الہام کیا ہے؟​
امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ الہام کے معنی ہیں:
“کسی شخص کے دل میں کوئی بات القا کر دینا لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القا کے ساتھ مخصوص ہو چکا ہے جو اللہ تعالٰی کی جانب سے کسی شخص کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔”
{مفردات القرآن بذیل مادہ ‘لھم’}

الہام کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں: ایک صورت تو وہ ہے جس میں ہر انسان کے دل میں خیروشر کو پہچاننے کی صلاحیت ودیعت کی گئی ہے اور یہی صلاحیت و استعداد بعض اہل علم کے بقول [فطرت] کہلاتی ہے جبکہ اس کا اللہ تعالٰی کی طرف سے ودیعت کیا جانا [الہام] کہلاتا ہے، قرآن کریم میں اس الہام کی طرف اس طرح اشارہ کیا گیا ہے:

وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا۔ فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ
“قسم ہے نفس کی اور اسےدرست کرنے کی، پھر اللہ تعالٰی نے اس نفس کو برائی سے بچنے اور پرہیزگاری اختیار کرنے کی سمجھ عطا فرمائی”
{سورہ الشمس: 7،8}

الہام کی دوسری صورت یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالٰی کی طرف سے کسی نیک صالح مسلمان کے دل میں حالت بیداری میں کوئی اچھی بات ڈال دی جاتی ہے، جس کا تعلق مستقبل کی کسی غیبی بات سے ہوتا ہے۔ اگر یہ الہام انبیاء کی طرف کیا جائے تو یہ بمنزلہ وحی شمار ہوتا ہے، مگر غیر انبیاء کا الہام وحی نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ وحی کے مقابلہ میں انتہائی کمزور اور خواب کے مشابہ ہوتا ہے یعنی ج طرح حالت نیند میں سچے خواب کے ذریعے کسی غیبی امر سے مطلع کر دیا جاتا ہے، اسی طرح حالت بیداری میں بعض اوقات بذریعہ الہام کوئی بات دل میں ڈال دی جاتی ہے اور پھر وہ اسی طرح پیش آتی ہے جس طرح اس کے بارے میں خیال [یا دوسرے لفظوں میں الہام] پیدا ہوتا ہے۔

الہام اور وسوسہ

اللہ تعالٰی نے ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان مقرر کر رکھا ہے۔ شیطان انسان کے دل میں وسوسے اور برے خیالات جب کہ فرشتہ اچھے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے۔ جب کسی شخص کے دل میں اچھا خیال آئے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اسے ہی الہام بھی کہا جاتا ہے اور اگر کوئی برا خیال آئے تو پھر وہ شیطان کی طرف سے پیدا کردہ وسوسہ ہوتا ہے۔ انسان کے دل میں وسوسہ یا الہام پیدا کرنے میں فرشتے اور شیطان کی یہ کشمکش مسلسل جاری رہتی ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند احادیث پیش کی جارہی ہیں:
۱۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جن {شیطان} اور ایک فرشتہ ساتھی {ہمزاد} بنا کر مقرر کر دیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ کے ساتھ بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے ساتھ بھی مگر اللہ تعالٰی نے اس شیطان کے خلاف میری مدد فرمائی ہے اور میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے، اسلیے وہ مجھے خیر ہی کا حکم دیتا ہے”
{صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب تحریش الشیطان۔۔۔۔۔، ح 2814}

۲۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ابن آدم پر شیطان بھی اثر انداز ہوتا ہے اور فرشتہ بھی۔ شیطان اس طرح اثر اندا ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل میں برائی اور حق کی تکذیب ڈالتا ہے اور فرشتہ اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل میں اچھائی اور حق کی تصدیق ڈالتا ہے۔ لہٰذا جس کے ساتھ یہ [فرشتے والا معاملہ] ہو تو وہ اس پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرے اور جس کے ساتھ دوسرا [شیطان والا] معاملہ ہو تو وہ اللہ تعالٰی سے شیطان مردود کی پناہ مانگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت آخر تک تلاوت فرمائی: ‘شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالٰی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے”
{جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، ح 2988}

الہام، فراست اور کشف

الہام کے بارے میں بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے، اب یہاں اس سے ملتی جلتی دو چیزوں یعنی فراست اور کشف کی حقیقت کے بارے میں بھی تھوڑا سا مطالعہ فرما لیجیے۔
بنیادی طور پر ‘فراست’ سے مراد بصیرت و دانائی ہے۔ یہ دانائی مشاہدات و تجربات سے بھی حاصل ہو سکتی ہے اور تعلیم و تدریس سے بھی۔ علاوہ ازیں بعج لوگوں کو اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ دانائی وہبی طور پر بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اس فراست کو کرامت بھی کہا جاتا ہے اور یہ چیز بعض اوقات حالت بیداری میں اور بعج اوقات خواب کے ذریعے ودیعت ہوتی ہے۔

