دنیا میں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث یہودی ملک امریکہ کی بمباری کے نتیجے میں افغانستان میں 101حافظ قرآن بچوں کی شہادتوں پر پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے تو نمایاں کوریج نہیں کی لیکن سوشل میڈیا ایک مرتبہ پھر مسلمان بچوں کو شہادتوں پر سراپا احتجاج ہے۔

پاکستان کے اندر اور باہر جو بھی مسلمان فیس بک، ٹوئٹر یا وٹس ایپ استعمال کرنے کیلئے اوپن کرتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے ننھے فرشتوں کے نور سے بھرے چہرے اور اگلی تصاویر میں وہی فرشتےخون میں لت پت پڑے نظر آتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ افغانستان کے صوبہ قندوز کے ضلع دشت ارجی کی مرکزی جامع مسجد میں فارغ التحصیل ہونے والوں کی دستار بندی کے دوران دہشت گرد ملک امریکہ کی بمباری سے 101 حفاظ شہید ہو گئے جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں حافظ قرآن، علماءکرام، اساتذہ ، نوجوان طالبات بھی شامل ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ امریکی دہشت گردی کیخلاف کسی بھی ملکی اور غیرملکی میڈیا نےآوازنہیں اٹھائی اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں مسلمان حافظ قرآن بچوں کی ویسی آہ و بکا کی گئی جیسی یہودی ایجنٹ ملالہ پر متنازع اور خودساختہ حملے پر کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر حافظ قرآن بچوں کی شہادت پر مسلمان امریکہ اور دیگر یہود ی ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی اور اقوام متحدہ کیخلاف کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

 

 

 

مریکہ کی جانب سے بمباری پیر کی دوپہر 2 بجے اس وقت کی گئی جب فارغ التحصیل حفاظ قرآن کریم کی دستار بندی تقریب ہورہی تھی۔ عوام کا کہنا ہے کہ دو اپریل کو اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز اپنی اپنی دکان سجا کر بیٹھے رہے، حافظ قرآن بچوں کی شہادتوں کو نظرانداز کرنے اور میڈیا پر کوریج نہ دینے پر فیس بک، ٹوئٹر ، وٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا پر پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی رہی سہی ساکھ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

 

 

ضلع دشت ارچی کے پولیس سربراہ نیاز محمد عمر خیل نے کہا ہے کہ بمباری امریکی طیاروں نے کی، افغان فوج نے دعویٰ کیا کہ بمباری میں طالبان کو نشانہ بنایا گیا۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان اس طرح جلسے منعقد نہیں کرتے، انہوں نے قندوز کے شہداء کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کیا۔ اس حملے میں 150 سے زائد مذہبی اسکالر اور عام شہری جاں بحق ہوئے، تاہم حملے کے وقت ہمارا کوئی جنگجو وہاں موجود نہ تھا، افغان فوسز نے مدرسے کے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر جاری مہم سے اکٹھی کی گئی تفصیلات کے مطابق افغان فورسز کی جانب سے جس وقت بمباری کی گئی اس لمحے سینکڑوں عام شہری مدرسے میں موجود تھے تاہم کٹھ پتلی افغان وزارت دفاع نے اپنے مضحکہ خیز بیان میں کہا ہے کہ بمباری افغان فورسز نے اہم اطلاعات پر کی، یہ حملہ طالبان کے تربیتی مرکز پر کیا گیا جس میں 20 طالبان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے لیکن ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی افغان وزارت دفاع کے پاس اپنے دعوے کو سچا ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس شواہد ہیں اور نہ ہی 20طالبان کے نام ہیں۔

 

 

حافظ قرآن بچوں کی شہادت کی میڈیا کوریج نہ کرنے اور پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے خاموش اپنانے پر سوشل میڈیا پر کھلے عام یہ بات کی جا رہی ہے کہ اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے میڈیا مالکان اور بیشتر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو یہودی ممالک اور این جی او ز کی طرف سے مختلف ذرائع پیسہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ خاموش رہیں اور امریکی دہشت گردی کیخلاف اپنی زبان بند رکھیں۔

پاکستان میں فیس بک اور سوشل میڈیا پر شہادت سے قبل پھولوں کے ہارے پہنے حافظ قرآن بچوں کی تصاویر کو لے کر صارفین اپنی ٹائم لائن پر شیئر کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور میڈیا کو خاموشی اختیار کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

صارفین کی طرف سے یہ بھی مہم چلائی جا رہی ہے کہ حافظ قرآن بچوں کی شہادتوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بائیکاٹ ہی کیا جائے گا۔

حافظ قرآن بچوں کی شہادتوں پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سمیت بیشتر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو یہودی ممالک فنڈنگ کرتے ہیں۔