اس طرح تو ہوتا ہے؟
(جاوید چودھری سے معذرت کے ساتھ)

تحریر: مطیع اللہ جان

انیس مارچ کی رات مجھے خواب میں سپریم کورٹ نظر آئی تو میں صبح ہی سپریم کورٹ چیف جسٹس سے ملاقات کیلئے پہنچ گیا- چیف جسٹس مجھے دیکھ کر حیران ہوۓ اور کہا کہ وہ ایک گھنٹے سے بالکل فارغ تھے اور سوچ رہے تھے وقت کیسے گزاروں- ہم نے کافی دیر بچپن کی یادیں تازہ کی اور چاۓ پی- کچھ باتیں آن دی ریکارڈ اور کچھ آف دی ریکارڈ کی- ایک گھنٹے بعد سپریم کورٹ سے واپسی پر مجھے انیس سو ستانوے آٹھانوے کے تین واقعات یاد آ گئے- یاد کیسے نہ آتےاور وہ بھی واپسی پر کیونکہ کچھ دیر پہلے جس ہستی سے مل کر آ رہا تھا اس کے شخصیت کے سحر نے ذہن کے بند دریچوں کو کھول کے رکھ دیا تھا- افسوس اس بات کا ہوا کہ یہ واقعات چاۓ کی پیالی پر یاد آتے تو اس سے بھی زیادہ تفصیلات لکھتا- ظاہری بات ہے اب کوئی چیف جسٹس تو “آف دی ریکارڈ” یا نام نہ لکھنے کی شرط پر ایسی باتیں تو بتانے سے رہا- ایسے عہدے پر کوئی بزدل ہی “آف دی ریکارڈ” ایسی باتیں کرے گا جو اس کے عہدے اور حلف کے شایان شان نہ ہوں- اور پھر جو واقعات بیس سال بعد “اچانک” یاد آۓ وہ واقعات میں نے بطور صحافی اس تمام عرصے میں سینے پر پتھر باندھے راز میں رکھے اور اتنی تفصیل کے ساتھ کہیں رپورٹ نہ کیے۔

بہرحال یہ واقعات اس دور کے ہیں جس سے پہلے بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے جوش میں اسٹیبلشمنٹ کی غلطی سے انیس سو ستانوے کے الیکشن میں مصالحہ تیز ڈل گیا اور نواز شریف کو اسمبلی میں دو تہائی “عسکریت” مل گئی – ایڈوکیٹ خالد انور وزیر قانون بن گئے – خالد انور کو وزارت ملنے کی وجہ انیس سو ترانوے میں انکی وکالت کے باعث سپریم کورٹ سے نواز شریف حکومت کی بحالی تھی جو اسوقت کے جنرل وحید کاکڑ کی بدولت جلد ہی بے حالی پر منتج ہوئی- خالد انور نے وزیر بننے سے کچھ عرصہ پہلے ہی سجاد علی شاہ کی عدالت میں سیاست میں آنے اور کوئی عہدہ لینے کے امکان کے متعلق عدالت کے سوال پر احتجاج کیا تھا- خیر لگے ہاتھوں جناب میاں ثاقب نثار بھی “ٹیسٹ انٹرویو” میں ٹاپ کر کے اور اپنی “کامیاب وکالت” کو لات مار کر اس “نا اہل” وزیر اعظم کی حکومت کے وزیر قانون خالد انور کے ماتحت سیکریٹری قانون لگ گئے – وزیر قانون خالد انور کے والدپاکستان کے چوتھے وزیر اعظم چودھری محمد علی اتنے ایماندار اور گھر کے کھانے کے شوقین تھے کہ نالائق ڈاکٹروں کی باتوں میں آ کر اپنے گھر سے کھانے کا ٹفن ساتھ لیکر جاتے تھے- حالانکہ انیس سو چون میں افسران فائیو سٹار ہوٹلوں سے کھانے کھاتے تھے اور اس دور میں بیگمات گھر داری بالکل نہیں کرتی تھی- ایک ایسے گھرانے میں پرورش کے باوجود خالد انور نے چار سال پہلے کے مبینہ طور پر خریدے لندن فلیٹوں کے مالک گاڈ فادرکے نیچے وزیر قانون اور ثاقب نثار صاحب نے مبینہ گاڈ فادر کے بھی ماتحت وزیر قانون خالد انور کے نیچے کام کرنے کا عزم مصمم کر لیا- خالد انور جناب ثاقب نثار کا اتنا احترام کرتے تھے کہ جب سیکریٹری کا عہدہ خالی ہوا تو اسی احترام کے باعث انہیں سیکریٹری کی نوکری پیش کر دی- ویسے بھی جو احترام اس وقت ایک سیکریٹری قانون کا تھا وہ وکیل کا تو ہر گز نہیں تھا تا وقت کہ وہ وکلأ بار کا کوئی عہدیدار نہ بن جاتا- ثاقب نثار اس وقت بطور سیکریٹری لاہور بار خالد انور کے احترام کے حقدار ٹھہرے – اور خالد انور کی اہلیہ یعنی اپنی بھابی کے “آئینی مشورے” پر جناب ثاقب نثار صاحب نے یہ عہدہ قبول کر لیا- ویسے بھی اسوقت بار کے عہدیداروں کو سیکریٹری قانون کے عہدوں پر نہیں لگایا جاتا تھا- اس کی وجہ بار کی سیاست میں حصہ لینے والے وکلا کا وہ “اعلیٰ معیار” تھا جو انہوں نے وکالت کے بغیر ہی حاصل کر لیا ہوتا تھا- آج بھی تمام اعلی عدالتی عہدوں پر ہمارے وکلأ بار کے عہدیداران اسی میرٹ پر براہ راست تعینات کئے جا سکتے ہیں
تو جناب ثاقب نثار اس نوکری سے انکار نہ کر سکے- کسی کو انکار کر کے اس کا دل توڑنا کوئی اچھا عمل تو نہیں ہےناں- “نوکری کیہ تے نخرہ کیہ-“

جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ حکومت وزیر اعظم کے بغیر چل سکتی ہے سیکریٹری قانون کے بغیر نہیں- نجانے چودھری صاحب پاکستان کب واپس آۓ۔ پاکستان میں سیکریٹری قانون تو کیا قانون اور آئین کے بغیر بھی حکومت چلتی رہی ہے- اور یہ بھی درست ہے کہ اس ملک میں وزیر اعظم کے بغیر دس دس سال تک حکومت چل سکتی ہے مگر لاء سیکریٹری کے بغیر نہیں- سیکریٹری قانون نہ تو نا اہل ہوتا ہے نہ پھانسی چڑھتا ہے اور نہ ہی وہ غیر تعلیم یافتہ اور بغیر سوٹ ٹائی والی عوام سے ووٹ کی بھیک مانگتا ہے- یہی وہ وجوہات ہیں کہ اس ملک میں ایک وزیر اعظم تو پھانسی چڑھ گیا مگر آج تک کس فوجی آمر کو کسی سیکریٹری قانون کو پھانسی دینے کی کبھی “جرأت” ہی نہ ہوئی (یا ضرورت ہی محسوس نہ ہوئ؟)- اگر جسٹس ارشاد حسن خان جیسے سیکریٹری قانون نہ ہوتے تو جنرل ضیاالحق کو اسمبلی توڑنے کا اختیار دینے والی آٹھویں ترمیم کون بناتا یا بعد میں بطور جج اسے جائز کون قرارداد دیتا؟ یا پھر جنرل مشرف کی بارہ اکتوبر ننانوے کی بغاوت والے عبوری آئینی ارشادات کو ارشاد حسن خان کے علاوہ کون جائز قرار دیتا؟ تو جناب اسی طرح سیکریٹری قانون جناب ثاقب نثار کے بغیر دو تہائی “عسکریت” والی نواز حکومت بھی کیسے چل سکتی تھی؟ یہ وہ دور تھا جب اہم فیصلوں کی جو دس بیس فیصد فائلیں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے کھسک کر وزیر اعظم کے ڈیسک پر آنا شروع ہوئی تو اس بیس فیصد میں سے بھی دس فیصدفائلوں پر سیکریٹری قانون نے پیپر ویٹ رکھنا شروع کر دیا-

اب دیکھیں نہ حکومت اتنی نالائق تھی کہ پی آئی اے کے چیئرمین کی تعیناتی کی فائل بھی کابینہ ڈویژن کی بجاۓسیکریٹری قانون ثاقب نثار کے پاس آگئی- اب ایئر لائن چلانے کی مہارت کی جانچ ایک وکیل اور جج سے بہتر کون کرتا- اتنی بلندی پر کمرہ عدالت میں بیٹھے اعلی عدالتوں کے جج حضرات اور کیسوں میں اونچی اونچی چھوڑنے والے وکیل کسی جہاز یا اس کے پائلٹ سے کم تو نہیں ہوتے- تو جناب ثاقب نثار نے ایئر لائن کی سربراہی کے امیدوار کرنل طاہر خیلی کو بلا کر ان کا ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جس میں وہ فیل ہو گئے – یوں ثاقب نثار نے نواز شریف کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد اصولوں کی خاطر استعفی کی صورت اتنے اہم عہدے کی قربانی بھی دے دی-

