برطانیہ میں بسنے والے میرے ایک دوست اور عزیز واجد عباسی کا تحریک انصاف سے گہرا تعلق ہے بلکہ وہ تحریک انصاف کے بہت بڑے اسپورٹر اور برطانیہ میں اس سیاسی جماعت کے فعال کارکن بھی ہیں۔ واجد صاحب کا عمران خان کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے دوسرے کئی بڑے رہنمائوں سے بھی تعلق ہے اور وہ اُن لاکھوں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں شامل ہیں جو پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے عمران خان کی حمایت گزشتہ کئی سال سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ آج میری اُن سے موبائل فون پر بات ہوئی تو پوچھنے لگے کہ پاکستان کے کیا حالات ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ بتائیں، تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے حال ہی میں جاری ’’پاکستان بنائو اسکیم‘‘ میں کتنے ڈالرز پاکستان بھیجیں گے؟ واجد صاحب نے کہا:اس طرح کون پیسہ بھیجتا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو چاہئے کہ پاکستان کے اندر کاروبار کے حالات بہتر بنائے، جو لوگ پہلے سے کاروبار کر رہے ہیں، اُن کے سرمائے کو تحفظ دے، اُن کے کاروبار کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع دے، جب بیرونِ ملک پاکستانی دیکھیں گے کہ پاکستان میں اُن کے عزیر رشتہ دار ملک کے اندر اچھا کاروبار کر رہے ہیں تو پھر بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی اور غیر ملکی بھی پاکستان میں پیسہ لگائیں گے۔ واجد صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرونِ ملک دورے کر کے چندہ اکٹھا کرنے سے کام نہیں بنے گا بلکہ اندرونِ ملک کاروبار کرنے والوں کو سہولتیں دیں، نہ کہ اُن کو ڈرائیں دھمکائیں۔ واجد صاحب نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ نظام کو بہتر بنائیں اور پاکستان میں اُس مائنڈ سیٹ کو بدلیں جو سمجھتا ہے کہ جو بھی پیسے والا ہے، وہ چور ہے، ڈاکو ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسی تب کامیاب ہو گی جب پاکستان میں کاروباری طبقے کو پیسے بنانے کے تمام تر مواقع دیئے جائیں گے۔ اگر یہ سب نہیں ہو گا تو بھول جائیں کہ پاکستان میں کوئی کاروبار کرے گا، اگر پاکستان میں کاروبار کرنے والوں کے لیے حالات تنگ ہوں گے تو بھول جائیں کہ بیرونِ ملک سے کوئی آ کر اپنا پیسہ یہاں لگائے گا، اگر ایف بی آر اور نیب ہر کاروباری کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے رہیں گے تو بھول جائیں کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری ممکن ہے۔

اگر بیرونِ ملک بسنے والے تحریک انصاف کے ایسے Die Hardاسپورٹرز بھی موجودہ حالات میں پاکستان پیسہ بھیجنے کے لیے تیار نہیں تو پھر عمران خان کی حکومت کو غور کرنا چاہئے کہ ہمارے نظام میں خرابی کہاں کہاں ہے اور اُسے کیسے درست کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ Undocumented ہے، اسے Documentکرنے کے لیے کوئی ایسا طریقہ نہ اپنایا جائے کہ سب کا کاروبار ہی ٹھپ ہو جائے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے گزشتہ چھ ماہ نہ صرف پاکستانی معیشت پر بڑے بھاری رہے ہیں بلکہ عملی طور پر سارا کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے۔ پاکستان کی معیشت کی خرابیوں کو دور ضرور کیا جائے، ٹیکس نیٹ کو بھی بڑھایا جائے لیکن ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے کہ کاروباری طبقہ ڈر اور خوف میں مبتلا ہو جائے۔اگرچہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بلیک اکانومی کو ڈاکیومنٹ کرنا اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ضروری ہے لیکن ایسا نہ فوری ممکن ہے نہ ہی اس کی کوشش کرنا چاہئے بلکہ ایک ایسا اصلاحاتی نظام لایا جائے جو مڈٹرم اور لانگ ٹرم کی بنیاد پر پاکستان کی اکانومی کو ڈاکیومنٹ کرے، اس کے لیے اگر کوئی نئی ایمنسٹی اسکیم بھی دینا پڑے تو حکومت کو اس میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کے بارے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے معاشی ماہرین بہت پریشان ہیں۔ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو آنے والے سال پاکستان کی معیشت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کب تک رہتی ہے یا اپنے پانچ سال مکمل کرتی ہے یا نہیں، اس سیاسی بحث میں پڑے بغیر مجھ سمیت ہر پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہوں، یہاں کاروبار پھلے پھولے تاکہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں مگر ابھی تک ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا، جو بہت پریشانی کی بات ہے۔