اگر جنگ عظیم دوم میں ہٹلر کے ساتھی جیت جاتے تو تاریخ کی کتابوں میں سب سے بڑے فاشسٹ اور انسانیت کے مجرم چرچل، ٹرومین اور سٹالن ہوتے۔ جس طرح نازی پارٹی کے جنم مقام نیورمبرگ کے اس ہال میں جنگی جرائم پر مقدمے چلائے گئے تھے، جہاں پر نازی پارٹی اپنی بڑی بڑی ریلیاں منعقد کیا کرتی تھی، اسی طرح جمہوریت کے جنم مقام بگ بین کے زیر سایہ برطانوی پارلیمنٹ میں ویسی ہی عدالت سجائی جاتی۔ جیسے نازی جرمنی کے 24 اہم سیاسی اور فوجی قائدین پر مقدمات چلائے گئے تھے ویسے ہی امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر اتحادیوں کے سیاسی اور فوجی قائدین کٹہروں میں کھڑے ہوتے اور پھانسیوں کا سامنا کرتے، فائرنگ اسکواڈ کے سامنے گولیوں سے بھونے جاتے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح آج ہٹلر جو کہ ایک جمہوری طور پر منتخب رہنما تھا، اس کا نام رہتی دنیا تک گالی بنا دیا گیاہے ، ویسے ہی چرچل اپنی تمام شعلہ بیانی کے باوجود نفرت کی علامت ہوتا۔ اپنے تمام تر مظالم کے باوجود سکندر، چنگیز خان ،ازابیلا اور فرڈیننڈ ہیرو ہیں جبکہ ان کے مقابل شکست کھاجا نے والے بزدل ناکارہ، بد تہذیب، متعصب اور انسانیت سے گرے ہوئے لوگ، رہنما اور اقوام کہلاتی رہیں ۔ اسی پیمانے پر دنیا کا جدید سیکولر لبرل تاریخ دان، دانشور مسلمانوں کے علم و عرفان اور تہذیب و تمدن کے مرکز بغداد کا مذاق اڑاتا ہے اورفاتح ہلاکو خان کے قصیدے گاتا ہے۔ شاہ عالم ثانی اور محمد شاہ رنگیلے کی رنگین مزاجی اور عیش و عشرت کو برا بھلا کہتا ہے اور ظالم نادر شاہ اور تیمور کے فاتحانہ قصوں کو فخر سے بیان کرتا ہے ، وہ حکمران جنہوں نے انسانی کھوپڑیوں سے مینار بنائے، ان پر چربی پگھلا کر ڈالی اور آگ لگا کر روشن کیا تاکہ دور دور تک معلوم ہو سکے کہ انہوں نے یہ شہر فتح کرلیا ہے۔لیکن یہ فاتح پرست سیکولر اور لبرل آج طالبان کی فتح پر گنگ ہیں۔ شکست ان کے چہروں نہیں بلکہ گفتگو اور قلم سے بھی عیاں ہے کہ دونوں کو تالے لگ چکے ہیں۔ جس طرح نازی عقوبت خانوں کی کہانیاں اب تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں ،ویسے ہی آئندہ آنے والی تاریخ گوانتاناموبے کو اسی طرح کی ظلم ودہشت کی ایک علامت کے طور پر یاد رکھے گی۔ گوانتاناموبے کا قید خانہ وہ سچ ہے جس نے سیکولر اور لبرل دانشوروں کے اس کئی سو سالہ بیانیے کی نفی کی ہے کہ مسلمان رنگ، نسل، زبان ، مسلک اور علاقوں میں بٹے ہوئے لوگ ہیں اور امت مسلمہ نام کی کوئی چیز دنیا میں نہ پہلے وجود رکھتی تھی اور نہ ہی آج وجود رکھتی ہے۔ کس قدر حیران کن بات ہے کہ گیارہ ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد پوری عالمی برادری نے صرف ایک ملک افغانستان پر حملہ کیا تھا، لیکن اس جنگ کے قیدی تو دنیا کے ہر ملک کے مسلمان نکل آئے۔ گوانتا ناموبے کے عقوبت خانے کے بارے میں جو فہرست پینٹاگان نے جاری کی ہے اس کے مطابق مسلم امہ کی وحدت کے پرچم بردار یہ مردانِ حْر جن علاقوں سے تعلق رکھتے تھے ان کی فہرست یوں ہے۔ افغانستان (212)، پاکستان (66)، سعودی عرب (126)، یمن (105)، الجزائر (22)، ازبکستان (6)، تاجکستان (12)، ترکی (4)، مراکش (14)، برطانیہ (33)، کویت (12)، سوڈان (9)، فرانس (11)، لیبیا 11 ، تیونس (9) ، مصر (4)، روس (10)، قازقستان (3) اور ان ممالک کے علاوہ آسٹریلیا، ایتھوپیا، کینیڈا، ایران، صومالیہ، عراق، یوگینڈا، شام اور دیگر ممالک کے لاتعداد مسلمان قید تھے۔یہاں تک کہ چین کے بھی 15 قیدی اس بات کا ثبوت فراہم کرنے کے لئے گوانتانامو بے کے عقوبت خانے میں موجود تھے کہ ہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر ایمان رکھتے ہیں کہ “مسلمان جسد واحد (ایک جسم) کی طرح ہیں، چنانچہ جب جسم کے کسی بھی حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے” (متفق علیہ، بخاری و مسلم)۔ گوانتاناموبے اس سیکولر بیانیے کی تکذیب ہے جو گزشتہ کئی سو برسوں سے پھیلایا جا رہا تھا کہ اس امت مسلمہ کا اب کوئی وجود باقی نہیں۔ یہ بیانیہ تیونس سے لے کر برونائی تک کے حکمرانوں اور جدید قومی ریاستی نظام کے پٹھوؤں کے قومی تعصب کو دیکھ کر بنایا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی ایک قوم یا ملت ایسی نہیں کہ جس کے افراد مسلمانوں کی طرح پیدا کسی بھی ملک میں ہوں، زبان کوئی بھی بولتے ہوں لیکن اپنے مسلمان افغان بھائیوں کے لیے پوری دنیا کی عالمی برادری کی طاقت سے جا کر لڑیں، جانیں دیں اور ان کے ساتھ عقوبت خانوں میں سختیاں برداشت کریں۔ اگر تاریخ دیانت سے لکھی جائے تو جس طرح ہٹلر کے عقوبت خانوں میں اذیتیں برداشت کرنے والے یہودی انسانی تاریخ کے ہیرو بنا دیئے گئے ہیں اسی طرح گوانتاناموبے میں امت مسلمہ کے 780 قیدی بھی رہتی دنیا تک مظلومیت کی علامت، جدوجہد کی مشعل، آزادی و حریت کے پرچم بردار اور امت مسلمہ کے جسد واحد کے نشان کے طور پر زندہ کردارکے طور پر پیش کیے جاتے رہیں گے۔ سیکولر لبرل بیانیے کے جس دوسرے تصور کو افغان طالبان نے شکست دی ہے وہ یہ ہے کہ جمہوریت، الیکشن اور اظہار کی آزادی کے نام پر جنسی بے راہ روی، رقص و موسیقی اور مخلوط معاشرہ ایک ایسا طرز زندگی تخلیق کرتا ہے جس میں جدید مغربی تہذیب کی اقدار و روایات قابل عزت بن جاتی ہیں۔ لوگوں کو پیرس لندن اور نیویارک کی سڑکوں جیسی زندگی کی عادت ہوجاتی ہے۔ مذہب آہستہ آہستہ انسانی زندگی سے رخصت ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ پر تعیش زندگی لے لیتی ہے۔ مرنے کے بعد زندگی کا تصور دلوں سے نکل جاتا ہے اور لوگ اسی زندگی کو عیش وعشرت، کھیل کود، رقص و سرور اور جسمانی لذت سے لطف اندوز ماحول میں گم کر دیتے ہیں اور ایسی ہی دنیا کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ افغانستان میں سترہ سال کے دوران ایسا ہی ماحول بنانے کی سر توڑ کوشش کی گئی۔ کابل کی نائٹ لائف کو بنکاک، بالی ووڈاور لاس ویگاس کے ہم پلاّ بنا دیا گیا، لیکن یہ رنگینی اور تعیش پوری افغان مسلم ملت کو ذرا سا بھی متاثر نہ کر سکا اور وہ اللہ کی زمین، اللہ کی بادشاہت اور اس کے قوانین کا پرچم لہرانے کے لیے لڑتے رہے اور بالآخر اس قوم نے اللہ کی نصرت کا یہ پھریرا لہرا دیا۔ تاریخ کا تیسرا بیانیہ سیکولر حضرات یہ بتایا کرتے تھے کہ افغان قوم نے جو کبھی محکوم نہیں رہی اسکا تعلق اسلام اور اللہ پر یقین سے نہیں بلکہ افغان قوم دراصل ہے ہی نسلاً بہادر اور جری اور کوئی اسے محکوم نہیں بنا سکتا۔ تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جب تک افغان مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ اللہ پر توکل کی دولت سے مالا مال نہیں ہوئے تھے ، ہمیشہ محکوم رہے۔550 قبل مسیح سے 330 قبل مسیح تک افغانی قوم ایرانی آتش پرستوں کی محکوم رہی ، 330 قبل مسیح سے 150 قبل مسیح تک 180 سال تک سکندر اور یونانی ان پر حکومت کرتے رہے، 150 قبل مسیح سے 700 عیسوی تک پہلے سو سال پارتھی، پھر کشان ان پر حکمران تھے،اسی دور کی یادگار بامیان میں بدھ کے مجسمے تھے۔ یہ دور حکومت دو حصوں میں تقسیم تھا ، کابل شاہی اور ہندو شاہی۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے پانچ سال بعد جب قادسیہ کے میدان میں ایران کو شکست ہوئی اور صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے قدم افغانستان میں اترے تو پھر ایمانی قوت کی وجہ سے افغان ملت کو اللہ نے امت مسلمہ کی علامت بنا کر رہتی دنیا تک زندہ کر دیا۔ ایسے لوگ جو صرف اللہ پر توکل کرتے تھے۔ اس کے بعد سے آج تک کی تاریخ یہ ہے کہ اس مسلمان افغان ملت کو کبھی شکست نہ ہو سکی۔ برطانیہ اور روس کی عالمی طاقتوں کی شکست تو تاریخ کے ماتھے کا جھومر تھی لیکن اب تو پوری عالمی برادری ،تین ہزار سال کی سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی تینوں نے شکست کھائی ہے۔ قومیت ،عالمی اتحاد اور ٹیکنالوجی تینوں کے بت پاش پاش ہو گئے اور ان بتوں کا ’’مقدس دین‘‘ سیکولر لبرل بیانیہ ذلیل و رسوا ہوا۔اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر۔