے تعلقات مضبوط ہوں، علمائے سعودی عرب او رعوام کا سلام بھی آپ کو پہنچا رہا ہوں ۔ دین کی بنیاد پر یہ محبتوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ہمارے اجتماعات متحد ہونے کا پیغام ہے ۔ تفرقہ بازی سے اسلام نے منع کیا ہے ۔آپس میں تفرقے میں پڑے تو آپ کی قوت تقسیم ہو جائے گی۔ اہل سنت کا اجتماع ہے ،قرآن وسنت پر اجماع نہ کرنے والا ہم میں سے نہیں۔ امت اسلامیہ بڑی امت ہے ۔ آپس میں تعاون کریں ، کسی کو کمزور کرنے کا موقع نہ دیں۔ حرمین شریفین کے دفاع کا عنوان بہت قیمتی ہے ۔

علماء اس میں اہم کردار ادکرسکتے ہیں ۔ اس لیے کہ نماز ،حج اور عمرہ اتحاد کی علامت ہیں ۔ سوائے حرمین کے کسی جگہ کا سفر اس کی طرح نہیں کیا جاسکتا ۔ کعبۃ اللہ کی بنیاد تو حید پر رکھی گئی ۔حضرت ابرہیم علیہ السلام کا نظریہ بھی یہی تھا ۔ شعائر اللہ کی عظمت تقوی کی علامت ہے ۔سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ اس لیے ہم اسکی حرمت پر اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں ۔حج کی عبادت کو سیاسی ایجنڈے سے درو رکھا جائے۔ اس کو منفی ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور امام کعبہ کو خوش آمد ید کہا ان کا کہنا تھاکہ امام کعبہ کا یہاں آنا ہمارے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ امام کعبہ کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار اور مثالی تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہو گی اور روحانی رشتوں کو مزید جلا ملے گی۔ انہوں نے حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی کا عہد لیا۔۔امام کعبہ نے پروفیسر ساجد میر ،حافظ عبدالکریم کا نام لے کر ان کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ مجھے پاکستانی عوام، حکومت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کی طرف سے بے پناہ محبت ملی جسے میں کبھی نہیں بھلا نہیں سکوں گا ۔

امام کعبہ کے خطاب کے دوران جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے لوگ دیوانہ وار ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب نظر آئے اور اپنے موبائل سے ان کے خطاب کی ویڈیو بناتے رہے ۔ امام کعبہ نے مرکزی جمعیت کے دفاتر کا دورہ بھی کیا ۔علماء، تاجروں، صحافیوں اور سماجی شخصیات کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بھی خطاب کیا۔پروفیسر ساجد میر اور حافظ عبدالکریم نے امام کعبہ کو جماعت کی تبلیغی، دعوتی، ابلاغی اور فلاحی سرگرمیوں کے متعلق بریفنگ بھی دی جسے معزز مہمان نے خوب سراہا اور کہا کہ دینی قوتوں کو جدید زرائع ابلاغ کو اسلام کی نشرواشاعت کے لیے استعمال میں لانا چاہیے تاکہ اسلام کا روشن اور پرامن پیغام پوری دنیا تک جائے۔