فراست بذریعہ کرامت

اس قسم میں لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ بعض حضرات تو اس صورت کا مطلق انکار کرتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالٰی کسی شخص کے دل میں کوئی دانائی کی بات القا کریں۔ اسے محال سمجھنے کی وجہ یہ ذکر کی جاتی ہے کہ یہ تو وحی کی صورت ہے اور وحی انبیاء و رسل کیلیے خاص ہے۔ جب کہ بعض لوگ اسے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ صاحب فراست کو غیب دان اور بہت پہنچی ہوئی شخصیت ثابت کر سکیں۔

فراست بذریعہ مشاہدہ

فراست کی یہ قسم مسلم اور غیر مسلم کا فرق کیے بغیر کسی بھی ذہین و فطین کو حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ وہبی نہیں بلکہ کسبی ہے اور اس میں ظاہری احوال دیکھ کر کوئی بھی دانا شخص اپنے تجربہ کی بناء پر کوئی درست بات بیان کر سکتا ہے۔ اسلیے اہل علم نے اس کی تعریف اس طرح کی ہے کہ
“یہ ایسا علم ہے جس کے ذریعے انسان کے ظاہری احوال مثلا رنگ، صورت، اعضاء و جوارح اور چال ڈھال سے اس کا اخلاق و کردار وغیرہ معلوم کر لیا جاتا ہے یعنی ظاہری کیفیت سے اندازہ لگا کر باطنی کیفیت معلوم کر لی جاتی ہے”
{مفتاح دار السعادۃ، ج ۱، ص۳۰۹، لسان العرب، ج۶، ص۱۶۰}

گویا یہ غیب دانی نہیں، بلکہ ظاہری حالات اور قرائن وغیرہ سے اندازہ لگا کر کسی مخفی بات سے پردہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے۔ اور یہ کوشش کامیاب بھی ہو سکتی ہے اور ناکام بھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا درج ذیل بیان بھی اسی نوعیت کا ہے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“جب کوئی شخص مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کے سوال سے اندازہ لگا لیتا ہوں کہ یہ فقیہ ہے یا غیر فقیہ۔”
{قرطبی، ج۱۰، ص۴۱}
نیز اسی طرح ایک ڈاکٹر جب مریض کی بیماری کا مشاہدہ کرتا ہے تو مریض کی شکل و صورت و ہیئت سے اس کی بیماری کا اندازہ لگا لیتا ہے لہٰذا یہ کوئی علوم غیب میں سے نہیں بلکہ مشاہدات سے محض اندازے لگائے جاتے ہیں جو کبھی صحیح اور کبھی غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

فراست بمعنی کشف

بعض لوگ بالخصوص صوفیاء میں سے بعض حضرات نے فراست کا دائرہ اس قدر بڑھا لیا کہ بعض جگہ تو وہ نعوذ باللہ شریعت کی ظاہری حدود سے بھی متعارض ہوتے دکھائی دیتے ہیں مثلا یہاں تک کہا جاتا ہے کہ چلہ کشی، خلوت نشینی اور عبادت و ریاضت کے ذریعے فراست بڑھائی جا سکتی ہے اور باطنی طور پر اللہ تعالٰی کا دیدار کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات کئی صوفیاء کے ہاں ملتی ہے، بالخصوص ابن عربی صوفی صاحب کی تحریروں میں ایسی کئی چیزیں ملتی ہیں۔ ان کے بقول انسان کی روح مجاہدوں اور ریاضتوں کے ذریعے فرشتوں کے ساتھ جا ملتی ہے اور جب یہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو اس کیلیے اللہ تعالٰی حقیقی علوم کےدروازے کھول دیتا ہے۔
{دائرۃ المعارف، بذیل مادہ’الھام’}

اور بعض صوفیاء تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ:
“جس شخص کے اندر یہ ‘نور فراست’ جس قدر زیادہ ہو گا اس کا یہ مشاہدہ حق اتنا ہی قوی ہو گا”
{الرسالۃ القشیریۃ، ص639}
ان صوفیاء کے بقول مجاہدوں، ریاضتوں، مخصوص قسم کے وردوں اور چلہ کشیوں سے یہ صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ آتا ہے کہ اگر ایسا فی الواقع ممکن ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت و رسالت کے بعد ایسا کوئی عمل کیوں نہ کیا؟ اسی طرح آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس طرح کی ریاضتیں، مجاہدے اور چلے کیوں نہیں کاٹے؟

اگر یہ کہا جائے کہ انہیں ضرورت ہی نہ تھی تو پھر انہوں نے اپنے بعد آنے والوں کی اس کی تلقین کیوں نہ کی؟ بلکہ بڑا ضروری تھا کہ کود قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم دے دیا جاتا کہ کشف کیلیے یہ یہ عملیات کیے جایئں اور رہتی دنیا تک اسے مستند حیثیت حاصل ہو جاتی، مگر پورا قرآن پڑھ جائیے آپ کو اس سلسلہ میں کوئی ایک بھی آیت نہیں ملے گی۔ اسی طرح ذخیرہ احادیث میں سے ایک بھی صحیح حدیث اس کی حمایت میں نہ ملے گی۔​