نواز شریف صاحب نے اس کے بعد ثاقب نثار صاحب سے اتنی “لمبی خار” رکھ لی کہ پھر انہیں لاہور ہائی کورٹ میں جج لگا کر ایک “فضول کام” میں ڈال دیا- ثاقب نثار صاحب تو سازش بھانپ گئے تھے مگر پھر خالد انور صاحب کا فون آ گیا کہ وہ بھی جلد وزارت چھوڑنے والے ہیں کیوں کہ آرمی چیف جنرل مشرف کے تیور ٹھیک نہیں لگتے اور ایسے میں وہ “ضمانت کے چکر میں اندر” نہیں ہونا چاہتے- ویسے بھی جب واپس وکالت ہی کرنی ہے تو لاہور ہائی کورٹ میں “اچھا جج” بھی ہونا چاہیئے – تو جناب ثاقب نثار صاحب کو چارو ناچار نواز شریف جیسے نااہل اور گاڈ فادر ٹائپ بندے کے دستخطوں سے جاری اپنا بطور ہائی کورٹ جج تقرر نامہ دل پر پتھر رکھ کر قبول کرنا پڑا-

نواز شریف جب تک تابع دار تھے اس وقت تک فوج عدلیہ اور بیوروکریسی ان کے ساتھ تھی مگر جونہی وہ خود کو ایک وزیر اعظم سمجھنے لگے یہ تمام ادارے “کمان کی چھڑی” کے ساتھ جھول گئے- اسی لئے جب جنرل مشرف کا بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کا مارشل لاء لگا تو زندگی میں ترقی کرنے کے مستند اصولوں کا پاس کرتے ہوۓ جنرل مشرف کے پی سی او پر حلف اٹھانا بھی ضروری ٹھہرا – وہ اس “اصولوں کی جنگ” میں اکیلے نہ تھے
“میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا”
یہی وہ کارواں تھا جو مشرف کی آئین سے تین نومبر دو ہزار سات کی غداری پر جب پھنس گیا تو میر کارواں نے ہوا کا رخ دیکھتے ہوۓ دوسرے ساتھیوں سمیت راستہ بدل کر آئین ، نوکری اور عزت بچا لی-

پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج کی بطور سربراہ کسٹم ٹریبونل سیکریٹری لاء کے دفتر میں آنے کی کہانی اس وقت کے حالات میں قابل فہم ہو سکتی ہے مگر کیا آج کوئی ہائی کورٹ کا جج سیکریٹری لاء کے دفتر میں یہ کہنے آۓ گا کہ جناب میں آپ کو اتنی دور سے محض یہ بتانے آیا ہوں کہ آپکی کوئی سفارش نہیں مانوں گا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ تو اس وقت ایسی ملاقات کو کیا سمجھا جاۓ؟ یہ تو خدا کی قسمیں اٹھا کر سیاسی ایجنڈا نہ ہونے اور عدالتی وقفے پر جانے سے پہلے
“کسی اور سے پوچھنے نہیں آپس میں مشورہ کرنے جا رہے ہیں”کے اعلان کرنے والی بات ہوئی ناں-

اب آتے ہیں اٹارنی جنرل چودھری فاروق کے انٹیلیجنس بیورو کے کیس کے لیئے پینتیس لاکھ روپے فیس مانگنے والی بات کی طرف- یہ درست ہے کہ اس دور میں اٹارنی جنرل آفس کے معاملات بدعنوانی کی حدوں کو چھوتے تھے- مگر کیا اس وقت کے وزیر اعظم کو اٹارنی جنرل کے اس فیس کے مطالبے سے تحریری طور پر آگاہ کیا گیا؟ ویسے بھی جناب ثاقب نثار صاحب اور انکے محسن وقت ایڈوکیٹ خالد انور نے حکومتی اداروں کے لئیے آج تک جو “مفت کیس” لڑے ہیں ایسے “مفت کیسوں” کیلئے کئی وکلاء آج بھی وزارت قانون کے باہر قطار بنا کر کھڑے ہوتے ہیں۔

بہر حال خالد انور صاحب نے ننانوے میں نواز شریف کی “بری طرز حکومت” پر “سمندر میں چھلانگ” لگانے کی جو خوشخبری جناب ثاقب نثار صاحب کو دی تھی وہ کسی نا معلوم وجہ سے فوجی بغاوت تک پوری نہ ہو سکی- ویسے بھی یہ بڑا اچھا موقعہ تھا نواز شریف کی غیر جمہوری اور بری طرز حکومت سے بدلہ لینے کا- اور جنرل مشرف کی “جمہوری اور بہترین طرز حکومت” میں خالد انور نے خوب وکالت کی اور جناب ثاقب نثار صاحب نے خوب عدالت سجائی- اڑھائی سال کی “حکومت” میں یہ نواز شریف کا “شاہانہ مزاج اور ایماندار لوگوں کی تذلیل” ہی تھی کہ جس نے جنرل مشرف جیسے “عاجزانہ مزاج اور ایماندار لوگوں کی عزت افزائی” کرنے والے شخص کو راستہ فراہم کیا اور جناب خالد انور اور معزز جج کو ضمیر کی آوازوں کے مطابق فیصلے کرنے کا “ماحول- اڑھائی سال میں سیاسی حکومت سے اکتا جانے والے آئندہ نو سال تک بڑے سکون سے وکالت اور عدالت میں “نام” کماتے رہے-سچ ھے کہ “اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں” اور اسی لیے وکالت اور عدالت کے دو چمکتے ستاروں نے جنرل مشرف کے دور میں ایسا کچھ نہیں کیا جو کرنے سے وہ کچھ ہو جاتا جو بقول ان کے نواز شریف دور میں ان کے ساتھ ہوا تھا-

ان سب باتوں کے باوجود کیا ایک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے تازہ ملاقات کے بعد اور مذکورہ واقعات کے بیس سال بعد ملک کے سب سے بڑے مقدمے میں ایک زیر ٹرائل ملزم، سابق وزیر اعظم اور اسکی حکمران جماعت کے ساتھ ایک چیف جسٹس کی پرانی رنجشوں کا یوں سر عام ذکر اور اس کی عدم تردید چیف جسٹس کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوال نہیں اٹھا رہا ؟ ان غیر تردید شدہ واقعات کی اشاعت کے بعد کیا چیف جسٹس اب نواز شریف اور حکمران جماعت سے متعلق کسی بھی مقدمے کی سماعت کا حق کھو نہیں چکے؟ معزز چیف جسٹس سے منسوب ان تلخ باتوں کے بعد کیا سپریم کورٹ اور ذیلی عدالتوں کے ججوں کو واضح پیغام نہیں دیا گیا کہ ن لیگ اور نواز شریف کو سانس بھی نہ لینے دیا جاۓ ؟ کیا الیکشن سے پہلے ایسے انٹرویو ، “آف دی ریکارڈ” گفتگو اور حتی کے سیاسی ریمارکس انتخابات سے قبل اداروں کی “منظم دھاندلی” کے زمرے میں نہیں آتی؟ کیا الیکشن کمیشن ایسے تمام اداروں اور انکے سربراہوں کو ان کے آئینی حلف اور ضابطہ اخلاق کے برخلاف انتخابات سے قبل ایسے انٹرویوز اور “آف دی ریکارڈ گفتگو” اور ریمارکس سے پرہیز کرنے کے راہنما اصول جاری نہیں کر سکتا؟ کیا آئین حلف اور ضابطوں کی ایسی خلاف ورزی کرنے والے آئین کی شق انیس میں درج تنقید سے تحفظ کے پیچھے چھپ سکتے ہیں؟ اسی طرح نیب کا ادارہ اور اسکے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال بھی چیف جسٹس سے ایسی تال ملا رہے ہیں جو تال دونوں معزز ججوں نے اٹلی کی ایک خاتون کو اپنے اپنے چیمبروں میں سو موٹو سماعتوں کے بعد انصاف دلوانے کیلئے ملائی تھی- یہ ایک الگ طویل داستان ھے جو میری فیس بک پر موجود ھے- سنگت پرانی ھے اور “بہت پرانا یارانہ لگتا ھے-“

قصہ مختصر یہ کہ آئینی اداروں اور ماتحت اداروں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی ذاتی یا اداراتی انا اور ایجنڈوں کی تسکین و تکمیل کیلیے بیس بیس سال پرانی ان رنجشوں اور بدعنوانیوں کو ان دا ریکارڈ یا آف دا ریکارڈ بطور جواز پیش کریں جن میں وہ بطور ادارہ یا فرد خود ایک خاموش یا متحرک فریق رہے ہیں- ہمارے ملک کا نظام “باجوہ ڈاکٹرائن” یا “ثاقب نثار ڈاکٹرائن” جیسی کسی مہم جوئی سے نہیں بلکہ جمہوری انتخابی عمل کے تسلسل سے درست ہو گا- کسی نے درست کہا کہ قوم کے مستقبل کا فیصلہ ایمپائر کی انگلی نے نہیں ووٹروں کے انگوٹھوں نے کرنا ھے- دست خاکی کے دستانہ سیاہ بے نقاب ہو چکے ہیں- اللہ پاکستان اور اس کے عوام کے مینڈیٹ کا حامی و ناصر ہو- آمین!!
(ختم شد)